مفسر قرآن علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی : حیات و خدمات 

0 18

 

   مفسر قرآن، محدث عصر ،فقیہ اسلام ،مؤسس جامعہ امام ابن تیمیہ، درجنوں کتاب کے مصنف جناب علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ کسی تعارف کے محتاج نہیں، آپ کی شخصیت سورج اور  باغیچہ کے مانند تھی جو بیک وقت عرب و عجم کی سرزمین کو روشن و تابناک بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی خوشبوؤں سے معطر کر رہی تھی، آپ نے جہاں جس میدان میں قدم رکھا کامیابی و کامرانی نے جھک کر سلام کیا ۔
 میری زندگی اک مسلسل سفر ہے
جو منزل پر پہنچے تو منزل بڑھادی
   آپ کی پیدائش :
             آپ کی پیدائش تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی اعتبار سے مشہور و معروف ہمالیہ پہاڑ کی گود میں بسا سرسبز و شاداب چمپارن کی سرزمین کے چندنبارہ گاؤں( جو بقیہ ندی کی سنگم اور 95% مسلم آبادی پر مشتمل ہے )میں 23 اپریل 1943 ء میں ہوئی تھی ۔آپ کے والد کا نام بارک اللہ اور آپ کی والدہ محترمہ رقیہ بیگم کے نام سے جانی جاتی تھیں ۔آپ کا نام محمد لقمان آپ کے دادا محمد یاسین صاحب نے رکھی تھی اور آپ کو پیار سے لقمان حکیم کہہ کر بلاتے تھے ۔آپ کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے، محمد لقمان سلفی بن بارک اللہ بن محمد یاسین بن محمد سلامت اللہ بن عبد العلیم صدیقی ہے ۔
   آپ کے گھر کا ماحول :
              آپ کے گھر کا ماحول اسلامی تھا۔گھر والے کتاب و سنت کے پیروکار تھے آپ کے دادا مجاہدین میں سے تھے اسی لئے آپ کو بچپن میں اسلامی ماحول ملا ۔کاروان حیات کے مطابق جب آپ دو سال کے تھے تو اپنے دادا کے ساتھ رہنے لگے، آپ کے دادا جب نماز و نوافل اور تہجد پڑھاکرتے تھے تو آپ انہیں دیکھتے اور غیر شعوری طور پر یہ چیزیں آپ کے اندر سرایت کرتی گئیں ۔
تعلیمی لیاقت :
       جب آپ کی عمر چار سال کی تھی تو آپ کے دادا نے گاؤں کے مکتب  میں (جس کے استاذ حافظ عثمان صاحب ہوا کرتے تھے ) تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیج دیئے پھر جب کچھ شعور ہوا تو ضلع پورنیہ میں محمد الیاس صاحب کے مدرسہ میں جو "چھڑاماری "نامی گاؤں میں تھا  تعلیم حاصل کرنے کے لئے تشریف لائے۔یہاں پر آپ نے دو سال تک تعلیم حاصل کی اور اردو فارسی کی پہلی دوسری کتابیں ختم کرنے، لکھنے اور پڑھنے کے ساتھ ساتھ بنگالی زبان بھی سیکھ لی ۔یہاں سخت طبیعت خراب ہونے کی وجہ کر اس مدرسہ کو الوداع کہنا پڑا اور مولانا شفیع کی وجہ کر آزاد مدرسہ ڈھاکہ میں آپ کا داخلہ ہوا ۔یہاں پر آپ کی ذہانت و قابلیت کی وجہ 50 نمبرات میں 52 نمبرات بطور اعزاز ملا ۔کاروان حیات کے مطابق اس مدرسہ کو چھوڑنے کی وجہ یہ بنی کہ آپ اپنے  چند ساتھیوں کے بہکاوے میں آکر پہلی مرتبہ بیڑی پینے کی کوشش کی اتفاق سے ایک بہت ہی سخت استاد جو معمولی جرم پر بچوں کو بری طرح سے پیٹا کرتے تھے نے دیکھ لیا اور تمام طلبہ کو اپنے کمرے میں آنے کو کہا آپ سمجھ گئے کہ اب کسی کی خیر نہیں اس لئے آپ رات کی تاریکی کے باوجود وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور ایک پیڑ پر چپکے سے چڑھ گئے مولانا صاحب چند لڑکے کو تلاش کرنے کو بھیجا لیکن آپ نہیں ملے جب لڑکے واپس آگئے تو آپ پیڑ سے اتر کر اپنے ایک جاننے والے کے بستر پر سوگئے اور پھر کل ہوکر صبح میں آزاد مدرسہ الوداع کہہ دیئے ۔پھر کچھ دنوں کے بعد آپ دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ اعلی تعلیم کے لئے تشریف لے گئے یہاں آپ نے 6 سال تک تعلیم حاصل کی اور فراغت سے ایک سال قبل ہی آپ احمدیہ سلفیہ کو چھوڑ کر مدینہ تشریف لے گئے چونکہ بہار اگزامینیشن بورڈ پٹنہ کے مولوی کے امتحان میں آپ نے پورے بہار میں پہلی پوزیشن حاصل کی اسی تاریخی کامیابی کی بناپر آپ ان سترہ خوش نصیبوں میں سے ایک تھے جو مدینہ یونیورسٹی کھلنے کے بعد پہلی مرتبہ مدینہ یونیورسٹی کے لئے چنے گئے اسی سال آپ کو ڈاکٹر سید الحفیظ صاحب نے استثنائی شکل میں دار العلوم سے فراغت کی سرٹیفکٹ دے دی اب آپ مدینہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے لگے یہ لگ بھگ 1962-63 کا زمانہ تھا اس یونیورسٹی میں کچھ ہی سال ہوا کہ آپ کی علمی صلاحیت و قابلیت کا معترف ہر وہ شخص ہوا جس نے آپ کو قریب سے دیکھا اور سنا اسی زمانے کا ایک واقعہ ڈاکٹر صاحب اپنی شاہکار تصنیف کاروان حیات کے صفحہ 14 پر لکھتے ہیں کہ مدینہ یونیورسٹی میں ایک استاد فضیلۃ الشیخ محمد المجذوب نامی ہوا کرتے تھے جو طلبہ سے مضمون نویسی کے بعد درجات دیا کرتے تھے چنانچہ ایک دفعہ انہوں نے آپ کے مضمون کو پڑھنے کے بعد ایک اعزازی جملہ لکھا تھا کہ ” المستقبل الباھر ینتظرک ” کہ خوبصورت مسقبل آپ کا انتظار کر رہا ہے ۔آپ نے ڈاکٹر محمد ادیب صالح کی زیر نگرانی میں "سعودی عرب اور مصر کی سیاسی حالات کی بھینٹ "کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی تھی واضح رہے کہ آپ نے محمد بن سعود ریاض یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی۔
      آپ کے اساتذہ :
    آپ کے اساتذہ کی فہرست کافی طویل ہے تاہم طوالت سے بچتے ہوئے چند ناموں کو ذیل میں تحریر کیا جارہا ہے ۔
(1)حافظ عثمان صاحب (مکتب کے استاذ )
(2)محمد الیاس صاحب (پورنیہ ضلع کے استاذ)
(3)مولانا محمد زبیر (آزاد مدرسہ ڈھاکہ کے استاذ)
(4)مولانا صوفی عبدالرحمن (احمدیہ سلفیہ )
(5)مولانا ظہور رحمانی (احمدیہ سلفیہ )
(6)مولانا محمد ادریس (احمدیہ سلفیہ )
(7)مولانا عین الحق (احمدیہ سلفیہ )
(8)حبیب المرسلین شیدا (احمدیہ سلفیہ)
(9)مولانا اکمل اعظمی (احمدیہ سلفیہ)
(10)شیخ ابن باز (جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ)
(11)علامہ البانی (جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ)
(12)شیخ محمد المجذوب (جامعہ اسلامیہ مدینہ)
(13)شیخ محمد ادیب صالح (جامعہ محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض )
   آپ کے ساتھی و احباب:
                     آپ کے ساتھیوں کی تعداد عرب و عجم میں کثیر تعداد میں موجود ہیں جن سے چند نمائندہ نام ذیل میں تحریر کیا جارہا ہے ۔
(1)علامہ احسان الہی ظہیر
(2)ڈاکٹر معین الدین سلفی
(3)شیخ محمد طاہر سلفی، ندوی
(4)شیخ شمیم اختر
(5)شیخ نور الدین سلفی
(6)شیخ ممتاز احمد سلفی
(7)شیخ مصلح الدین سلفی
(8) شیخ امیر الدین سلفی
  ملازمت  :
    آپ نے اپنی ملازمت کی شروعات جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد بطور مترجم دار الافتاء ریاض میں شروع کی پھر آپ نے اپنی محنت و مشقت اور صلاحیت و قابلیت کی وجہ کر  Researcher  کی پوسٹ پر پہنچے پھر ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ اور ریٹائر ہونے سے چند سال قبل ” Head of the researchers  بنے ۔اسی درمیان آپ نے 18 سال سے زائد غیر مسلموں میں توحید کا درس دیتے رہیں ۔مختلف ممالک میں جاکر لوگوں میں کتاب و سنت کی خوشبوں پھیلاتے رہیں اس کے لئے آپ نے سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے آسٹریلیا نیوزیلنڈ ،فیجی ،ہونولولو ، سان فرانسکو ،نیویارک ،فیلپائن ،لندن ،افریقہ ،نائیجریا اور پاکستان جیسے اہم مقامات پر جاکر لوگوں کو قال اللہ و قال الرسول کی طرف بلائے۔
آپ کی خدمات :
آپ کی خدمات ہر میدان اور ہر شعبہ کو محیط ہے لیکن اس مضمون میں ہم چند خدمات کی طرف ہی ذیل کی سطر میں اشارہ کررہے ہیں ۔
(1)قیام جامعہ:
   آپ کی خدمات و کارنامے میں جامعہ امام ابن تیمیہ کا قیام سر فہرست اور آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔اس تعلیمی شعبہ کو آپ نے 1964ء، میں معہد الاسلامی کے نام سے بنیاد رکھی پھر آپ کی محنت و کوشش کی بنا پر دھیرے دھیرے ترقی کرتا رہا حتی کہ 1990 ء کی دہائی میں یہ ادارہ بھارت کی سرزمین پر جامعه امام ابن تیمیہ کے نام سے اسلامک یونیورسٹی کی شکل و صورت ميں دنیا کے نقشے پر آشکارا ہوا۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس یونیورسٹی کے فارغین نے عرب و عجم میں اپنا علمی سکہ چلادیا اور آپ کے اس تاریخی جملہ کو تیمیوں نے ثابت کردیا کہ "تیمی ہونا علم و فضل ہونے دلیل ہے ” آج بھی آپ کا لگایا ہوا پودا دن بدن تناور درخت کی شکل اختیار کررہا ہے آج 2000 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کتاب و سنت اور عصری علوم کی زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہو رہے ہیں ۔
(2)مرکز علامہ ابن باز برائے دراسات اسلامیہ کی تاسیس :اس کی زیر نگرانی میں اب تک ایک سو سے زائد عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں نہایت ہی وقیع علمی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔
(3)تصنیف و تالیف
             آپ رحمہ اللہ کی پوری زندگی تصنیف و تالیف میں گزری یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ درجنوں کتابیں اردو، عربی اور انگلش میں آپ کی زیر قلم میں آکر تعلیمی دنیا پر چھاگئیں آپ کی چند چیدہ و چنیدہ کتابوں کو ذیل میں تحریر کیا جارہا ہے ۔
(1) الصادق الامین (عربی، اردو)
(2) تیسیر الرحمن لبیان القرآن( اردو ،ہندی انگریزی)
(3) سید المرسلین (عربی، اردو)
(4) رش البرد شرح الادب المفرد ( اردو)
(5) السلسلۃ الذھبیۃ لقراءۃ العربیہ (12 مجلد)
(6) ارکان الاسلام ( عربی)
(7) فتح العلام شرح بلوغ المرام ( عربی)
(8) تحفۃ الکرام شرح بلوغ المرام ( عربی، اردو)
(9) اھتمام المحدثین بنقد الحدیث سندا و متنا و الرد علی شبہ المستشرقین و اتباعھم ( پی ایچ ڈی کا رسالہ)
(10) معلم الاسلام ( اردو 10 مجلد)
(11) خاتم الانبیاء محمد کا ذکر جمیل ( اردو)
(12) ہمارے نبی ( اردو، بچوں کی کتاب)
(13) اذکار و ادعیہ( جمع  و ترتیب)
(14) ھدی الثقلین فی احادیث الصحیحین ( جمع و ترتیب
(15) تحفۃ الکرام شرح بلوغ المرام ( جمع و ترتیب)
(16) تحفۃ الکرام شرح بلوغ المرام ( جمع و ترتیب)
(17) اخلاقیات مسلم ( جمع و ترتیب)
(18) بیان القرآن ( ترجمہ)
(19) کتاب التوحید ( ترجمہ)
(20) مکانۃ السنة ( ترجمہ)
(21) دروس الصرف ( تقدیم و اہتمام)
(22) دروس النحو (تقدیم و اہتمام)
(23) بہائیت کو پہچانئے ( تقدیم و اہتمام)
(24) صحیح مسلم ( تقدیم و اہتمام )
(25) مشعل راہ ( تنقیح و تصحیح)
(26) اتباع قرآن وسنت ( تنقیح و تصحیح)
(27) المرشد الی آیات القرآن الکریم ( تنقیح و تصحیح)
(28) جہنم کا بیان ( اہتمام و نظر ثانی)
(29) مسائل زکوٰۃ و صوم ( اہتمام و نظر ثانی)
(30) فتاوی برائے خواتین ( اہتمام و نظر ثانی)
(31) اسلام میں بدعت و ضلالت کے محرکات ( اہتمام و نظر  ثانی )
(32) آغا خانیت کو پہچانئے ( اہتمام و نظر ثانی)
(33) جادو کا علاج ( اہتمام و نظر ثانی)
(34) امہات المومنین مومنوں کی مائیں ( اہتمام  و نظر ثانی)
 (35) الحج و العمرہ و الزیارۃ ( اعداد و مراجعہ)
(36) الارکان و الاسلام ( اعداد و مراجعہ)
(37) کاروان حیات ( اردو، خود نوشت)
 وفات :
   آپ کا انتقال چند دنوں قبل یعنی 5 مارچ 2020 کو سعودی عرب میں ہوا انا للہ و انا الیہ راجعون ۔انتقال کی خبر سنتے ہی عرب و عجم کی سرزمین درد و الم کے ساگر میں ڈوب گئی لیکن پھر بھی اللہ کی مرضی پر صبر کا دامن تھامتے ہوئے آپ کی وصیت کے مطابق حرم مکی میں بعد نماز جمعہ آپ کی نماز جنازہ 6 مارچ کو ادا کی گئی پھر ہزاروں کی تعداد میں نم آنکھوں کے ساتھ لوگوں نے آپ کو سپردخاک کردیا اس طرح سے عرب و عجم کا تابناک و درخشندہ ستارہ غروب ہوگیا ۔اللہ تعالیٰ آپ کی  حسنات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔گناہوں کو بخش دے اور جنت الفردوس میں اعلی و بالا جگہ دے ۔اور آپ کے اعزہ و اقارب کے ساتھ ساتھ آپ سےروحانی طور پر جڑے ہوئے تمام افراد کو صبر جمیل دے آمین ۔
ذیشان الہی منیر تیمی
مانو کالج اورنگ آباد مہاراشٹرا

Leave A Reply

Your email address will not be published.