اندیشۂ وائِرَس اور راہنماؤں کی بُوالعَجبِی…؟

(محمد قاسِم ٹَانڈؔوِی=09319019005)

0 36
یہ دنیا ایک سرائے اور مُسافِر خانہ کی مانند ہے، اور سرائے و مسافر خانہ کا مطلب سب جانتے ہیں کہ یہاں بغرضِ ضرورتِ شدیدہ قیام کی نیت سے آدمی ٹھہرتا ہے اور حصولِ مقصد کے فوراً بعد وہاں سے جلد از جلد آگے کی طرف یا اپنے اہلِ خانہ کو واپس روانہ ہونے کےلئے فِکر و جستجو کرتا ہے، جیسا کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفے (ﷺ) نے اِرشاد فرمایا ہے: "کُنْ فِی الدُّنیَا کأَنّکَ غریبٌ أوْ عَابِرُ سبیلٍ” (الحدیث)
مگر ایک تو اِس مادّی دنیا کی چمک دمک و رَنگینِیوں نے اور دوسرے لوگوں کی دیکھا دیکھی و زمانۂ حال کی گہما گہمی نے ہمارے دِماغ کے خلیوں اور سوچ و فکر کے دائروں سے یہ کُلِّی اصول حرفِ غلط کی طرح محو کرکے رکھ دئے ہیں کہ ‘جیسے آدمی اس دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے ویسے ہیخالی ہاتھ اس کو یہاں سے جانا بھی ہے’ اس کے باوجود مال و دولت کے حَریص اس مادی اور فانی دنیا کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا ہے اور سب کچھ جانتے سمجھتے ہوئے بھی ایک لمحہ اور ساعت کو قرار نہیں ہے۔ اور جب کوئ آفتِ سَماوِی یا بَلائے اَرضی سے سامنا ہوتا ہے یا کسی مصیبت و پریشانی کے حِصار میں خود کو محصور و مُقیّد ہوتا دیکھتا ہے تو سارا ٹھِیکرا قدرتِ اِلٰہی و آسمانِ دنیا کے سَر پھوڑ کر ان سے رہائی پانے اور صحیح سالم بَچ نکلنے کی عجیب و غریب راہیں تلاش کرنے لگ جاتا ہے۔ یہی چند وجوہات ہیں کہ آج پوری دنیا کو ایک معمولی اور نظر نہ آنے والے "وائرس” نے جس سَریع الحَرکت رفتار کے ساتھ اپنی گِرفت میں لے رکھا ہے، اس سے دوسروں کو بچانا یا خود کو محفوظ کرنا کتنا مشکل معاملہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور جدید سائنس و تحقیق کے نام پر کس طرح سے لوگوں میں ایک قِسم کی بےچینی، بےقراری اور ڈر خوف پیدا کیا جا رہا ہے بلکہ نئی نسل اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو کفر و اِلحاد و دَہرِیّت کے قعرِ مَذلَّت میںڈھکیلنے کی ناپاک و مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں، اور جِدّت پسندی کا غلط لَیبل چسپاں کرنے کے بعد کثرت کے ساتھ یہ پروپیگنڈا عام کیا جا رہا ہے کہ یہ سب کھان پان کی بےاصولی، رہن سہن میں بےاعتدالی اور ہجومی مواقع پر ربط و ضوابط کی خِلاف ورزی و ڈِسپلن شِکنی کا نتیجہ ہے، چنانچہ ان تمام باطل حیلے بہانوں کو سبب بناکر عام لوگوں کو ان کے مذہبی اعمال سے دوری برتنے اور دنیاوی معاملات میں ایک دوسرے سے جدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ایسا کرکے پوری دنیا کو بھے بھیت اور مختلف نفسانی اَمراض کا شکار بنا کر رکھ دیا گیا ہے اب جسے دیکھو ہاتھ منھ ڈھانپے سماج معاشرہ میں زندہ نَعش بنے گھوم پھر رہا ہے اور دعا سلام تک کرنے سے کترا رہا ہے۔
ایسے میں یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ اس وقت موجودہ دنیا کے جو یہ حالات ہیں کیا یہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے اور کیا اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا جب متعدی امراض سے انسانی معاشرے کو سابقہ ہوا ہو؟ کیا اب سے پہلے الگ الگ نوعِیت کے اَمراضِ شدیدہ اور مختلف اقسام کے مسائل مُہِمّہ نے پوری انسانیت کو متأثر نہیں کیا تھا، جو اب وائرس سے محفوظ ہونے یا اس کے مُتعدّی ہونے سے روکنے کےلئے ہر قِسم کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ان پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی اپیلیں جاری کی جا رہی ہے؟
ارے وائِرس اور اس سے پیدا شدہ صورتحال پر تشویش و نگاہ ہے ایسے میں ہر کوئ خود کو مُعالج و حکیم تصور کئے ہوئے بچاؤ اور اس سے حفاظت کے راستے اختیار کرنے کی تدابیر کر رہا ہے مگر مرض کی تشخیص اور اصل بیماری کی حقیقت کو پسِ پُشت ڈال کر الگ الگ ٹِپس اور متفرق تجاویز پیش کر رہا ہے، اس سلسلے میں عربی ممالک کو تو درکنار کیجئے اس لئے کہ ان کے بارے میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ وہ اپنی عیش کوشی اور مصلحت پسندی کی خاطر ہر دنیاوی فرمان کے آگے سرنگوں ہو کر بہت جلد اپنے دنیاوی آقاؤں کی ہر خواہش پر ‘آمَنّا و صدّقنا” کہہ بیٹھتے ہیں اور عقائد کے اعتبار سے وہ کوئ زیادہ مستحکم رائے بھی نہیں رکھتے اس لئے کہ ان کا یہ ماننا ہے کہ آج پوری دنیا کے پاس جو دین ہے وہ ان کی عیش گاہوں کی چوکھٹ سے گزر کر گیا ہے، لیکن افسوس ہی نہیں بلکہ قلبی رنج کی اس وقت کوئ انتہا نہیں رہتی جب غیرعرب اور احیاء دین کے حامی و مدعیانِ تَحفُّظِ دین و شریعت کو بھی یہی اَوہام پرستی اور وبا کے متعدی ہونے کا ڈر خوف ستانے لگتا ہے اور پھر ان کے یہاں بھی صرف اندیشوں کو بنیاد بنا کر اسی سے مِلتی جُلتی کیفیت و مناظِر کا مُشاہَدہ اہل دنیا کو کرنا پڑتا ہے، کیسی بدقسمتی اور کیسا روح فرساں منظر ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک طرف ہم اپنے ان دامنِ اَبیض کو تعلیماتِ قرآن و ہدایاتِ رسولِ عربی (ﷺ) سے پُر ہونے کے مُدّعی ہیں اور یہ بات یقیناً مثبت و مُتحقَّق اور قابلِ تعظیم و فخر ہے کہ روئے زمین پر رائج اس دینِ حنیف اور شریعتِ محمدی (علی صاحبہ الصلوۃ والسلام) کی باقاعدہ حفاظت و صِیانت کرنے اور اس کے ایک ایک جُزء و معانی کو اپنے حقیقی معنوں میں برقرار رکھنے میں جو قربانی اور مُجاہدے اہلِ حق علماء کرام اور برصغیر پاک و ہند کے محدثین و مفسرین نے برداشت کئے ہیں وہ ایک روشن باب ہیں، بلکہ اگر ہمارے علماء کرام نے اس دین کے تحفظ اور شریعت اسلامیہ کو اپنی حقیقی صورت پر برقرار رکھنے کےلئے قدم نہ اٹھایا ہوتا تو یہ آخری دین و شریعت نہ جانے کب کا اپنا وجود کھو بیٹھتے اور دین کی حیثیت بالکل "گھر گھر کی لونڈی اور در در کا سودا” بن کر پامال ہو جاتی۔ اس سے بڑھ کر اور کونسی بات ہمارے لئے اعزاز کی ہوگی کہ ایک صاحبِ ایمان کےلئے شریعت سے ثابِت شدہ اُن تمام باتوں پر حد درجہ توکُّل اور اعتماد و یقین کرنا نہ صرف جُزءِ ایمان کی اہمیت کو بتاتا ہے بلکہ ان باتوں کو تکمیلِ ایماں کے واسطے حرفِ آخِر کا تصوری خاکہ بھی پیش کراتا ہے اس لئے کہ ایک مؤمِن کی دنیاوی زندگی کے تمام نشَیب و فراز اور اُخروی حیَات کی فوز و فلاح بہر کیف انہیں دو چیزوں پر موقوف ہے۔
1)جب دینِ اسلام کا کلمۂ طیبہ تم نے اپنی زبان پر جاری کر لیا تو اب اس کلمہ کی صداقت و حقانِیت کا اقرار دل سے کرتے ہوئے ایک خدائے بَرحَق اور ایک رسول عربی (ﷺ) کے اِرشادات و فرامین کو ماننے والے ہو جاؤ۔
2)اس کے بعد اب تعلیماتِ اسلام کے آگے اپنی تمام مرضی اور خواہشات کا سر قلم کر دو اور پورے پورے مذہبِ اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ علاوہ ازیں اب اگر کوئی دوسرا دین تلاش کرتا ہے یا دوسرے مذہب کی باتوں کو پسند کرتا ہے تو (اس کی یہ بات اور یہ حرکت) ہرگز ہرگز قبول نہیں کی جائےگی !
رہی بات احتِیاطی تدابیر کی تو (ہم ان کے خلاف نہیں) وہ اپنی جگہ مسلّم الثُّبوت ہیں اور اس کے ساتھ حکومتی فرامین بھی سرآنکھوں پر ہیں، مگر یہ کیسی ناانصافی، کم ہِمّتی اور بےمُروَّتی کی بات ہے کہ صرف اندیشوں سے خائِف ہو کر اور حُکام کے ڈَر کی وجہ سے اس سِمت میں احتیاطی قدم اٹھانے اور حِفظِ ما تقدم کے نام پر ہمارے علماء کرام اور ذمہ دارانِ مدارس نے عُجلت پسندی کا وہ نَظَّارہ پیش کیا کہ:
"ألأمَان وَالحفیظ” آخر ایسی بھی کیا جلدی اور وجوہات درپیش تھیں کہ جن کی وجہ سے حکمت و مصلِحت کے باب کو اتنا وسیع و عریض کر دیا گیا کہ دینی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں موقوف کر دی گئیں، طلباء عزیز کو ان کی قیام گاہوں تک محدود و محبوس رہنے یا بہت سے اداروں میں قبل از وقت تعطیل عام کا اعلان چسپاں کرکے ان کو اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو جانے کی ہدایات جاری کر دی گئیں، جبکہ سب کو معلوم ہے کہ ان کا یہ وقت یعنی سال کا اِختتام پورے سال کی محنت کو حاصل وصول کرنے اور سالِ آئندہ کی ترقی کا زینہ ہوا کرتا ہے۔ اسی پر اِکتفا نہیں بلکہ بات اور بھی زیادہ آگے کی ہے کہ جن بڑے مدارس و جامِعات میں سالہا سال سے سال کے اختتام پر بخاری شریف یا مِشکوٰۃ شریف وغیرہ کے عنوان سے سالانہ اِختتامی اجلاس اور دُعائیہ نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس بار بھی اس قسم کے اجلاسوں کی تاریخیں مہینوں قبل طے ہو چکی تھیں، وہ سب حالات کی روَ میں بہا دئے گئے اور "تکمیلِ بخاری” کی تقریبات و دعائیہ مجالس کا سِلسلہ یک لخت منقطع کر دیا گیا (أعاذَن اللہ مِنہ) واضح رہے کہ
یہ تکمیلِ بخاری اور اختِتامِ مسلم شریف کوئی رسمی طور پر منعقد نہیں کی جاتی تھیں بلکہ ان کی اپنی ایک روشن تاریخ اور پس منظر ہے۔ یہ ذخیرۂ احادیث کا وہ واحد اور منفرد مجموعہ ہے جس کے بارے میں متقدمین و متأخرین کا متفقہ فیصلہ "أصحُّ الکتُبِ بعد کتابِ اللہِ” روزِ اول سے ٹہھرا ہوا ہے، تم نے دنیاوی حکمرانوں کے ڈر و ہیبت سے گھبرا کر اس بخاری شریف کی مجالس کو منسوخ کر دیا جس کے بارے میں اہلِ علم و محدثین کا یہ فرمان ہےکہ:
"اگر کسی مقام پر بھیانک آگ زنی ہو جائے یا کہیں پر ناموافق حالات پیش آجائیں اور حالات کنٹرول سے باہر ہو تو وہاں ختمِ بخاری شریف کا اہتمام کرنے کے بعد دعا کی جائے تو بگڑے حالات بہت جلد موافق ہو جاتے ہیں”۔ ایسے نازک ترین موسم اور ناگفتہ بہ حالات میں ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہم غیر اقوام و مِلل اور حکومت کے منصب پر فائز حضرات کو اعتماد میں لیتے اور ان کو ہر اعتبار سے مطمئن کرکے تعلیماتِ اسلام کی روشنی میں کوئ جامع منثور اور راہ دکھاتے اور ماضی میں جب کبھی ایسے وائرس اور وَبالِ جاں آفت و مصیبت سے مخلوق کو چھٹکارا دلانے اور متعدی امراض کا سدِباب کرنے کی جو تدابیر ہمارے علماء کرام، محدثین عِظام اور دین کے پیشواؤں کی طرف سے اختیار کی گئی تھیں ان کی روشنی اور تجربات کو متأثرین اور حکومت کے سامنے پیش کرتے نہ یہ کہ مدارس کو "قال اللہ و قال الرسول” کی عطَربیز صَداؤں اور "حدَّثنا و ربَّنا” کے پُرکیف زمزموں سے محروم کرتے؟ اور پھر اگر اب بھی حالات موافق نہ ہوئے جیسا کہ ماہرین برابر اندیشہ ظاہر کر رہے تو کیا عبادات سے روکنے اور مساجد سے مخلوق کا رشتہ منقطع کرنے کی اپیلیں بھی اہلِ مدارس کریں گے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات سے خبریں موصول ہو رہی ہیں؟ اس لئے کہ عوام محتاج بھی ہیں اور اور ان کا اعتماد بھی دینی رہنمائی میں علماء کرام پر جیسے ہمارے یہ علماء فرماتے ہیں عوام الحمداللہ ان کی طرف سے صادر کردہ اپیلوں اور فیصلوں پر ہر آن عمل کرنے کو تیار رہتی ہے، اس لئے ہمارے علماء اور اہلِ مدارس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کوئ بھی فیصلہ لیتے وقت عوام کو ضرور ذہن میں رکھیں، ورنہ یہ دین اور یہ شریعت جیسا کہ اوپر اظہار کیا گیا ہے؛ لوگوں کےلئے "تفریحِ طَبع” کا سبب نہ بن جائے اور پھر ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں اور اس آیتِ کریمہ کو پیش نظر رکھیں کہ: "ہم نے دیگر اُمّتوں کی طرف بھی جو کہ آپ سے پہلے گزر چکی ہیں پیغمبر بھیجے تھے، تو ہم نے ان کو افلاس و بیماری کے ساتھ آزمایا، تاکہ وہ عاجزی اور انکساری کر سکیں” (مفہومِ آیَت)

Leave A Reply

Your email address will not be published.