ویلنٹائن ڈے

0

 

 

صبح کی چائے کے ساتھ میں اخبار کے مطالعے میں مصروف تھا. تبھی خوشبوؤں کے جھونکے سے فضا معطر سی ہوگئی. میں نے چونک کر سر اٹھایا تو دیکھا میرا پوتا جواد سرخ گلابوں کے کئی بوکے اپنے ہاتھوں میں سنبھالے کھڑا تھا. اس کے چہرے پہ عجیب سی چمک اور لبوں پر مسکراہٹ تھی. وہ کافی خوشگوار موڈ میں تھا. میں نے بھی مسکراتے ہوئے پوچھا
” کیا بات ہے بیٹا ؟ بڑے خوش لگ رہے ہو ؟ اور یہ ڈھیر سارے بوکے کیوں لائے ہو ؟ ”
میری بات سنکر وہ حیرت سے کہنے لگا. ” ارے دادو ، آپکو پتہ نہیں آج کونسا دن ہے ؟”
” کیوں ایسی کیا خاص بات ہے ؟ ایسا کونسا اہم دن ہے ؟ ” میں نے لاعلمی کا اظہار کیا.
” آج 14/ فبروری ہے. یعنی ویلنٹائن ڈے – یوم عاشقاں ”
جواد کی وضاحت پر حیران ہونے کی باری میری تھی. واقعی مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ زمانہ اتنی ترقی کرچکا ہے کہ اب اظہار محبت کے لئے بھی باقاعدہ ایک دن کا تعین کر دیا گیا ہے.! ہم نے تو یوم آزادی ، یوم جمہوریہ ، یوم اطفال وغیرہ مناتے ہوئے دیکھا تھا. اب یوم عاشقاں بھی منایا جارہا ہے ، یہ آج ہی سنا تھا!
” یہ بوکے کیوں لائے ہو ؟ ” میں نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا. ان کی موجودگی مجھے پریشان کر رہی تھی. ” دادو ، آپ تو کچھ جانتے نہیں – ویلنٹائن ڈے کا مطلب ہے ” اظہارِ محبت” اور محبت کے اظہار کے لئے ان حسین گلابوں کا سہارا لیا جاتا ہے. یہ گلاب ہی تو محبت بھرے دلوں کے جذبات کی خوبصورتی سے ترجمانی کرسکتے ہیں ” اسے میری ناقص معلومات پر شاید افسوس ہورہا تھا. اس نے تفصیل سے سمجھایا. لیکن میں پھر بھی سمجھ نہیں پارہا تھا.
” بیٹا! تمہیں تو ایک لڑکی پسند ہوگی. کیا یہ سارے بوکے اسی کو دو گے ؟ ”
"افوہ دادو ، آپ بھی نا بس سوال پہ سوال کرتے رہیں گے. اس بار وہ کچھ لاڈ سے میرے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہہ رہا تھا. ” مجھے اپنی کئی گرل فرینڈز اچھی لگتی ہیں. میں ان سبھی کو ان پھولوں کا نذرانہ پیش کرونگا. ان ڈھیر ساری لڑکیوں میں سے کوئی ایک لڑکی تو میرے یہ پھول قبول کرے گی.! میں ٹرائی کر کے دیکھوں گا. دیکھیں ، کس لڑکی کی قسمت میں مجھ جیسے ڈیشنگ بندے کی گرل فرینڈ بننا لکھا ہوگا. ” وہ اتراتا ہوا تیار ہونے اپنے کمرے میں چلا گیا اور میں حیرت واستعجاب کے سمندر میں غرق ہوگیا.
میری تو عقل دنگ تھی یہ سن کر کے محبت پانے کے لئے ٹرائی بھی کیا جاتا ہے! وہ بھی یوں کھلے عام بغیر کسی ہچکچاہٹ کے.! واقعی زمانہ بدل گیا ہے اور محبت کرنے کے انداز بھی بدل گئے ہیں.!!! میرے دل میں ایک ٹیس ابھری ، برسوں پرانی یاد نے انگڑائی لی اور نگاہوں کے سامنے وہ معصوم سی ، بھولی بھالی لڑکی کا عکس ابھر آیا. وہ چہرہ جو 50 برس بیت جانے کے بعد آج بھی دل کی نہاں خانہ میں محفوظ ہے. ایک بیش قیمتی خزانے کی مانند ، ان گزرے برسوں کے نشیب وفراز بھی اسے دل سے مٹا نہ سکے.
. گل بانو میری پھوپی زاد بہن تھی. بچپن ساتھ کھیلتے ، لڑتے جھگڑتے بیتا. لیکن جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ہمہارے درمیان حجاب کی دیواریں کھڑی یوگئیں. ہم ایکدوسرے سے پہلے کی طرح بے تکلفی سے بات نہیں کر پاتے. وہ میری نگاہوں میں چھپے محبت کے مفہوم سے آشنا تھی اور اس کے چہرے پہ بکھری حیا کی سرخی ، دبا دبا ساتبسم اور جھکی جھکی نظریں میرے لئے تسکین کا باعث تھیں. بس یہی ہمہارا اظہار تھا اور اقرار بھی. میں اسی خمار میں کھویا رہتا اور اس حقیقت سے بے خبر کہ ہمہارے درمیان بلندی اور پستی کی ایسی خلیج حائل تھی جسے پاٹنا میرے لئے ممکن نہ تھا. میری اس بے خبری نے میرے دل کو گل بانو کا تمنائی تو بنا دیا لیکن میں اسے حاصل نہ کر سکا. پھوپی کا بیاہ ایک زمیندار گھرانے میں ہوا تھا. وہ لوگ کافی متمول تھے. جبکہ میرے بابا ایک اسکول میں مدرس تھے. اور میں ابھی زیرِ تعلیم تھا. ہمہاری حیثیتوں میں زمین آسمان کا فرق تھا گل بانو کے لئے کئی دولت مند گھرانوں سے رشتے آرہے تھے. پھوپا نے اپنے ایک دوست کے بیٹے سے اس کا رشتہ طئے کردیا. لڑکا لندن سے بیرسٹر کی ڈگری لے کر لوٹا تھا اور اپنے والد کی بے پناہ دولت و جائیداد کا تنہا وارث تھا. اس کا بیاہ ہوگیا. اور میں خاموشی سے دیکھتا رہ گیا. ہمہاری محبت ہمہارے دلوں میں ہی دبی رہ گئی. یم نے یوں وفاکی پاسداری کی کہ کبھی ایکدوسرے کا نام تک اپنی زبانوں پہ نہ لایا. پھر میری بھی شادی ہوگئی. ساری زندگی اپنی شریک حیات کے ساتھ ایمانداری سے پورے حققوق وفرائض نبھاتے ہوئے گزاری. لیکن پھر بھی دل میں ایک کسک سی رہ گئی.
آج وہ بھولی بسری کہانی پھر یاد آگئی. اس زمانے میں محبت کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا. اسی لئے اس کی پردہ پوشی کی جاتی تھی. ایک عظیم گناہ تصور کی جاتی تھی. شرم ولحاظ کے سبب بے شمار پاکیزہ محبتیں دلوں میں ہی دفن ہوجاتی تھیں اور آج محبت فیشن بن گئی ہے. اور اسے عام کرنا باعث فخر سمجھا جارہا ہے.
میرا پوتا جواد انجینئرنگ کا اسٹوڈینٹ تھا. خوبرو ، اسمارٹ اور دل پھینک بھی ، بے شمار لڑکیوں سے اس کی دوستی تھی. میرا حد درجہ لاڈلا تھا اور اسی وجہ سے مجھ سے کافی بےتکلف تھا. اپنی ہر بات وہ مجھے ضرور بتاتا تھا. لیکن آج اس کی باتوں نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا.
ہمہاری نسلیں یہ کس راہ پر چل پڑی ہیں ؟ ہمہاری مشرقی تہذیب وروایات کی جڑیں کتنی کھوکھلی ہوچکی ہیں؟ مغربی تہذیب کی اندھا دھند تقلید انہیں بے راہ روی کے اندھیروں میں غرق کر رہی ہے. محبت جیسا پاکیزہ جذبہ ایک کھیل بن چکا ہے جسے نوجوان لڑکے لڑکیاں دل بہلانے کے لئے کھیل رہے ہیں. فیشن کی طرح محبوب بدلنے والے یہ لوگ محبت کے تقدس کو بدنام کر رہے ہیں . محبت کرنا ان کے بس کی بات ہی نہیں.! محبت تو دل والے کرتے ہیں. ان کے سینوں میں بھلا دل ہے کہاں ؟ یہ تو محبت کے مفہوم سے ہی نا آشنا ہیں. محبت میں تو محبوب کا نام بھی زبان پر نہیں لایا جاتا. مٹ جانے ، فنا ہوجانے کا نام محبت ہے. یہ محبت کے نام پر ایکدوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں. باقاعدہ ایک مخصوص دن کسی جشن ، کسی تہوار کی طرح منائی جارہی محبت کو محبت کہنا بھی محبت کی توہین ہے. بقول کسی شاعر کے…..
” محبت کے لئے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں
یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پہ گایا نہیں جاتا ”
رات دیر گئے جواد گھر لوٹا تو کافی مایوس سا لگ رہا تھا. چہرے کی وہ چمک مفقود تھی بلکہ ناکامی کی تحریر صاف عیاں تھی. تھکا تھکا سا وہ صوفے پر بیٹھ گیا.
” کیا ہوا بیٹا؟ ” بڑے اداس لگ رہے ہو ، کیا بات ہے ؟ اور ہاں ان گلابوں کا کیا ہوا ؟ ” میں نے پرتجسس لہجے میں پوچھا.
” کیا بتاؤں دادو ، میں لیٹ ہوگیا. مجھ سے پہلے ہی دوسرے لڑکوں نے بازی مار لی. میرے پہنچنے تک سبھی لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈس سیلکٹ کر چکی تھیں. میری تو ساری محنت بے کار ہوگئی .” وہ سخت مایوس اور دل گرفتہ سا لگ رہاتھا.
. اور میرے لبوں پر ایک استہزائیہ مسکراہٹ دوڑ گئی –

*رخسانہ نازنین*
*بیدر*
*کرناٹک*

Leave A Reply

Your email address will not be published.