امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات پر مظفرپور کے علماء وسماجی شخصیات کی جانب سے اظہار تعزیت

0

 

مظفر پور(عبدالخالق قاسمی)
مفکر اسلام حضرت امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب نوراللہ مرقدہ جنرل سکریٹری آ ل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اب اس دنیا میں نہیں رہے، اللّٰہ کو پیارے ہوگئے اناللہ وانا الیہ راجعون ان کے انتقال پر ملال پر مظفرپور کے شہر سے لیکر دیہات تک کے علماء،سماجی کارکنان اورعو ام افسردہ ہیں اور گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کررہے ہیں ،ان کے انتقال پر مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور کے شیخ الحدیث ورکن شوری دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا اشتیاق احمد صاحب قاسمی،جامع العلوم کے استاذ مفتی اقبال قاسمی،کمپنی باغ مسجد کے امام مولانا آ ل حسن ،خانقاہ نقشبندیہ مصراولیا، مظفرپور کے سجادہ نشیں حضرت مولانا مظفر عالم نقشبندی،اسٹار نیوز ٹوڈے کے بیور چیف مولانا عبد الخالق قاسمی،روزنامہ انقلاب کے نمائندہ سید باقر،امارت شرعیہ کے ضلع جو ائنٹ سکریٹری صبغتہ اللّٰہ رحمانی،مولانا بلال احمد رحمانی،مدرسہ احمدیہ کریمیہ مصراولیا کے ناظم حافظ نسیم احمد، الجامعتہ الشمیم مٹھن پورہ مظفرپور کے مہتمم مولانا اسلم رحمانی،جمعیتہ علماء ہند حلقہ اورائی کے جنرل سکریٹری قاری محمد زید،امارت شرعیہ اورائی کے صدر حاجی صبغتہ اللّٰہ وغیرہ نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا مدرسہ احمدیہ کریمیہ مصراولیا اورائی مظفرپور کے سرپرست حضرت مولانا مظفر عالم صاحب نقشبندی سجادہ نشیں خانقاہ نقشبندیہ مصراولیا نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی رحلت عالم اسلام بالخصوص ملت اسلامیہ ہند کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ ہندوستان کے مسلمان سنگین مسائل سے دو چار ہیں حضرت امیر شریعت کا سانحہ انتقال قیامت صغریٰ سے کم نہیں ہے،آ پ بالغ نظر،بلندنگاہ،روشن ضمیر، بیدار مغز،دوراندیش،جری،اور بیباک قائد تھے حکومت ہو یا میڈیا آ پ حق کہتے تھے اور اس پر جم جاتے تھے اور اس کے لیے نہ کسی کو خاطر میں لاتے تھے اور نہ کسی کی پرواہ کرتے تھے,ملک وملت کے باوزن اور باوقار ادارے کی ذمہ داری آ پ کے سر تھی،آ پ ملت اسلامیہ ہند کے سب سے مظبوط نمائندہ پلیٹ فارم آ ل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے فعال و متحرک جنرل سکریٹری، مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھاڑکھنڈ کے باوقار امیر شریعت ،عظیم مرکز روحانی خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں،ممتاز تعلیم گاہ جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست،رحمانی فاؤنڈیشن اور رحمانی 30/کے بانی وروح رواں،مولانا آ زاد فاؤنڈیشن دہلی کے وائس چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف دینی و عصری اداروں اور ملی تنظیموں کے سربراہ تھے-آ ج اتنابڑا غم مسلط ہو گیا امارت شرعیہ پر، مسلم پر سنل لاء بورڈ پر ،مدارس اسلامیہ پر ، عصری تعلیم گاہوں اور تنظیم ملت پر جس کو بھلانا بڑا مشکل ہے ، ان کی حیثیت ہر مشکلات میں ملت کے لیے مظبوط ڈھال کی تھی ،اللّٰہ تعالیٰ درجات کو بلند فرمائے اور ملت کو بہتر بدل عطاء فرمائے آمین-اسٹار نیوز ٹوڈے کے بیور چیف اور نوجوان صحافی مولانا عبد الخالق قاسمی نے کہاکہ حضرت امیر شریعت کا انتقال مسلمانوں کے لیے ایک عظیم المیہ ہے،امیر شریعت جیسی شخصیت صدیوں میں ہی پیدا ہوا کرتی ہے، امیر شریعت نے اپنی پوری زندگی ملک وملت کی تعمیر اور سماج کی اصلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی، افسوس کہ پریشان حال ملت ایک صاحب بصیرت اور مجاہد عالم دین کو کھودیا ہے حضرت امیر شریعت کے شاگرد اور امارت شرعیہ کے رکن مولانا بلال احمد رحمانی نے کہا کہ حضرت امیر شریعت کی حیثیت ملت کے لیے مہربان باپ کی تھی،وہ ہندوستانی مسلمانوں کی سربلندی اور تعمیر کے لیے آ خری سانس تک سر بکف رہے، انہوں نے ملت کو جینے کا باوقار سلیقہ اور مرنے کا بامراد جذبہ دیا،حافظ نسیم احمد ناظم مدرسہ احمدیہ کریمیہ مصراولیا نے کہا کہ حضرت امیر شریعت نے ساری زندگی اسلام کی آ بیاری ، ملت بیداری کوقوت اور سیاسی شعور کو حوصلہ بخشنے میں صرف کی،ریاستی پارشد انصاف منچ جناب خالد رحمانی نے کہا کہ تنظیم ملت، تعمیر قوم ، اصلاح نفس اور تعلیم و تربیت کی اشاعت آ پ کا محبوب مشغلہ تھا،مولانا اسلم رحمانی مہتمم الجامعتہ الشمیم مٹھن پورہ مظفر پور نے کہا مجاہدانہ بیباکی ، غیر معمولی قائدانہ صلاحیت اور اسلامی تشخص کی فکر حضرت امیر شریعت کی خصوصیت تھی، جمعیتہ علماء اورائی کے جنرل سیکرٹری قاری محمد زید نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آ پ کو گونا گوں صفات کا حامل بنایا تھا، آ پ زندہ دل اور آ پ صاحب کشف وکرامات بزرگ تھے،امارت شرعیہ اورائی کے صدر حاجی صبغتہ اللّٰہ نے کہا کہ حضرت امیر شریعت کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے،امارت شرعیہ ضلع مظفر پور کے نائب سکریٹری حافظ صبغتہ اللّٰہ رحمانی نے کہا کہ امیر شریعت اللّٰہ والے اور بافیض شخصیت کے مالک تھے،وہ آ خری سانس تک ملت کی سر بلندی کے لیے سر بکف رہے-ان کے علاوہ ماسٹر خواجہ سعد اللّٰہ،مولانا امتیاز،ماسٹر فخرعالم،مولانا سہیل اختر،مولانا طفیل اختر،مفتی انصار قاسمی،مولانا آ فتاب،مولانا محمد علی،مولانا فرحان وغیرہ نے بھی گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا- حضرت امیر شریعت کی رحلت سے مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور،مدرسہ محبوبیہ چین پور بنگرہ،مدرسہ احمدیہ کریمیہ مصراولیا اورائی مظفرپور،مدرسہ طیبہ منت نگر،مدرسہ رشیدیہ میڈیکل مظفرپور سمیت تمام مدارس کا ماحول سوگوار ہے،ختم قرآن اور ایصا ل ثواب کا سلسلہ جاری ہے اللّٰہ تعالیٰ درجات کو بلند فرمائے اور اعلیٰ علیین میں جگہ دے آمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.