کورونا وائرس کے سبب چھٹیوں میں ہورہے تعلیمی نقصان کی بھرپائی کے لیے خصوصی کوشش اول تا چہارم کے تمام طلبہ کو دیا گیا گلزارِ اردو ورک بُک

0 39
دیولگاوں مہئ ضلع بلڈانہ
ذوالقرنین احمد
کورونا وائرس کی وجہ سے اسکولی بچوں کو 31 مارچ تک چھٹی دی گئی ہے اس لیے ان ایام میں بچوں کو اکتسابی عمل سے مربوط رکھنے کے لیے بلڈانہ ضلع پریشد کی اردو اعلیٰ تحتانوی اسکول،  دیولگاؤں مہی نے سبھی جماعتوں کے بچوں کو چھٹیوں کا ہوم ورک دینے کے ساتھ خصوصاََ اول تا چہارم کے بچوں کے لیے خصوصی سرگرمی کا انعقاد کیا۔ چھٹیوں کے اعلان کے وقت حاضر اول تا چہارم کے سبھی بچوں کو اسکول کی جانب سے ایک ایک عدد گلزار اردو ورک بُک، پینسل اور ربر دیا گیا اور دس دس بچوں کے گروپ بناکر ہر گروپ کے لیے جماعت ہفتم و ہشتم کے طلبہ میں سے ایک ایک نگراں مقرر کیا گیاجو اس کے گھر کے اطراف کے ان دس بچوں کے ورک بُک کو مکمل کرنے کے کام کی نگرانی کرے گا۔ گلزار اردو ورک بک میں روزانہ کے اسباق ترتیب دیے گئے ہیں جن میں سے روزانہ طالب علم ایک دن کا سبق لکھ کر پورا کرے گا۔ یہ عمل 31 مارچ کے بعد بھی ورک بک مکمل ہونے تک جاری رہے گا۔اس میں طلبہ کی پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی بھی مشق ہوگی۔ جو طلبہ چھٹیوں کے اعلان کے وقت اسکول میں حاضر نہیں تھے ان کے گھر جاکر انھیں گلزار اردو ورک بک اور دیگر وسائل دیے گئے اور ہر دس کے گروپ پراسی محلے کا ایک نگراں طالب علم مقرر کیا گیا، نیز سرپرستوں سے بات کرکے انھیں روزانہ ورک بک بھرنے کا طریقہ سمجھایا گیا اور انھیں بچے کا ورک بک روزانہ مکمل کروانے کی گزارش کی گئی۔ فی الحال اساتذہ اپنی اپنی جماعت کے طلبہ سے بذریعہ موبائل فون رابطے میں ہیں۔اس سرگرمی میں خصوصاََ جماعت اول کی معلمہ حمیرہ باجی،  جماعت دوم کی معلمہ صباحت باجی،  جماعت سوم کے معلم شیخ افسر سر،  جماعت چہارم کی معلمہ سعیدہ باجی کے علاوہ جناب ریاض احمد سر،  جناب شیخ امین سر،  جناب لحاظ احمد سر، جناب وسیم دیشمکھ سر، جناب عبدالرحمٰن سر نیز ہفتم و ہشتم کے نگراں طلبہ و اسکولی انتظامیہ کمیٹی کے صدر سید سعید، نائب صدر فیروز خان و تمام اراکین اور سرپرستوں کا تعاون رہا۔ صدر مدرس شیخ ضمیر رضا نے امید ظاہر کی کہ  ان شاء اللہ اس سرگرمی سے طلبہ کے چھٹیوں سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی ہوگی نیز طلبہ میں پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کے ساتھ یہ سرگرمی خوش خطی میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.