الیکشن کا اعلان عوام پریشان 

0
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے ۔ یہاں 27 مارچ سے 29 اپریل تک ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ 18 کروڑ 60 لاکھ رائے دہندگان کے ذریعہ منتخب کئے گئے 824 ممبران اسمبلی کی 3 مئی کو تقرری ہوگی ۔ یہ الگ بات ہے کہ مرکز سے لے کر ریاستوں تک میں برسوں سے خالی پڑی نوکریوں پر تقرری نہیں ہو پا رہی ہے ۔ جن ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں وہاں بھی آسامیاں خالی پڑی ہیں ۔ ریاستیں قرض کے بوجھ سے دبی جا رہی ہیں ۔ ان کے پاس خالی جگہوں کو بھرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں ۔ عوام مہنگائی کو لے کر پریشان ہیں، دو جون کی روٹی جٹانا مشکل ہو رہا ہے ۔ مہنگائی پر سینا پیٹنے والے یا تو خاموش ہیں یا پھر بڑی بے شرمی سے یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ راشٹر وادی حکومت کے لئے اتنا تو برداشت کرنا ہی پڑے گا ۔ راشٹر واد کی آڑ میں ملک کے اثاثوں کی لوٹ ہو رہی ہے ۔ 14 کروڑ کسان تین نئے زرعی قوانین کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں ۔ 11 کروڑ ڈگری ہولڈر نوجوان بے روزگار گھوم رہے ہیں ۔ یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کس طرح کی تعلیم اس ملک میں دی جا رہی ہے ۔ 8 کروڑ کاروباری جی ایس ٹی کو لے کر پریشان ہیں ۔ وہ ملک گیر ہڑتال بھی کر چکے ہیں ۔ مگر جمہوریت کو جینا ہے تو چناؤ تو وقت پر کرانا ہی ہوگا ۔
سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت کا مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، کاروباریوں کی پریشانی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تکلیفوں سے کوئی سروکار ہے یا نہیں ۔ کیا انتخابی ہار جیت یا الیکشن کے نتائج پر ان ایشوز کا کوئی اثر پڑے گا یا نہیں ۔ یا بی جے پی نے کوئی ایسی تکنیک ایجاد کر لی ہے کہ ملک کے سلگتے ہوئے مسائل کا بھی اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ الیکشن جیت جاتی ہے ۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن مارچ اور اپریل کا مہینہ الیکشن میں گزرنے والا ہے ۔ چناؤ کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد کوئی وزیر اعلیٰ بڑا فیصلہ نہیں لے سکتا ۔ مگر ان ریاستوں میں نوٹو کا فلو اور تشہیر کے ذریعہ جو کام ملے گا وہی اس ملک کا بڑا روزگار ہوگا ۔ کیوں کہ موجودہ حکومت کے پاس نئے روزگار پیدا کرنے کا نہ کوئی منصوبہ ہے نہ فکر ۔ خود وزیراعظم کے اعلان انتخابات سے متاثر ہوتے ہیں ۔ پچھلے سال وزیراعظم 22 مئی کو مغربی بنگال گئے تھے ۔ اس بار وہ 7 فروری اور 22 فروری کو دو مرتبہ آسام، مغربی بنگال کا دورہ کر چکے ہیں ۔ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا اور وزیر داخلہ امت شاہ ہر جگہ گئے ہیں ۔ پارٹی صدر جائیں تو جائیں لیکن ہر چھوٹے بڑے الیکشن میں پچاس وزیروں کی پوری کابینہ جس میں وزیراعظم سب سے آگے کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ حکومت چناؤ لڑنے، جیتنے اور اقتدار میں بنے رہنے کو ترجیح دیتی ہے ۔ عوام کے مسائل اور ان کی پریشانیاں حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں ۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی کو انتخاب جتانے، عوام کو بھٹکانے اور مدوں کو دفن کرنے میں پارٹی صدر ہی نہیں کابینی وزیر بھی اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ اس کا نمونہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ پڈوچیری میں دل بدل اور کرپشن انتخابی مدا بننے کا امکان ہے ۔ کیرالہ میں مذہب کے چھونک کے ساتھ سیاسی کارکنان کے قتل اور قانون انتظامیہ کی ناکامی کو ابھارا جا سکتا ہے ۔ تمل ناڈو میں مقابلہ ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے بیچ ہوگا ۔ وہاں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ آسام میں الیکشن اسمی اور غیر اسمی کے ارد گرد لڑا جا سکتا ہے ۔ وہاں سی اے اے کا مدا دوبارہ اٹھ رہا ہے ۔ آسام کے لوگ سمجھ چکے ہیں کہ اسم سمجھوتہ کی دفعہ 6 میں مقامی لوگوں کے حقوق کی ذاتی، ماٹی اور بیٹی یعنی پشتینی زمین کی بنیاد پر حفاظت کا جو التزام کیا گیا تھا بی جے پی گزشتہ پانچ سالوں میں اسے لاگو نہیں کر پائی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ کیا سب چیزیں سیاست کے لئے ہوتی ہیں، نعرے لگانے کے لئے ہوتی ہیں ۔
جن پانچ ریاستوں میں الیکشن ہو رہا ہے ان میں سب سے اہم مغربی بنگال ہے ۔ بنگال سے پورے نارتھ ایسٹ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ اس ریاست کی حقیقت یہ ہے کہ اس نے اپنے طور پر جدوجہد اور خوابوں کو جیا ہے ۔ 67-1969 میں وام پنتھی اور ماؤ وادیوں نے کانگریس کے سدھارتھ شنکر رے کو ہرا کر بنگال پر اپنا جھنڈا لہرایا تھا ۔ اس وقت لیفٹ کی جیت کو نظریات کی لڑائی کہا گیا تھا ۔ جیوتی باسو اس کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے اور لمبے عرصہ تک وام پنتھی وہاں اقتدار میں رہے ۔ ممتا بنرجی نے طبقاتی جدوجہد کے ساتھ نئے خواب کی نندی گرام، سنگور اور لال گڑھ سے جو دھارا بہائی اس نے اقتدار کو بدل دیا ۔ وام پنتھی حکومت سے باہر ہو گئے اور ممتا بنرجی پہلی مرتبہ2011 میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ بن گئیں ۔ اس وقت انہیں 294 سیٹوں میں سے 39 فیصد ووٹ کے ساتھ 184 سیٹ پر کامیابی ملی تھی ۔ 2016 میں 45 فیصد ووٹ اور 211 سیٹ پر جیت حاصل ہوئی تھی ۔ جبکہ بی جے پی کو تین سیٹ اور 10.16 فیصد ووٹ ملے تھے ۔ 2014 میں بی جے پی کی ملک میں آندھی چل رہی تھی لیکن مغربی بنگال میں اسے صرف دو سیٹ پر اطمینان کرنا پڑا تھا ۔ مگر اس کے ووٹ بڑھ کر 17 فیصد ہو گئے تھے ۔ 2019 کے عام انتخابات میں ٹی ایم سی کو 22 اور بی جے پی کو 18 سیٹوں پر کامیابی ملی ۔ پارلیمانی انتخاب میں اس کا ووٹ 40.2 فیصد رہا ۔ جو ٹی ایم سی سے صرف 3.1 فیصد کم ہے ۔ اس صورتحال نے بی جے پی کا حوصلہ بلند کر دیا ۔ اب وہ بنگال میں کمل کھلانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ وہ ٹی ایم سی کو ہر سطح پر چنوتی دے رہی ہے ۔
بنگال کو جیتنے کے لئے بی جے پی فرقہ وارانہ نفرت کی لکیر کھینچ کر ووٹوں کو پولرائز کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس کے لئے سونار بنگلہ اور جے شری رام کا نعرہ لگایا جا رہا ہے ۔ جے شری رام کا نعرہ مذہبی نہیں بلکہ پوری طرح سیاسی ہے ۔ مگر یہ سچائی ہے کہ مسلمان اس نعرے کو نہیں لگائیں گے ۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی30 فیصد ہے ۔ جسے بی جے پی ہندوؤں کے لئے خطرہ کے طور پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بنگال کے ہندو اور مسلمانوں کا رہن سہن، کھان پان ،زبان اور لباس اتنی یکسانیت ہے کہ انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ 294 سیٹوں میں سے 16 سیٹ ایسی ہیں جہاں 40 سے 50 فیصد مسلم آبادی ہے ۔ 33 سیٹوں پر مسلمانوں کی تعداد30 سے40 فیصد ہے ۔ 50 سیٹوں پر20 سے30 اور15 سے18 سیٹوں پر مسلمانوں کے ووٹ 15 سے20 فیصد ہیں ۔ یعنی 110 سیٹیں ایسی ہیں جو مسلم طبقہ متاثر کرتا ہے ۔ بنگال کا مسلمان کھیتی اور مزدوری سے بھی جڑا ہے ۔ یہاں کا مسلمان چھوٹا اور درمیان کسان ہے، لینڈ لارڈ بھی ہیں اس فرق کو کسی نے کم نہیں کیا بلکہ سیاسی جماعتوں نے اسی فرق کے ساتھ مسلم ووٹوں کو سادھنے کی کوشش کی ہے ۔ بی جے پی ان ووٹوں کو بے اثر کرنا چاہتی ہے ۔ اگر اسد الدین اویسی انتخابی میدان میں اترتے ہیں تو بی جے پی کا کام آسان ہو سکتا ہے ۔
ہندو آبادی کی بڑی تعداد کھیتی پر منحصر ہے ۔ قریب 71،60،000 خاندان ایسے ہیں جو زراعت سے جڑے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے دس کروڑ سے کچھ کم آبادی والی ریاست میں ان کی تعداد ساڑھے تین سے چار کروڑ ہے ۔ سب سے زیادہ فصل پیدا کرنے والے بنگال کے کسان کی حالت بھی اچھی نہیں ہے ۔ سوال ہے جب ملک میں کسانوں کا آندولن چل رہا ہے ۔ جب کاروباری ہڑتال پر آ گیا ہے، جب بے روزگاری اور مہنگائی اپنی انتہا پر ہے ۔ تو بنگال کا ووٹر کیا فیصلہ لے گا ۔ یہ وہی بنگال ہے جہاں کے لوگ ٹرام کے کرایہ میں دس بیس پیسے کے اضافہ پر مہنگائی کے خلاف بڑے بڑے احتجاج کر چکے ہیں ۔ یہاں مزدوروں کی بھی بڑی تعداد ہے جو پورے ملک میں جاتے ہیں ۔ اس لئے بی جے پی مغربی بنگال کی سیاست کو ہندو مسلمان میں بھٹکانا چاہتی ہے ۔ ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ وہاں کے لوگ جے شری رام کے نعرہ میں سمٹ کر رہ جائیں گے یا اپنے اصل مسائل کو دھیان میں رکھ کر ووٹ کریں گے ۔ بنگال کا الیکشن آئندہ ہونے والے ریاستی انتخابات کا ایجنڈہ طے کرے گا ۔ یہ اب بنگال کے ووٹروں کی سمجھ پر منحصر ہے کہ وہ عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کا باعث بنیں گے یا الیکشن جیتنے کو جمہوریت سمجھنے والوں کو ناکام کرکے عام آدمی کو راحت پہنچائیں گے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.