امیر شریعت مولانا ولی رحمانی کا انتقال علمی دنیا کے لئے ناقابل تلافی نقصان:حافظ ناظم رحمانی

0

 

حضرت امیر شریعت علمی دنیا میں فکر قاسمی کے سچے ترجمان تھے:عبدالخالق قاسمی

امیر شریعت کے انتقال پر مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور میں قرآن خوانی کا اہتمام

مظفرپور(عبدالخالق قاسمی)ملک کے مشہور و معروف عالم دین امارت شرعیہ اور خانقاہ رحمانی مونگیر کے روح رواں ملک بھر میں پھیلے سینکڑوں مدارس و مکاتب کے سرپرست اعلی. آج مختصر علالت کے بعد مالک حقیقی سے جا ملے,مسلسل کئی روز سے بیمار چل رہے تھے,حضرت امیر شریعت کے انتقال کی خبر سن کر امت مسلمہ اضطرابی کیفت میں ہے,آپ موجودہ وقت میں ملک ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک آواز تھے,آپ کے سانحہ ارتحال پر ملک کے علمی,ادبی اور دینی حلقوں میں سخت صدمے کی لہر ہے,آج بتاریخ 3 اپریل,مورخہ 21 شعبان بروز سنیچر مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور مظفرپور میں حضرت امیر شریعت کی مغفرت اور ان کی روح کی تسکین کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور ایک دعائیہ نشست رکھی گئی, نشست سے خطاب کرتے ہوئے مدرسہ ھذا کے مہتمم حافظ ناظم رحمانی نے کہا کہ حضرت امیر شریعت مولانا ولی رحمانی نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم سے امت مسلمہ کی بدحالی اور تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لئے بیش بہا خدمات انجام دی ہیں,وہ ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ان کے انتقال سے علمی حلقہ میں جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کی بھرپائی بہت مشکل ہے,مرحوم ملت اسلامیہ کے درپیش مسائل کو اپنی بے بیباکی اور قوت ایمانی کے ذریعہ حل کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے,اس موقع پر مولانا عبدالخالق قاسمی نے ان کی موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ حضرت امیر شریعت علمی دنیا میں فکر قاسمی کے سچے ترجمان تھے,اور اپنی حق گوئی اور بیباکی میں ایک مثال تھے,انہوں نے پوری زندگی مسلمانوں کے مسائل اور ان کے اتحاد و اتفاق پر زور دیا ہے,ان کی رحلت سے بلا اختلاف سارے مسلمان سوگوار ہیں,منت اللہ رحمانی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ حضرت امیر شریعت نام تھا ایک جہد مسلسل کا آپ کا علمی. فلاحی,اصلاحی کام تاریخ کے اوراق میں آب زر سے لکھا جائیگا مولانا تقی احمد قاسمی نے کہا کہ ہم نے ایک باعزت شہرت یافتہ حق گو بیباک اور نڈر امیر شریعت کو کھودیا جس کا صدمہ برسوں ستائیگا,مولانا قاری بلال مظاہری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے بہترین رہنما اور اچھے قائد تھے آج پوری امت مسلمہ افسردہ اور نوحہ کناں ہیں,مولانا فضل اللہ ندوی,حافظ عبدالباری نے مشترکہ طور پر کہا کہ یہ سخت غم و اندوہ کا موقع ہیکہ امت مسلمہ کی ترجمانی کرنے والے امیر شریعت ہمارے درمیان سے جدا ہوگیے,ان کی وفات ایک تاریخ کا خاتمہ ہے,اس موقع پر مدرسہ طیبہ میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا,مولانا عبدالخالق قاسمی کی دعا پر مجلس کا اختتام عمل میں آیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.