. . . .  معصوم کلی

0

 

افسانہ

رات کے تین بج رہے ہیں لیکن میری آنکھیں نیند سے خالی ہیں باہر رات کا سناٹا ہے تو میرے دل و دماغ میں ایک شور سا برپا ہے بار بار یہی سوال کہ "ایسا کیوں ہے ” سونے کا ارادہ لیکر تکیہ سے سر لگا کر آنکھیں جیسے ہی بند کرتی ہوں وہ معصوم چہرہ ذہن میں گھومنے لگتا ہے میں پریشان سی ہوکر ٹہلنے لگتی ہوں ۔ساری رات بس اسی کشمکش میں گزر گئ۔۔۔
فجرکی نماز پڑھ کر اُس معصوم کے لئے جانے کتنی دیر دعا کرتی رہی، "گھرکا کام کرتے ہوئے  بھی میرےسوچوں کا مرکز وہی بنا ہوا تھا۔امی میرے بال بنادو مجھے اسکول کے لئے دیر ہورہی ہے "میری بیٹی میرے سامنے کھڑی تھی مجھے اس پر بڑا پیار آیا اور ساتھ ہی میری آنکھیں بھی بھر آئ بچے اسکول اور شوہر افس جاچکے تھے ۔
وہ معصوم ساچہرہ پھر سے میری نظروں میں گھومنے لگا ۔کل مجھے میری ایک رشتے کی خالہ کے گھر جانے کا اتفاق ہوا ۔اُن کےگھر میں بہت سارے لوگ جمع تھے جب مجھے کچھ عجیب سا احساس ہواکہ مجھے اس وقت یہاں سے چلے جانا چاہئے ۔۔ تو میں لوٹ جانا چاہ رہی تھی کہ خالہ کے بڑے بیٹے نے آوازدے کر روک لیا ۔۔السلام علیکم باجی ۔۔۔آئیے۔۔وعلیکم السلام لگتا گھرمیں مہمان ہیں میں کسی اور دن آجاوُں گی ۔۔۔”باجی اماں بہت پریشان ہیں ۔آج اُنکی چھوٹی بہواور بیٹےکا فیصلہ ہورہا ہے اپ ہونگی تو اماں کو ہمت رہے گی "۔۔خدا خیر کرے کیسا فیصلہ؟؟ آپ اندر توچلیں ۔۔میں خود کو ملامت کرتے ہوئے کہ میں اس وقت کیوں آئ اپنے خالہ زاد بھائی کے پیچھے چلنے لگی ۔۔بڑے سے ہال میں کئ لوگ جمع تھے ۔تیز قدموں سے میں خالہ کے کمرے میں داخل ہوگئ ۔۔خالہ مجھے گلے لگا کر سسکیاں لینے لگیں ۔۔کچھ دیر کے لئے خاموشی سی تھی جیسے دونوں  ملزموں کی باتیں سننے کے بعد منصف اپنا فیصلہ سنانے جارہا ہوں ۔۔ملازمہ سبکو چائے دے رہی تھی ۔۔موقعہ پا کرشہنازنے سرگوشی میں بتانے لگی کہ اسکی چھوٹی بھابی نے گھرکا سکون برباد کردیا تھا جب بھی لڑائی ہوتی تو طلاق کا مطالبہ کرنے لگتی چار سال کسی طرح سے بھائی نے برداشت کرلیا۔اب پتہ چلا ہے کہ شادی سے پہلے وہ کسی اور کو پسند کرتی تھی۔اب وہ پھر سے لوٹ آیا ہے بھابی طلاق لے کر اُس سے شادی کرنا چاہتی ہے اسلئے بھائی نے طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا ۔۔کیا؟؟؟؟ میری حیرت کی انتہا نہیں رہی ان کی ایک بیئی بھی تو ہے نا ۔۔جی وہ دیکھئے وہاں سو رہی ہے ۔میری نظریں اُس معصوم پر ٹھہرگئی۔۔تین سال کی معصوم اپنے والدین کی حرکتوں سے بے خبر سورہی تھی ۔۔پھر میں اس لڑکی کو دیکھنے لگی جو اس بچی کی  بس نام کی  ماں ہے اسکا چہرہ ممتا سے بالکل خالی تھاپاس میں ہی بڑی ڈھیٹائ سے بیٹھی ہوئی تھی اتنی بڑی بات ہونے جارہی تھی اسکو کوئ ملال نہیں تھا۔۔۔”تو یہ طے ہوا کہ اب یہ شادی آگئے نہیں چل سکتی۔”ایک بھاری سی آواز پر میں چونک پڑی۔۔تو اپ لوگوں نے بچی کے بارے کیا سوچا ہے تین سال کی ہے تو قائدے سے ماں کی ذمہ داری بنتی ہے پرورش کی ۔کم از کم گیارہ سال تک اور باپ کو اخراجات اُٹھنے پڑےگئے۔۔”میں اخراجات دینے کے لئے تیار ہوں جناب اب اور میں باتوں کو طول دینا نہیں چاہتا "۔۔دیکھوں بیٹا تمہاری اولاد ہے تم اپنے پاس رکھ لو اخراجات دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی”لڑکی کےباپ نے ممیاتے ہوئے کہنے لگا۔ ۔۔آپ مجھے بیٹا نہ کہے اب ہمارا ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے۔میں بچی کو کیسے رکھ سکتا ہوں کون دیکھ بھال کرےگا  ۔۔۔پھر تو تو میں میں ایک شور سا برپا ہوگیا۔شور سنکروہ ننھی جان   کی نیند بھی ٹوٹ  گئی وہ پھٹی پھٹی نظروں سے سب کو دیکھنے لگی ۔وہ کوئی محبت کی نشانی نہیں تھی نہ باپ کی شفقت نہ ماں کی ممتا بس جو فطرت نے اپنے قانون کے تحت غلطی سے بھیج دیا تھا۔ اس بات سے بے خبر کہ جنم دینے والے ہی اسکے اپنے نہیں تھے۔کیا کوئ اسقدر بھی بد نصیب ہوسکتا ہے۔میرا وہاں ٹہرنا دوبھر ہورہا تھا ۔تب ہی کسی نے صلاح دی بچی دادی کے گھر پر ہی رہے دوسرے بھائیوں کے بچوں کے ساتھ پل جائے گی۔لیکن وہاں پربھی بچی کی ذمہ داری لینے سے انکار ہوگیا ۔اب ایک ہی راستہ تھا مدرسہ ابھی اس معصومہ کی عمر کم تھی داخلے کےلئے۔۔پھر کسی نے صلاح دی کہ کوئی گود لیے لے تو باپ کی غیرت جاگ گئی ہمارے خاندانی خون ہے کیوں کوئ اجنبی پالے گا۔ مجھے ضروری فون آگیا تو وہاں سے چلی آئی ۔۔لیکن سارا منظر آنکھوں میں سما چکا تھا ۔دماغ اس کے علاوہ کچھ اور سوچنا ہی نہیں چاہ رہا تھا۔کیا کوئ ماں اتنی بے حس کیسے ہو سکتی ہے جو اپنی خواہشات کو پانے کےلئے اپنی ممتا قربان کردے۔بیٹی تو باپ کی پری لاڈلی ہوتی ہے عزت ہوتی ہے پھر یہ لوگ کون ہیں ؟۔کس دنیا کے ہیں ؟؟؟ اور وہ لوگ کون ہیں جو اپنی اولادکی خوشی کے لئےکوئ بھی سمجھوتہ کر لتے ہیں۔اس سے پہلے میراسر پھٹ جا ئے یا اللہ ۔۔۔۔۔۔فون کی گھنٹی نے سوچوں سلسلہ توڑ دیا ۔۔۔فون اسکرین پر خالہ کانام تھا””السلام خالہ۔۔۔جی خالہ اپ کیسی ہیں ۔۔کیا؟ بچی کو شہناز اپنے ساتھ لے گئ۔۔یہ تو بہت اچھا ہوا خالہ ۔۔اللہ خوش وآباد رکھیں دونوں کو میرے ہونٹوں پر دعا کے ساتھ مسکان تھی تو آنکھوں میں خوشی کے انسو۔۔یہ خبر سنکر کہ اس معصوم کلی کو پیار بھرا گلشن مل گیا میں جانتی تھی شہناز ایک بہترین ما ں ثابت ہوگی۔۔

صباانجم عاشی۔بنگلورو

Leave A Reply

Your email address will not be published.