کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر

0 62

تحریر : تیمور حسن
کورونا وائرس ایسا موذی مرض ہے  جو اب تک دنیا بھر میں متعدد زندگیوں کو لقمہ اجل بنانے کے بعد پاکستان میں بھی اپنے اثرات مرتب کر رہا ہے دنیا میں وائرس کے روک تھام اور بچاؤ کے لیے ہنگامی صورتحال نفاز ہے کئی ممالک میں نظامِ زندگی بوری طرح متاثر ہے معاشی سرگرمیاں کے ساتھ روز مرہ کے کام سرانجام دینا بھی ممکن نہیں رہا اگر بات پاکستان کی جائے تو حکومت کی جانب سے وسائل کی حدود میں رہ کر عملی اقدامات دیکھنے کو ملتے ہیں جس میں میڈیکل ایمرجنسی، دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے خوف کی کیفیت کے پیشِ نظر وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا جس میں وسائل کی کمی موجودہ حالات کے بارے میں ریاستی احکامات  اور صورت حال کی سنگینی پر بات ہوئی اگر دیکھا جائے تو جدید دور میں زرائع ابلاغ کے منفی اثرات سے ہر گز منہ نہیں پھرا جا سکتا جس کی وجہ سے سوشل میڈیا کی دنیا میں بہت سی من گھڑت معلومات گردش کرتی دکھائی دیتی ہیں جس کو عوام فلاح فریضہ سمجھ کر شئیر کرہی ہوتی ہے ایک  اچھے شہری ہونے کے ناطے ہم سب پر اجتماعی زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معلومات کی صداقت اور نوعیت کو ضرور پرکھ لیں کہ اس میں پروپیگنڈہ اور معلومات کی صداقت کا تناسب کتنا ہے کورونا وائرس کے حوالے سے مستند ماہرین اور سرکاری سطح پر کیے جانے اعلانات و معلومات کو ہی ترجیح دیں غیر ضروری بحث اور فلاسفی سے مکمل اجتناب کیا جائے ہم سب کی مزہبی اور سماجی زمہ داری بنتی ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد سے احساسِ ہمدردی کا اظہار کریں ہوسکے تو مریض کو بار بار احساس دلایا جائے کہ وہ جلد صحتیاب ہو گا نفسیاتی طور پر موجودہ کیفیت سے نکالنے کی کوشش کی جائے بہترین کونسلنگ کے ساتھ ساتھ میڈیکل ٹریٹمنٹ پر خصوصی توجہ دیں
کرونا وائرس سے متعلق مفید معلومات کا تبادلہ، آگاہی مہم میں دیگر افراد کی شمولیت یقینی بنائیں گھریلو سطح پر ورد وظائف اور گناہوں سے استغفار کا اہتمام خصوصی طور پر ہو مستقبل قریب میں یہ وبائی مرض کیا صورت اختیار کرتا ہے اس کے بارے میں رائے قائم کرنا ممکن نہیں لیکن
فی الوقت بہت کچھ واضح ہو گیا ہے جس کے لیے سوسائٹی کے پڑھ لکھے طبقے کو متحرک ہو کر اپنا کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے بحیثیت مسلمان ہم سب کا ایمان ہے کہ ایک نا ایک دن ہمیں اس دنیا سے رخصت لینی ہے پر معاشرتی سرگرمیوں میں اپنی عقلی اقدامات کا حصہ ڈالنا بھی مزہبی فریضہ ہے ہم سب کو لسانی، مزہبی اور طبقاتی تعصب سے بالاتر ہو کر یکجان ہونے کی ضرورت ہے تاکہ اصل معنوں میں انسانیت کی خدمت ہو سکے اس حوالے سے باطل متحرک قوتوں کو شکست دے کر پاکستان سے وفاداری کا ثبوت پیش کریں پاک پروردگار سب کو زمینی آفات سے محفوظ رکھے اور پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رکھے آمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.