"دھوپ کا مسافر” : پُرعزم شاعر کا حسین تحفہ 

0
      تحریر: تبریز فراز محمد غنیف
     اردو شاعری  کو سینچنے سنوارنے اور پروان چڑھانے کے حوالے سے بات کی جائے تو میر ، غالب ، اقبال،مومن،جوش،فراق،فیض احمد فیض، احمد فراز وغیرہ کا نام جلی حروف سے لکھا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی لکھا جاتا رہے گا۔ شعراء نے ہر دور میں ایک الگ مقام بنایا اور ان کی غزلوں ، نظموں ، مرثیوں کو خوب مقبولیت ملی، باذوق لوگوں نے بھی پسند کیا ساتھ ہی داد و تحسین سے بھی نوازا ، اس سے اردو زبان کو خوب فروغ حاصل ہوا ،نت نئے موضوعات جگہ پائے، خیالات کی دنیا آباد ہوئی، بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں جس تیزی سے اردو شعروادب کو مقبولیت ملی ، وہ تاریخ کا سنہرا باب ہے،یوں تو رفتار زمانہ کے ساتھ ساتھ ایک سے بڑھ کر ایک شعراء اپنے فن کی جولانی سے اہلِ نظر کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہے ہیں ، مگر کم ہی ایسے شعراء ہیں جن کے اشعار میں شائستگی، شیفتگی ، حسن ، لطافت ، حقیقت پسندی ، حوادث سے لڑنے کا پیغام ، زندگی جینے کی تڑپ اور احساسات وجذبات کی حقیقی مصوری دیکھنے کو ملتی ہے ۔ جب ہم جمیل اختر شفیق کا شعری مجموعہ "دھوپ کا مسافر ” پڑھتے ہیں تو ہمیں ان کی غزلوں میں وہ تمام تر خوبیاں ، رعنائیاں اور کیفیات شدت سے محسوس ہوتی دکھائ دیتی ہیں جن کا ذکر اوپر کے سطور میں ہوچکا ہے ۔جمیل اخترشفیق کو قریب سے دیکھنے اور سننے والے اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ وہ ایک ایسے بلند ہمت انسان ، پُرعزم شاعر اور حوصلہ مند نوجوان ہیں جنہیں وقت کے تھپیڑوں سے لڑنا، حالات کی آندھیوں کے سامنے سینہ سپر ہونا اچھی طرح آتا ہے۔
     ان کا شعری مجموعہ "دھوپ کا مسافر” پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جمیل اختر شفیق نے جس طرح زندگی کو جیا اور غربت و افلاس کے بیچ سانس لیتے ہوئے بھی اپنے ہنر کو نکھارا وہ بچوں کا کھیل نہیں ہے ،وہ جب اپنے گھر کی بات کرتے ہیں تو اس میں اپنائیت کی جھلک اور ماضی کی بھولی بسری یادوں کا عکس صاف دکھائ دیتا ہے :
زمانہ ہوگیا دادی کو چھوڑے قبر میں لیکن
ابھی بھی ایسا لگتا ہے مجھے لوری سناتی ہے
وہ جب ماں جیسی مقدس ہستی کی بات کرتے ہیں تو ان کا احساس یوں شعری پیکر میں ڈھلتا ہے :
سنائی جتنی ماں نے تھپکیاں دے کر سلاتے وقت
مجھے بچپن کی وہ ساری کہانی یاد آتی ہے
اور جب اپنی تخلیقی کاوش اور شعری سفر کی بات کرتے ہیں تو اس شعر کا خصوصیت کے ساتھ وہ حوالہ دیتے ہیں جو ان کے مطابق ان کی زندگی کا سب سے پہلا شعر ہے:
ترے چہرے کی نصرت سے بہت کچھ جان لیتا ہوں
ترا  جو  بھی  ارادہ  ہے  اُسے   پہچان   لیتا   ہوں
    جمیل اختر شفیق کے اس شعر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شاعر نے زندگی کو کتنا قریب سے دیکھا ہے   ان کی زندگی مختلف النوع تجربوں اور مشاہدات سے بھری ہوئی ہے، وقت نے ان کو عجیب و غریب مسائل سے دوچار کیا ، کبھی اپنوں سے تنگ رہے تو کبھی غیروں سے ، کبھی دوستوں سے تو کبھی دشمنوں سے لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی اور تمام مشکلات کا زندہ دلی کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا :
کبھی دشمنوں کی عداوتیں ، کبھی دوستوں کی ہیں سازشیں
یہ جو سلسلہ ہے عذاب کا ، کبھی ایک پل کو رُکا نہیں
یہ جو آنسوؤں کا بہاؤ ہے کہیں دھوپ ہے کہیں چھاؤں ہے
یہ بھی ہیں کسی کی عنایتیں، مجھے زندگی سے گلہ نہیں
     اس کے باوجود جمیل اختر شفیق کی زندگی میں کچھ ایسے احباب آئے جنہوں نے موقع بہ موقع ساتھ دیا :
قسم خدا کی ترا حق ادا نہیں ہوگا
تو میرا دوست نہیں ، ناخدا سا لگتا ہے
     جنابِ شفیق نے دونوں پہلوؤں کی شاندار اور بہترین ترجمانی کی ہے۔ ان کی شاعری میں انتہاء درجے کی خوداری بھی ہے جہاں لوگ چند سکوں کے عوض اپنا ضمیر تک بیچ دیتے ہیں اور حاکمِ وقت کے سامنے جی حضوری کرتے ہیں مگر ان کا معاملہ الگ ہے وہ کہتے ہیں:
ہمیں کچھ لوگ اپنے عہد کا باغی سمجھتے ہیں
سبب یہ ہے ، امیر شہر کو سجدہ نہیں کرتے!
    ان کی شاعری میں موجودہ ہندوستانی سیاست کا منظر نامہ کچھ یوں  نظر آتا ہے:
حکومت چاہیے تو مذہبی جگہوں پہ بم رکھ دو
سیاست کا نیا چہرہ یہی سب کو سکھاتا ہے
جمہوریت کے نام پہ ہوتا ہے قتل روز
جینا ہمارے ملک میں دشوار ہو گیا
چھاپے گا کون ظلم کی روداد ہو بہو
ظالم کے حق میں دیش کا اخبار ہو گیا
شفیق اس عہد کی گندی سیاست سے الگ رہنا
یہاں ہر موڑ پر ابلیس کے سردار بیٹھے ہیں
 وطن عزیز کے کچھ نام نہاد لیڈروں اور فرقہ پرست طاقتوں کو ان کا بھولا ہوا سبق وہ یوں یاد دلاتے ہیں :
ہمارے نام کو دہشت سے جوڑنے والو!
گزاری ہم نے ہے ” بھارت "کو گلستاں کرتے
جمیل اختر شفیق کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سماجی زندگی سے بہت ہم آہنگ ہے ، جس میں عام انسان بھی اپنی زندگی کی تصویریں دیکھ سکتا ہے ا:
جلا کر خون سارا جسم کا پیسہ کماتا ہے
بڑی مشکل سے کوئی باپ اپنا گھر چلاتا ہے
اسے بچوں کے مستقبل کی کتنی فکر رہتی ہے
وہ خود بھوکا تو رہتا ہے مگر سب کو پڑھاتا ہے
    بلندیوں کی خواہش، اونچی اُڑان اور ترقی کی خواہش کسے نہیں ہوتی لیکن اپنی بلندی کو وہ  کِبر سے تشبیہ دے کر اپنے آپ کو اس سے بچانے کی سعی بھی کرتے ہیں کیونکہ ہر عروج کو زوال ہے :
اتنا مغرور نہ ہو اپنی بلندی پہ شفیق
اک نہ اک دن یہ نشہ سر سے اتر جائے گا
جمیل اختر شفیق کی شاعری میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ملک سے دور افراد کے احساسات کی ترجمانی بھی بڑی خوبصورتی کے ساتھ کرتے ہیں۔ ایک انسان پردیس میں رہ کر  اپنی ماں کی مقدس یادوں کے بیچ ہجر میں جب رفتہ رفتہ پگھلتا ہے تب ایک حساس شاعر یوں بلک اُٹھتا ہے :
بہت روتا ہے چھپ چھپ کر وہ اپنی ماں کی ممتا کو
جو  گھر  کو  چھوڑ  کر  پردیس  میں  پیسہ  کماتا ہے
    جمیل اخترشفیق نے نہایت ہی سلیس اور سادہ زبان میں  غزلیں تخلیق کی ہیں ، سنجیدگی کے‌ ساتھ شاعری کرنے کا ہنر ان کو خوب آتا ہے۔ ان کی غزلوں میں محبوب سے باتیں کرنے ، ان کی یادوں کو اپنا ہمسفر بنانے اور پھر اس کے بعد محبوب سے بچھڑنے کا درد و الم بھی جابجا نظر آتا ہے، بلکہ ایک جملے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی شاعری میں ہجر بھی ہے اور وصال بھی، لیکن بعض جگہوں پہ محبوب کے ہجر کا تصور انہیں اس درجہ بےچین کرتا ہے کہ وہ یوں گویا ہوتے ہیں :
شفیق روز دعائیں یہ رب سے کرتا ہوں
بچھڑ کے اس سے میں زندہ رہوں خدا نہ کرے
بعض جگہوں پہ محبت ان کے نزدیک زخم کی گہرائ کا سبب معلوم ہوتی ہے:
شفیق اس کی محبت کے شکنجے سے الگ رہتے
تو  اتنا  زخم  تیری  روح  کا  گہرا  نہیں  ہوتا
 اسی قبیل کے چند اشعار اور دیکھیں
پیار کرنے کی شاید سزا مل گئی
میں  تڑپتا  رہا  وہ  ستاتے  رہے
اس کی یادوں میں مری سانس بکھر جاتی ہے
نیند   آتی   ہی   نہیں   رات   گزر   جاتی   ہے
    جمیل اختر شفیق کا شعری مجموعہ ” دھوپ کا مسافر” شاعری کے باب میں ایک حسین اضافہ ہے ، زندگی کو بہت قریب سے دیکھنے کے ساتھ ان کی شاعری میں سادگی ، شگفتگی ، سنجیدگی ، لطافت ، حسن ، احساسات و جذبات کی شدت ، سماج کے گرد و پیش میں ہونے والے واقعات و حوادث ، غربت و افلاس ، ظلم و زیادتی کو شدت کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے۔  ان ہی کے ایک شعر پہ میری تحریر اختتام کو پہنچتی ہے کہ:
زندگی کی دوڑ میں جانا ہے گر آگے شفیق
آپ   اپنے  فن  کا  جادو  عام کرتے  جائیے

Leave A Reply

Your email address will not be published.