غزل

0

یاد رکھتا ہوں میں یادوں کے خزانے تیرے
کتنے سلجھے تھے وہاں اپنے بیگانے تیرے

مدعی تھی تیری پرجا تو تھامنصف اپنا
لوٹ ائیں گےکہاں ایسے زمانے تیرے

تو تھا مہاراج شیواجی تیری عظمت کوسلام
ہندو مسلم بھی تھے سکھ بھی تھے دیوانے تیرے

درد دکھتا تھا رعایا کا بڑے امن کے ساتھ
پھول بھِکرے ہوے رہتے تھے سرہانے تیرے

تیرے دربار میں سب اپنے کوئی غیر نہیں
گا رہا ہوں میں فنا اج ترانے تیرے
سید ظہیر احمد(فنا) شموگہ۔ کرناٹک

Leave A Reply

Your email address will not be published.