نت نئے فتنوں کا شیوع اسباب و سد باب

0

عبدالرشید طلحہ نعمانی

یہ دور فتنوں کا دور ہے ،ہر سمت سے مختلف فتنوں کی یلغار ہے،آج ایک طرف جہاں انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے الحاد اور لادینیت کی شورشیں عروج پرہیں ،اشکالات اور وساوس پیدا کرکے اسلام کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہورہے ہیں ،مسلمانوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کرکے اسلام بیزار کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں ،وہیں دوسری طرف میدان عمل میں باطل فرقے اور گم راہ جماعتیں پوری تن دہی اورمستعدی کے ساتھ کفر و الحاد کے جال بچھا رہی ہیں ،نئی نسل کو راہ حق سے برگشہ کررہی ہیں اور ملت کے متاع دین وایمان پر ڈاکے ڈال رہی ہیں ۔ ماضی قریب کے معروف عالم دین،مایہ ناز محقق و مصنف،فرق ضالہ باطلہ کے جرءت مندمتعاقب حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید ;231; انہی ایمان سوزفتنوں سے متعلق ارقام فرماتے ہیں :’’دورِ حاضر کو سائنسی اور مادی اعتبار سے لاکھ ترقی یافتہ کہہ لیجیے;234;لیکن اخلاقی اقدار،روحانی بصیرت، ایمانی جوہر کی پامالی کے لحاظ سے یہ انسانیت کا بدترین دورِ انحطاط ہے ۔ مکر وفن، دغا وفریب، شر وفساد، لہو ولعب، کفر ونفاق اور بے مروّتی ودناءت کا جو طوفان ہمارے گرد وپیش برپا ہے، اس نے سفینہَ انسانیت کے لیے سنگین خطرہ پیدا کردیا ہے ۔ خلیفہَ ارضی (بنی نوع انسان) کی فتنہ سامانیوں سے زمین لرز رہی ہے اور بحر و بر، جبل و دشت اور وحوش و طیور ’’الامان والحفیظ!‘‘ کی صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں ، انسانیت پر نزع کا عالم طاری ہے،اس کی نبضیں ڈوب رہی ہیں ، لمحہ بہ لمحہ اس جاں بلب مریض کی حالت متغیر ہوتی جارہی ہے، یہ دیکھ کر اہلِ بصیرت کایہ احساس قوی ہوتا جارہاہے کہ شاید اس عالم کی بساط لپیٹ دینے کا وقت زیادہ دور نہیں ‘‘ ۔ (عصرِ حاضرحدیث ِنبوی کے آئینے میں ،ص:9)

زیرنظر مضمون میں اختصار کے ساتھ میدان عمل میں سرگرم دو فتنوں کے خدو خال کو نمایاں کرنا،ان کی حقیقت کو اجاگر کرنا اور ان کے گم راہ کن افکار سے امت مسلمہ کو باخبر کرنا مقصود ہے ۔ ان میں ایک فتنہ تو انجمن سرفروشان اسلام کے بانی ریاض احمد گوہر شاہی کا فتنہ ہے جوبرصغیر سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پربھی اپنے بال وپر نکال رہاہے اور امت کے سادہ لوح طبقے کوتیزی کے ساتھ متاثر کررہاہے ۔ دوسرا فتنہ فیاض کا فتنہ ہے جو علاج و معالجے کے نام پرجنوبی ہند کی متعدد ریاستوں کو اپنی سرگرمیوں کی جولان گاہ بنایاہوا ہے اور بیماروں کی بے بسی سے ناجائز فائدہ اٹھاکر ان کے ایمان کو خطرے میں ڈال رہاہے ۔

فتنہَ گوہر شاہی:

اس فتنے کی مکمل حقیقت،اس کے بانی کے عقائد و نظریات اور اس کے متبعین کا شرعی حکم پڑوسی ملک کی معروف دینی درس گاہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کراچی سے صادر ہونے والے د رج ذیل فتوے میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔

‘‘انجمن سرفروشان اسلام کے بانی ریاض احمد گوہر شاہی دین اسلام کے خلاف دشمنانِ اسلام کی جد وجہد کے سلسلے کی ایک ایسی ہی کڑی ہے جس طرح کہ مسیلمہ کذاب یا اس راہِ ضلالت میں اس کے دیگر ہم سفر تھے ۔ اس لئے آج کہنے والا اپنے کہنے میں حق بجانب ہے اور عین حقیقت ہے کہ گوہر شاہی کی جد وجہد بھی غلام احمد قادیانی کی جد وجہد کا تسلسل ہے ۔ گوہر شاہی نے تصوف وسلوک کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،اس نے اپنی ناپاک زہریلی تعلیمات کے ذریعے اپنے آپ کو نبوت اور الوہیت کے درمیان ثابت کرنے کی کوشش کی،گوہرشاہی اسلام کے شجرہ طیبہ کی جڑوں کے لئے کسی زہریلے کیڑے سے کم نہیں تھا،اس نے مغربی سرمایہ اور سپوٹ کے ذریعے اپنے باطل عقائد امت مسلمہ کے درمیان پھیلانے شروع کردیے ۔ ذیل میں گوہرشاہی کے عقائد میں سے چند عقائد پیش کئے جاتے ہیں جن کو معمولی عقل کا مالک بھی پڑھ کر اور پھر گوہرشاہی کو اس ترازو پہ رکھ کر اس کے کفر اور اسلام کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

۱:;183183183;گوہرشاہی کے نزدیک اللہ تعالیٰ شہ رگ کے پاس ہوتے ہوئے بھی (نعوذ باللہ) انسانوں کے اعمال سے لاعلم ہیں ‘ چنانچہ گوہر شاہی اس عقیدے کا اظہار اپنے ملحدانہ کلام میں کچھ یوں کرتاہے:

قریب ہے شہ رگ کے اسے کچھ پتہ نہیں

بے راز ہوئے محمد کاش تونے پایا وہ راستہ نہیں

(بحوالہ تریاق قلب ص:18)

۲:;183183183;جب گوہرشاہی خدا کو لاعلم کہہ سکتا ہے تو ایسے ملعون کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید میں تحریف کرنا بھی کوئی مشکل نہ ہوگا چنانچہ وہ کہتا ہے:’’قرآن مجید میں بار بار آیا ہے کہ ’’دع نفسک وتعال‘‘ ترجمہ: ’’نفس کو چھوڑ اور چلا آ‘‘ (بحوالہ مینارہ نور طبع اول ۱۴۰۲ھ) حالانکہ قرآن کریم میں کہیں یہ الفاظ موجود نہیں ‘‘ ۔

۳:;183183183183; جب وہ ایسی جھوٹی آیات اپنی طرف سے گھڑے گا تو اس سے کوئی حوالہ بھی طلب کرے گا‘ چنانچہ اس نے پہلے سے ہی اس کا بندو بست کردیا اور کہہ دیا کہ:قرآن کے صرف ۰۳;241;پارے نہیں ‘ بلکہ کل ۰۴ ;241;پارے ہیں چنانچہ وہ لکھتا ہے:’’یہ موجودہ قرآن پاک عوام الناس کے لئے ہے جس طرح ایک علم عوام کے لئے ہے جبکہ دوسرا علم خواص کے لئے ہے جو سینہ بسینہ عطا ہوا اسی طرح قرآن پاک کے دس پارے اور ہیں ;183183183; الخ (بحوالہ حق کی آواز ص:52)

۴:;183183183; گوہرشاہی مخلوق کو خدا کے ذکر سے پھیر کر اپنے ذکر میں لگانے کے لئے کہتا ہے:’’یہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے میرا ذکر کرو ،وہ پارے (یعنی وہ مزید دس پارے جو موجودہ قرآن کے علاوہ ہیں گوہرشاہی کے ہاں ) کہتے ہیں کہ اپنا وقت ضائع نہ کرو‘ اسی کو دیکھ لینا اگر اس کی یاد آئے ۔ ۔ (بحوالیہ آڈیوکسیٹ خصوصی خطاب نشتر پارک کراچی)‘‘ ۔

۵:;183183183; موجودہ قرآن مجید نے شراب کو حرام قرار دیا;234;لیکن شاید کہ گوہرشاہی کو اپنے خصوصی ان دس پاروں میں جو صرف اس پر (شیطان کی طرف سے) نازل ہوئے ہیں ۔ شراب کو حلال قرار دیا گیاہے‘ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ;230; کے اس قول کی کہ مجھے حضورﷺ سے دو علم عطاء ہوئے ایک تم کو بتا دیا‘ دوسرا بتادوں تو تم مجھے قتل کردو‘ اس کی تشریح میں گوہر شاہی لکھتا ہے کہ:’’وہ دوسرا علم یہ ہے کہ شراب پیو‘ جہنم میں نہیں جاؤگے اور بغیر کلمہ پڑھے اللہ تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے‘‘ ۔ (بحوالہ یاد گار لمحات ص:9;245;10)

۶:;183183183; دنیا کا اصول ہے کہ اپنے محسن کی مدح اور تعریف کی جاتی ہے‘ چونکہ گوہرشاہی بھی اس اصول سے مجبور ہوکر شیطان کی مدح سرائی کرتا ہے تاکہ اس کی طرف سے شیطان کے حق میں کمال ناسپاسی نہ ہو‘ چنانچہ وہ کہتاہے:’’شیطان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گناہ میں لگاتاہے‘ لیکن خود کبھی شامل نہیں ہوتا;183183183; الخ ۔ (بحوالہ یادگار لمحات ص:4)

۷:;183183183; جو شخص ہدایت من جانب اللہ سے محروم ہو اور اس کی ہدایت میں کلام خداوندی یعنی قرآن مجید اور فرامین رسولﷺ یعنی احادیث مبارکہ کارگر نہ ہو اور وہ ان سے ہدایت نہ لے سکے تو آخر وہ کہاں جائے گا;238; اس سوال کا جواب اگر گوہرشاہی خود دے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ اس کا ہادی نہ خدا ہے اور نہ اس کے رسول کی تعلیمات‘ چنانچہ وہ خود لکھتا ہے کہ:’’ایک دن پتھریلی جگہ پیشاب کررہا تھا پیشاب کا پانی پتھروں پر جمع ہوگیا اور ویساہی سایہ مجھے پیشاب کے پانی میں ہنستا ہوا نظر آیا جس سایہ سے مجھے ہدایت ملی تھی‘‘ ۔ (بحوالہ روحانی سفر ص:2)

۸:;183183183; پوری امت مسلمہ کے ہاں زکوٰۃ ڈھائی پر سینٹ ہے;234; لیکن گوہرشاہی مال وزر کی محبت میں اس قدر آگے بڑھا کہ اس نے اپنے مرید وں پر مزید پچانوے پرسینٹ زکوٰۃ عائد کردی اور مجموعی طور پر اس کے ہاں زکوٰۃ ساڑھے ستانوے پرسینٹ ہوگئی وہ کہتا ہے کہ یہ (موجودہ) قرآن کہتاہے کہ:’’ ڈھائی پرسینٹ زکوٰۃ دے وہ یعنی وہ مزید دس پارے جن کا معتقد گوہرشاہی خود ہے کہتا ہے کہ ڈھائی پرسینٹ اپنے پاس رکھ‘ ساڑھے ستانوے پرسینٹ زکوٰۃ دے‘‘ ۔ (بحوالہ آڈیوکسیٹ خصوصی خطاب نشتر پارک کراچی)

یہ گوہرشاہی کے سینکڑوں ہزاروں گمراہ کن اور ملحدانہ وزندقانہ نظریات میں سے چند نظریے تھے جن کو دیکھ کر معمولی شعور کا مالک بھی گوہرشاہی کے کفر اور اسلام کا فیصلہ کرسکتاہے‘ یہی وجہ ہے کہ ان جیسے عقائد کی بناء پر گوہرشاہی کو مقتدر علمائے کرام اور مفتیان عظام نے دائرہ اسلام سے خارج ملحد اور زندیق قرار دیا ہے‘ اس بارے میں آج سے کافی عرصہ پہلے بھی دار الافتاء ختم نبوت‘ دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی‘ دار الافتاء دارالعلوم کراچی‘ دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی اور دیگر مستند اداروں سے فتوے صادر ہوچکے ہیں ‘ لہذا انجمن سرفروشان اسلام کا بانی ریاض احمد گوہرشاہی اور اس کی جماعت کے متعلقین جو گوہرشاہی کے مذہب پر عمل پیرا ہیں ‘ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان میں سے کسی کے ساتھ مسلمان مرد اور عورت کا نکاح جائز نہیں ہے ۔

کتبہ

شاہ فیصل برکی(متخصص فی الفقہ الاسلامی)

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کراچی

فیاض کا فتنہ:

حیدرآباد کے مضافات میں واقع لنگم پلی سے تعلق رکھنے والا فیاض نامی شخص (جسے فیاض بابا بھی کہاجاتا ہے)قرآنی علاج کے نام پرپریشان حال مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کو متزلزل کررہا ہے،یہ شخص قرآنی آیات کے ذریعہ علاج کم اور اپنے باطل افکار ونظریات کو زیادہ پھیلارہاہے ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت تلنگانہ و آندھرا کے آرگنائیزرمحترم مولانا محمد انصاراللہ قاسمی مدظلہ نے اپنے رسالے‘‘فیاض کا فتنہ’’ میں اس فتنے کی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے اور تفصیل کے ساتھ اس کے باطل نظریات کا جائزہ لیا ہے ۔ ذیل میں مولانا ہی کے رسالے سے اس شخص کے گمراہ خیالات کی دومثالیں ملاحظہ فرمائیں ، فیاض اپنے متعلقہ افراد سے دورانِ گفتگو کہتاہے:

۱) ایمان اصل میں میری پیروی کرنا اور اللہ کی پیروی کرناہے ۔

۲) میری اطاعت نہ کرنے والے پر گمراہی کا مہر لگ چکاہے ۔

۳) میری اطاعت کے بغیرنماز اور حج کی عبادتیں بھی بے کارہیں ۔

۴) ایک خاتون نے اس کی باتوں کو جھٹلایا تو کہا: ایمان کا راستہ بتانے والے پیغمبر کو تم نے جھٹلادیا ۔

۵) مجھے نہیں ماننا ایمان کی جھوٹی گواہی دیناہے ۔

۶) جو میری اطاعت نہیں کرے گا، میں اُس کو آخرت میں نہیں بچاسکتا ۔

۷) اللہ کی طرف سے آگے پیش آنے والے حالات کی مجھے خبر دی جاتی ہے ۔

فیاض کی ان باتوں سے معلوم ہوتاہے کہ یہ شخص درحقیقت اپنے آپ کو ’’مفترض الطاعۃ‘‘ سمجھتاہے، یعنی ہر حال میں اس کی اطاعت فرض ہے اس طرح کی سوچ عقیدہ ختم نبوت کے بالکل خلاف ہے، اس لئے کہ ختم نبوت کا معنیٰ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ پر نبوت ورسالت کے اختتام کے ساتھ نبوت وپیغمبری کے لازمی صفات وامتیازات بھی ختم ہوگئے، مثلاً وقت کے نبی اور پیغمبر کے لازمی اوصاف یہ ہے کہ وہ’’معصوم عن الخطاء‘‘اور ’’مفترض الطاعۃ‘‘ ہوتے ہیں ، آں حضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ کسی کی یہ حیثیت ہوگی کہ وہ اپنے آپ کو ’’معصوم عن الخطاء‘‘ اور ’’مفترض الطاعۃ‘‘ تسلیم کروائے، اپنی اطاعت وپیروی کے تعلق سے فیاض کی گفتگو خود کو’’مفترض الطاعۃ‘‘سمجھنا اور سمجھانا ہے، جو بادی انظر میں عقیدہَ ختم نبوت کے انکار کرنے کے مترادف ہے ۔ نیز فیاض دعا کے بارے میں ،انبیاء کرام اور رسول اللہﷺ سے متعلق نہایت گستاخانہ باتیں بھی کہتاہے:

۱) انبیاء کی دعائیں قبول نہیں ہوئیں ۔

۲) دعا کرنا در اصل ایک ضد ہے یعنی اللہ تعالیٰ پرزبردستی کرناہے کہ یہ کام کرو ۔

۳) حضرت ابراہیم ;174;نے اپنے باپ کے حق میں دعاء کرکے نادانی کی ۔

۴) رسول اللہ ﷺ بھی دعائیں کرتے کرتے الٹا لٹک گئے ۔ (استغفراللہ)

دعا سے متعلق فیاض کی ان باتوں سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ فیاض کی گمراہی کس حدتک بڑھی ہوئی ہے ۔ (ماخوذ از فیاض کا فتنہ)

فیاض کے گمراہ وگستاخانہ خیالات پر مبنی تحریر بطور استفتاء جب مقامی دارالافتاء جامعہ نظامیہ میں پیش کی گئی، تو جامعہ نظامیہ کے معتبر مفتی حضرت مولانامفتی عظیم الدین صاحب نے واضح طور پر اس شخص کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ اس سے وابستہ لوگوں پر توبہ، تجدید ِایمان و نکاح لازم ہے، فتوی کے الفاظ ملاحظہ ہوں :

‘‘بشرط صحتِ سوال صورت مسءول عنھا میں مذکور شخص خارج عن الاسلام ہے، مسلمانوں پر لازم ہے اس کے بددینی امور سے اجتناب کریں ، اس کی اتباع کرنے والے بھی خارجِ اسلام ہیں ، ان پر تو بہ، تجدید ایمان ونکاح لازم ہے’’ ۔ فقط و السلام

اسباب و سد باب:

فتنوں کے اس دور میں مسلمانوں کا بڑا طبقہ ایمان کے حوالے سے غیر اطمینانی کیفیت سے دوچار ہے;234;جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج اکثر مسلم گھرانے اسلامی تعلیمات اور قران و حدیث کے علوم کی روشنی سے محروم ہیں ،بچپن سے انگریزی تعلیم پڑھنے اور اسی ماحول میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے کسی کو فرصت ہی نہیں ملتی کہ قران و حدیث پڑھے اور ان کی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ جب یہی بچے سن شعور کو پہنچتے ہیں تو بے دھڑک ایسی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کردیتے ہیں یا ایسے اسکالرس کو سننے اور دیکھنے لگ جاتے جو غیر محسوس طریقے پرخدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سمیت مذہبی تعلیمات سے بیزاری کی راہ پر ڈال رہے ہوتے ہیں ۔ رفتہ رفتہ وہی زہر دماغ میں سرایت کرنے لگتا ہے،جو اس کتاب یا ویڈیوکلپ میں پڑھا یا دیکھا جاتا ہے نتیجتاً عقلیت پرستی کا شکار ہوکرقلادہَ اسلام ہی کو گردن سے نکال پھینکتے ہیں ۔ ہم ایک نظر اپنے اردگرد کے ماحول کی طرف دوڑائیں تو ایسی مثالیں آج ہر جانب نظر آئیں گی کہ اسلام پہ اعتراض کرنے والے روشن خیال اور جدت پسند طبقے میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو فلسفہ و منطق سائنس اور ٹکنالوجی پر تو عبور رکھتے ہیں ;234; مگر اکثریت کو کلمہ شہادت کا مفہوم بھی معلوم نہیں ۔

گم راہی میں مبتلا ہونے کا دوسرا اہم سبب یہ ہے کہ مسلمان اپنے ماضی سے بالکل بے خبر ہوچکے ہیں ،ماضی میں اٹھنے والے فتنوں ،برپاہونے والی تحریکوں اور سر ابھارنے والی جماعتوں کا انہیں کوئی علم نہیں ، ایک صدی قبل کے مسلمانوں کے بارے میں انہیں کوئی خبر نہیں کہ مسلمان اس وقت کن حالات میں زندگی گزار رہے تھے،اگرمسلمان عروج پر تھے تو اس کی وجوہات کیا تھیں اور اگر مسلمان زوال کا شکار تھے تو کن اسباب کی بنا پر،جب تک ہم اس چیز کو نہیں سمجھیں گے، ہم کامیابی کے طریقہ کار کا چناو ہر گز نہیں کرسکتے ۔

تیسرا سبب یہ ہے کہ آج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عوام کو علماء سے بدظن کیا جارہا ہے، عوام دن بدن علماء سے دور ہوتے جارہے ہیں اور دوسری جانب متجددین ایک نئے دین کا جال بچھا کر عوام کے ایمان کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں ، اور بہت سارے مسلمان متجددیں اور لبرلز کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر غیر شعوری طور پر اسلام کے دائرے سے نکلتے جارہے ہیں ۔

دین و ایمان کے لیے ان خطرناک حالات میں اگر ہر مسلمان پہلے مکمل طور پر اسلامی تعلیمات سے واقفیت حاصل کرے، تاریخ کا مطالعہ کرے، علماء کرام سے اپنا تعلق مضبوط رکھے،اور اس کے بعد پھر کسی بھی نظام یا جماعت کا جائزہ لے تو یہ بات وہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ راہ نجات صرف وہی ہے جو اسلام نے بتائی ہے، اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا بہتر طریقہ وہی ہے جو نسل در نسل اسناد صحیح کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام تک، صحابہ کرام سے تابعین اور تبع تابعین تک پھر ائمہ کرام اور علمائے حق کے واسطے سے ہم تک پہونچتا ہے ۔ اللھم ارنا الحق حقا وارقنا اتباعہ و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ

Leave A Reply

Your email address will not be published.