ماں

0

لفظ "ماں” دونوں ہونٹوں کو ملاۓ بغیر ادا نہیں کیا جاسکتا ،لفظ ماں سنتے ہی دل و دماغ ایسے تروتازہ ہو جاتا ہے جیسے بنجر زمیں کو بارش ترو تازہ کر دیتی ہے۔قارئین کرام :جس طرح دونوں ہونٹوں کو ملائے بغیر لفظ ماں ادا نہیں ہو سکتا اسی طرح ماں کے شہ رگ کے قریب رہے بنا اس کا حق اور اس کی خدمت نہیں کی جاسکتی ہے ماں کے بغیر آنگن سدا ویران سا لگتا ہے،رب تعالیٰ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے ۔

ع۔ چلتی پھرتی ہوئی آنکھیں آذاں دیکھی ہیں میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے (منور رانا )
ماں اولاد کی پرورش وپرداخت میں اہم کردار ادا کرتی ہے ماں کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ماں کا سایہ ہمیشہ کے لئے زائل ہو جاتاہے۔
آج کل کی اولاد کو اتنی فرصت نہیں کہ اگر ماں کی طبیعت خراب ہو جائے اور ان کی تیماداری کی ضرورت ہو یا اسپتال میں داخل ہو جائے تو ہم بھائی بہن ایک دوسرے کا چہرہ پڑھنے لگتے ہیں کہ یہ بھائی کا فرض ہے ،نہیں یہ بھابھی کا ہے، بیٹیوں کو ماں کا خیال رکھنا چاہیے، اس طرح کے خیالات ہمارے ذہن میں پرورش پانے لگتےہیں بالآخر نرس پر کم خرچ میں سب کا اتفاق ہوتا ہے، وقت….. جس ماں نے لمحہ لمحہ اپنی اولاد کے لئے صرف کردیا ہو اس کی اولاد کے پاس وقت کی کمی ہے،ہر نسل کایہی المیہ ہے۔دراصل انسان فطرتاً ناشکرا ہوتا ہے، احسان فراموش ہے جس کو اعلیٰ درجہ حاصل ہوتا ہے وہ ان چیزوں کی قدر کرنا چھوڑ دیتا ہے جس کے سبب وہ انہیں نصیب ہوا ہے ماں کے دار فانی سے رخصت ہو جانے کے بعد اسے محبت کا احساس ہونے لگتا ہے ہے۔ بیٹیاں جو ماں کی بہت قریبی ہوتی ہیں آپنا راز فاش کرتی ہیں اور دکھ سناتی ہیں بیٹی جب سسرال سے آتی ہےتو ان پر کیے گئے اتیاچار،ظلم و ستم کا قصہ ماں کی سماعت کے حوالے کرتی اور اپنا بوجھ ہلکا کرتی ہے ،کیونکہ ماں کے علاوہ بیٹی کے دکھ درد میں شامل ہونے والا اور ان کی باتوں کو توجہ سے سننے والا کوئی نہیں وہ بچوں کے سارے درد کو اپنے اوپر طاری کر لیتی ہے اور پھر کراہتی رہتی ہے بھائی بہن کو لاکھ اپنا درد و غم سناؤ ہر کوئی اپنی اپنی زندگی میں اتنا مصروف ہے کہ بروقت چند لمحوں کے لیے ہمدردی کر بھی دے تو بعد میں متاع دنیا کے چکر میں سب کو بھلا بیٹھتا ہے مگر ماں تو اپنی اولاد سے اتنی محبت کرتی ہے کہ ان کی تکلیف کو محسوس کرتی ،ان کے غم میں برابر کی شریک ہوتی ہے ،کیونکہ درختوں سے جب شاخ کاٹی جاتی ہے تو درد دونوں کو ہوتا ہے۔۔
ع
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے( منور رانا)
قارئین حضرات: والدین کی زندگی میں ان کی قدر کرنا سیکھیں کیونکہ ماں باپ کا نعم البدل دنیا میں موجود نہیں ماں کی نافرمانی پر اللہ تعالی سخت ناراض ہوتا ہے ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، ان کی فرمانبرداری کریں ان کی باتوں کو توجہ کا مرکز بنائیں ان کو اف تک نہ کہیں، ان کی خدمت کریں، بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں” اور آپ کے رب نے حکم دیا ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو جب تمہارے سامنے دونوں میں کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہیں اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں ہے اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب و احترام سے گفتگو کیا کرو اور ان دونوں کے لیے نرم دل سےعجز و انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور رب کے حضور میں عرض کرتے رہو کہ اے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انھوں نے بچپن میں مجھے رحمت و شفقت سے پالا تھا (سورہ اسراء 23۔24)
قارئین کرام: جن کی مائیں داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے ہیں وہ اپنی ماؤں کے لئے دعاؤں کے نذرانے بھیج سکتے ہیں، مگر جن کے پاس یہ نعمت ہے ان کے ہاتھوں میں ابھی بھی وقت کی طنابیں ہیں ابھی سے اپنی ماؤں کی قدر کریں اگر آپ سے کوئی غفلت ہوئی ہے تو ان سے معافی مانگ لیں ماں کا ظرف اور اس کا دامن بہت وسیع ہوتا ہے، ماں کے آنچل میں محبت کی گرمی اور اور خوشبو کا امتزاج ہوتا ہے آج آپ اسے محبت دیں مستقبل میں آپ کی اولاد آپ کو دیں گے، تو آئیے ہم سب اپنی ماؤں کو عقیدت کے پھول پیش کریں اور اسے کہیں ماں تجھے سلام! ماں کا وجود مال و زر سے بڑی دولت ہے اللہ ہماری ماؤں کی حفاظت کرے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ماں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے والدین کو سلامت رکھ۔ آمین

✍️ مزمل حق عبدالسلام کٹیہاری۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.