یہ تم نے کیا کر دیا !!!!!!

0

 

 

سب پہلے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ بیٹی دی ہے تو تمام بیٹیوں کے نصیب بلند کر دے۔ آمین
ہم اس موضوع پر کچھ نہیں لکھنا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔کیونکہ دل بہت مایوس ہورہا تھا کہ یہ نوجوان نسل کہاں جارہی، کیوں دین سے دوری بنا رہی ہے؟
ہم نے دو مارچ کو ویڈیو دیکھی، اس کے بعد سے کئی مضامین ،تبصرے پڑھے اور ویڈیو بھی دیکھا۔ دل نہیں مانا اس لئے لکھنے بیٹھ گئے۔ خبروں کےمطابق عائشہ نامی لڑکی کا ویڈیو کافی تیزی سے وائرل ہوا ہے جس کے پیچھے کی کہانی نہایت ہی دل دہلا دینے والی ہے۔اللہ !!!!! ویڈیو میں نظر آرہی اس کی معصوم سی مسکراہٹ میں کتنے غم نہاں تھے۔
اخبارات کی رپورٹ کے مطابق احمد آباد کی رہنے والی لڑکی عائشہ کا نکاح 2018 میں عارف نامی لڑکے سے ہوا تھا۔ نکاح کے بعد سے ہی عائشہ کے سسرالی رشتہ دار اور اس کے شوہر اسے ٹارچر کرتے رہے اور جہیز کے متعلق طعنہ دیا کرتے تھے۔ 2019 میں ایک بار اپنی حد پار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے عائشہ کو اس کے میکے بھی چھوڑ دیا اور پیسوں کا مطالبہ کیا جسے لڑکی کے ماں باپ نے کسی طرح پورا کردیا۔ عائشہ کو دوبارہ اس کے سسرال واپس بھیج دیا گیا کہ آنے والی زندگی وہ چین و سکون کے ساتھ گزار سکے ، لیکن وقت کی ستم ظریفی اور جہیز کی طلب و حریص ابھی پوری نہ ہو پائی تھی۔اس کے سسرال والوں نے پھر سے جہیز کا مطالبہ شروع کر دیا اور عائشہ کے ساتھ پھر وہی رویہ دہرایا جانے لگا ۔ اس سے متعلق اب اور بھی بہت کچھ وجوہات دیکھنے اور سننے کومل رہی ہیں۔ اس بات میں کیا سچ کیا جھوٹ یہ تو صرف اللہ جانتا ہے اور دونوں کے گھر والے جانتے ہیں۔ عائشہ نےاپنے اوپر بڑھتے ہوئے ظلم، سسرال والوں کے ستم، ان کی طرف سے ہونے والی ہراسانی اور شوہر کی نا اتفاقی سے تنگ آکر آخر کار خودکشی کرلی۔ خودکشی سے پہلے اس نےاپنے والدین سے فون پرگفتگو کی اوراپنے حالات اور پریشانیوں کا ذکر کیا۔ روتے ہوئے اپنے ماں باپ سے کہا کہ میں خود کشی کرنے جارہی ہوں ۔ ماں باپ نے بہت روکا ،قسمیں دیں، اللہ رسول کا واسطہ دیا، یہاں تک کہ اس کو اپنے نام کا واسطہ بھی دیا کہ اس نام کا تو پاس رکھ۔۔۔۔۔ مگر اس نے ایک نہ سنی۔ تین سال کی محبت کا دکھ تیئس سال کی بے لوث محبت کی خوشیوں پر غالب آگئی۔۔۔۔ اوراس نے سابرمتی ندی کے کنارے پر بیٹھ کرایک ویڈیو بنا کر اپنی دلی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے الوداع کہا اور ندی میں کود کر اپنی جان دے دی۔
اس ویڈیو نے سب کے دل ودماغ پر گہرے نقوش چھوڑ دیئے۔ جاتے جاتے وہ اپنی باتوں سے ظالم سماج کی تصویر پیش کرنے کے ساتھ یہ بھی کہہ گئی کہ۔۔۔۔
’’ کیس ختم کردو ۔۔۔۔نہیں لڑنا۔۔۔ اپنوں سے لڑائی کیسی؟ پیار کرتے ہیں عارف سے۔۔۔۔ اسے پریشان تھوڑی کریں گے۔ پیار ایک طرفہ نہیں کرنا چاہئے۔ اور میرے بعد بکھیڑا مت کرنا۔ ۔۔۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ انسانوں کی شکل نہ دِکھائے۔ ‘‘
یقیناً یہ لڑکی کہیں نہ کہیں محبت کی کمی کا شکار تھی۔ سسرالی لالچ اور سماج کی بے حسی کا بھی شکار تھی۔۔۔۔۔۔ اب یہاں سمجھ نہیں آرہاکہ کس پر سب سے پہلے قلم اٹھایا جائے۔ جہیز پر ،خود کشی پر ،صبر پر یا محبت پر۔
عائشہ خود کشی کر کے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ کیا جان اتنی سستی تھی؟ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔ آج کل عائشہ کی خود کشی پر طرح طرح کے مضامین اور تبصرے لکھے جا رہیں ہیں۔ خود کشی کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ جہیز کوبھی بتایا جارہا ہے۔ جب ہم نے وہ ویڈیو دیکھی تو اس میں جہیز کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اخبارات کے رپورٹ کا مطابق ،والدین کی باتوں سے پتہ چلا ہے۔ اس کی وجہ سے اب کچھ لوگ تو جہیز کے مخالف ہوگئے ہیں کہ وہ جہیز لینے والوں کے خلاف کارروائی کی بات کر رہے ہیں تاکہ آئندہ کوئی دوسری عائشہ یہ قدم نہ اٹھائے۔ ہم نے رپورٹ میں پڑھا کہ دو سال سے عائشہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہ رہی تھی۔
اور ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ سماج میں رہنے والے آٹھ دن، پندرہ دن یا ایک مہینے تک اس موضوع کو لے کر بات کریں گے پھر بھول جائیں گے۔اس سماج کے لیے یہ سب وقتی باتیں ہیں۔ فرق ان کو پڑتا ہے جن کے بچوں کی جان جاتی ہے،ان کو یہ درد یہ کرب ، یہ تکلیف تا عمر رہتی ہے۔اور اس دکھ کا کوئی مداوا نہیں۔
ہمارے سماج میں زیادہ بگاڑ اس سوشل میڈیا نے پیداکیا ہے۔ زندوں کو تو سہارا دیتے نہیں، ہاں کسی کےمرنے بعد ہر کوئی کھڑا ہوجاتا ہے اپنی رائے دینے۔
خودکشی کرنا حرام ہے۔جو شخص جس طرح اپنے آپ کو نقصان پہنچا کر جان دے گا، قیامت تک وہ اپنے آپ کو اس طرح ختم کرتا رہے گا۔ زندگی اللہ کی طرف سے ہمارے پاس امانت ہے اور ہر بشر کو واپس لوٹنا ہے۔لوگ یہاں سے تنگ آکر خودکشی کر لیتے ہیں تو مرنے کے بعد کی زندگی سے بھاگ کر کہاں جائیں گے؟ عائشہ کو بھی پتہ تھا ،اس نے کہا بھی کہ مجھے جنت تو نہیں ملے گی۔ ویڈیو میں نظر آنے والی عائشہ کی باتیں سن کر لگتا تھا کہ وہ بہت ہمت ولی ہوگی۔ایسی با ہمت لڑکی ایسا قدم اٹھاتی ہے تو کہیں نہ وہ زیادہ ذہنی تناؤ میں رہی ہوگی۔یقیناً وہ ڈیپریشن میں تھی۔
اللہ رب العزت قرآن مجید میں جگہ جگہ فرماتا ہےکہ میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔ کاش وہ زندہ رہ کر یہ جنگ لڑتی۔ شوہر اس سے محبت نہیں کرتا تھا تو اس سے الگ ہوجاتی۔ اور اللہ اور اس کے رسول نے لڑکی کو خلع لینے کا حق دیا ہے۔۔۔۔مگر جان دے کروہ اپنے والدین کو ساری عمر کا دکھ دے گئی۔ کیا گیا اس لڑکے کا جو عائشہ سے محبت نہیں کرتا تھا۔کیوں اس بے حس انسان کے لئےاس نے اپنی جان دے دی؟ ماں باپ جو پال کر بچوں کر بڑا کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ کل یہ بچے ہمارا سہارا بنیں گے، جب اپنے جوان بچوں پر بوڑھے کانپتے ہاتھ مٹی ڈالتے ہیں تو کوئی اندازہ بھی کر سکتا ہے ان لمحات کا؟؟ یہ تو صرف وہی جانے جس پر گزرتی ہے اور کوئی نہیں جان سکتا۔ ہمارا معاشرہ اپاہج ہوچکا ہے۔آج معصوم بیٹیوں کے ساتھ یہ کیا ہو رہا۔ کیوں وہ جان دینے پر مجبور ہورہی ہیں؟
اب عائشہ کی ویڈیو شوشل میڈیا پر اتنی وائرل ہورہی کہ ہمیں ڈر ہے کہ اسے دیکھ کر دوسری بچیاں بھی ویڈیو بنا کر خود کشی نہ کر لیں۔ کیونکہ اچھائی بہت دیر سے اثر کرتی ہے اور برائی بہت جلد اثر کرتی ہے۔ خدا کے واسطے سوشل میڈیا پر جو تماشہ لگا رکھا ہے اسے بند کریں ورنہ کئی عائشیں سمندر یا ندی کی نذر ہو جائیں گی۔ کون ایسے حالات میں ان لڑکیوں کے درد کو سمجھے گا۔ کبھی قتل کی جارہی ہیں، کبھی جرائم کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔۔۔۔کہیں لٹ رہی ہیں ۔اب اس معاشرے کو بدلنا ہوگا۔۔۔۔ سب سے پہلے دین کی تعلیم دینی ہوگی۔۔۔نظریہ بدلنا ہوگا۔۔۔سوچ بدلنی ہوگی۔۔۔بچوں کو حالات سے لڑنا سکھانا ہوگا ، انہیں آگ سے کھیلنا سکھانا ہوگا ، انہیں ہر بار حالات سے لڑنا اور لڑ کر جیتنا سکھانا ہوگا۔۔۔۔ ایک دو بچوں کا نہیں پورے سماج کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔اپنے بچوں کے قریب ہوکر اور انہیں پلٹ کر وار کرنا سکھائیں۔۔۔۔۔سیدھی راہ پر چلنا اور حالات کے آگے ڈٹے رہنا سکھائیں۔ ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت دین اسلام کے طریقے سے کریں۔ انہیں اچھائی اور برائی کا فرق سمجھائیں، اور اب یہ ہم سب کا فرض ہے۔
عائشہ خودکشی کر کے اس دنیا سے تو چلی گی ۔۔۔۔اب وہاں سے کہاں جائے گی جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ پیارے بچو! سنبھل جاؤ۔ اپنے دین کا اور قرآن کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھو۔ صبر کا دامن مت چھوڑو۔اللہ رب العزت مسلم معاشرے کی حفاظت فرمائے اور خودکشی جیسی حرام موت سے بچائے۔اور صبر کا دامن تھامے رکھے۔آمین ۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر،ممبئی
ایڈیٹر، گوشۂ خواتین و اطفال، اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر، گوشۂ خواتین و اطفال ،ہندوستان اردو
ایڈیٹر ،گوشۂ خواتین و اطفال، نوائے ملت
9870971871

Leave A Reply

Your email address will not be published.