مائیں اپنی بیٹی کی شادی شدہ زندگی میں دخل نہ دیں !!!!

0 127

 

بیوی بننا کوئی آسان کام نہیں جسے ہر کوئی نادان اور نااہل لڑکی آسانی سے نبھاسکے۔ بیوی بننے کے لئےبہت ہی سمجھداری، سلیقہ مندی، صبر وتحمل،ایمانداری برداشت اور خاص قسم کی دانش مندی کی ضرورت ہوتی ہے۔جو لڑکی اپنے شوہر کے دل پر حکومت کرنا چاہتی ہے اسے چاہئے کہ وہ اپنے شوہر کی خوشی اور مرضی میں خوش رہنا سیکھے۔
ماں کو چاہئے کہ اپنی بیٹی کا گھر بسا رہنے دے اور میاں بیوی کی محبتوں کو قائم رکھنے کی کوشش کرے اور یہ بات ذہن نشیرکھے کہ بیٹی اور داماد کے درمیان ناراضگی کے موقع پر اُن کی ذرا سی غفلت و بے پروائی، غلط باتیں دماغ میں ڈالنا، بے وجہ بیٹی کی غیر ضروری طرفداری یامنفی کردار کی وجہ سے بیٹی کا گھر اُجڑ سکتا ہے۔ اگر  خُدانخواستہ بیٹی اپنے شوہر سے رُوٹھ کر گھر آجائے تو ماں کو چاہئے کہ داماد اور اُس کے گھر والوں پر غصّہ کرنے اور اُن سے لڑنے پر آمادہ ہونے کے بجائے اپنی بیٹی کو سمجھائے اور اُسے فوراً سُسرال پہنچانے کی کوشش کرے، ہرگز بھی بیٹی کے دل میں لگی آگ پر کچھ غلط باتوں کی پٹرول ڈال کر اس کے دماغ میں لگی آگ کو ہوا نہ دے ۔۔۔۔ آ بیٹی بیٹھ۔۔۔۔ اب ہم دیکھتے ہیں تیرا شوہر کیسے تجھے لینے آتا ہے۔۔۔۔اُسے تیرا ذرا بھی احساس ہوگا تو وہ خود تجھے لینے آئے گا۔۔۔۔۔چار لوگوں کو بیٹھا کر پہلے فیصلہ کرنا ہوگا۔۔۔ دیکھنا اُسے ایسا سبق سکھائیں گے کہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔۔۔۔۔جب تک وہ یہاں آکر گھٹنے نہیں ٹیکے گا تو اُس کے ہاں نہیں جائے گی۔۔۔۔۔ اُس نے تجھے آنے کیسے دیا۔۔۔۔۔تیری ساس سُسر نے تجھے روکا کیوں نہیں۔۔۔۔ ابھی ہم زندہ ہیں۔۔۔۔۔تو ہم پر بوجھ تھوڑی ہے۔۔۔۔۔۔اب تو اپنے سُسرال کبھی نہیں جائے گی۔۔۔۔تیرے ساس سسر اور تیرے شوہر کو برابر سبق سکھائیں گے وغیرہ وغیرہ ماں کی اس طرح کی باتیں بیٹی کو اور ضدی بنادیتی ہیں ۔
وہ اپنے شوہر کے انتظار میں اپنے ماں گھر بیٹھی رہتی ہیں۔۔۔۔ یہ انتظار جیسے جیسے طویل ہوتا ہے ماں اپنی بیٹی کا مزید کان بھرتے ہوئے اور سُسرال نہ جانے پر اور پکّا کردیتی ہے۔اگر داماد اپنی بیوی کو منانے اپنے سُسرال پہنچ جائے تو بعض اوقات ساس سُسر اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اپنی بہو یا داماد کو جلی کٹی باتیں سُنا کر شرمندہ اور ذلیل کرتے ہیں
ماں کو اپنی بیٹیوں کی شادی شدہ زندگی میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔ ایک لڑکی جب شادی کرکے دوسرے گھر جاتی ہے تو اس کے لیے اس گھر کا ماحول سب نیا ہوتا ہے۔ اس لڑکی کو اس گھر، ماحول اور لوگوں کو اپنانے میں وقت ضرور لگتا ہے لیکن آج کل تو لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے ماحول اور لوگوں کو پہلے سے ہی جان لیتے ہیں۔اس طرح ان کی پریشانی تھوڑی کم تو ہو ہی جاتی ہے۔
اللہ تعالی نے سب کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ پھر بھی کیوں یہ پڑھی لکھی لڑکیاں جہالت میں ہیں؟ کیوں ہر بات اپنی ماں کو بتاتی ہیں؟ سسرال میں کیا ہو رہا ہے۔۔۔کون کیا کر رہا ہے کس نے کیا کہا ۔۔۔۔ شوہر نے کیا کہا ۔۔۔۔۔گھر میں کیا پکایا۔۔۔۔کون گھر میں آتا جاتا ہے ۔ دن میں کئی مرتبہ فون کر کے ماں بیٹی سے پوچھتی ہے اور بیٹی ماں کو بتاتی ہے۔ کسی بھی لڑکی کو سسرال جانے کے بعد سب سے پہلے اپنے شوہر اور گھر والوں کا دل جیتنا ہوتا ہے ان کے رنگ میں رنگنا ہوتا ہے۔ پیار و محبت، اپنی خدمت سے ان کے دلوں میں جگہ بنانی پڑتی ہے۔ جس طرح چندن کو گھسنے پر ہی اس میں سے خوشبو آتی ہے اسی طرح ایک لڑکی بھی اس گھر کے لوگوں کے دلوں میں اپنے اخلاق و کردار سے اپنا مقام حاصل کر سکتی ہے۔
کبھی کبھی لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ اپنی انا کی جنگ لڑتی رہتی ہے شوہر پر قابو پانے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔ اپنی شادی میں ، سسرال والوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی ناکام ہوجاتہے ۔ ایسی لڑکیاں جو دوسروں کے جذبات کی پروا نہیں کرتیں اور اپنے معاملات خود نہیں سلجھاتیں ان کی شادی ناکام ہوجاتی ہے کیونکہ
وہ شوہر پر قابو پانے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔ اس جنگ میں ہمیشہ وہ ہار جاتی ہیں،وہ کبھی یہ جنگ نہیں جیت سکتیں کیونکہ مرد ضد کرنے والی بیوی کے سامنے اور زیادہ ضدی ہوجاتے ہیں اور وہ ایک نرم اور فرمانبردار عورت کے سامنے بہت زیادہ نرم ہو جاتے ہیں۔وہ لڑکی یہ سمجھتی ہے کہ اپنی رائے پر اصرار کر کے جیت جائیگی اور وہ کسی بھی مخالفت کا سامنا کر لے گی ۔ جبکہ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ یہ جنگ وہ اپنی ضد اور زبان سے بھلے ہی جیت بھی جائے گی لیکن اس دل سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیگی جو اسے پیار کرتا تھا اور اس کی فکر میں لگا رہتا تھا۔ ایک دوسرے کی عزت ختم ہوجائے گی۔
حالات سے سمجھوتہ نہ کرنے والی لڑکی اپنی ضد پر رہتی ہے۔ وہ اپنی فتح کا وہم برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے: اس گمان میں رہتی ہے کہ میں جیت گئی اور شوہر ہار گیا، میں ٹھیک ہوں اور وہ غلط ہیں۔ ایسی لڑکی دوسروں کو تباہ کرنے سے پہلے خود کو تباہ کر دیتی ہے اور پھر وہ دنیا اور آخرت دونوں بھی خراب کرتی ہے اور گناہ گار کہلاتی ہے۔
ازدواجی زندگی کے تجربات میں ہم نے دیکھا کہ ضدی لڑکی یا عورت کی زندگی ہمیشہ طلاق سے دو چار ہوتی ہے اور ان کی زندگی ہمیشہ تلخیوں سے بھری رہتی ہے۔
ہم نے کہیں پر یہ کہانی پڑھی ہے۔ چونکہ ہمارے موضوع سے متعلق ہے اس لیے اسے اپنے مضمون کے ساتھ لکھ رہے ہیں۔
"یمن میں حارث بن عمروالکندی نام کا ایک بادشاہ گزرا ہے۔ ایک دن اسے اطلاع ملی کہ عوف کندی نامی سردار کی لڑکی غیر معمولی طور پرحسین و جمیل ہے۔ بادشاہ نے اسی کی برادری کی عصام نامی ایک عورت کو حال معلوم کرنے بھیجا۔ وہ لڑکی کی والدہ کے پاس پہنچی جس کا نام امامہ بنت حارثہ تھا۔ اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔
وہ اسے اپنی لڑکی کے پاس لے گئی اور کہا کہ یہ تیری خالہ ہے جو تجھے ملنے اور تیرے بارے میں معلومات حاصل کرنے آئی ہے۔ اس سے کھل کربات کر اور کوئی بات اس سے نہ چھپانا۔ وہ عورت اس لڑکی کو دیکھ کر اس کے حسن و جمال اور سلیقہ مندی کی قائل ہو گئی۔ واپس آ کر بادشاہ سے صورت حال بیان کر دی اور اس کی بہت تعریف کی۔
یہ سن کر بادشاہ نے اس کے باپ کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا۔ چناںچہ اس کے ساتھ بادشاہ کی شادی ہو گئی۔ رخصتی کے وقت جب دلھن کو پالکی میں بٹھا کر خاوند کے گھر لے جانے کا وقت آیا، تو ماں نے اسے چند نصیحتیں کیں۔ اس نے کہا:
اے بیٹی، اگر نصیحت کسی کے عقل و خرد یا اعلیٰ نسب کی وجہ سے کی جاتی، تو میں اسے ضرور چھوڑ دیتی اور تجھ سے چھپاتی۔ مگر یہ عقل مند کے لیے یاددہانی کے طور پر اور بے سمجھ کے لیے بطور تنبیہہ کی جاتی ہے۔ اس لیے میں تجھے نصیحت کر رہی ہوں۔
اے میری بیٹی، اگر عورت اپنے والدین کی دولت مندی اور ان کی والہانہ محبت کی وجہ سے مستغنی ہوتی، تو سب سے زیادہ میں اپنے خاوند سے لاپروا اور مستغنی ہوتی، مگر ایسا نہیں۔ بلکہ جس طرح عورتوں کے لیے مرد پیدا کیے گئے ہیں بالکل اسی طرح عورتیں مردوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اے بیٹی، تو ایک مانوس ماحول اور وطن سے دور ایسے ماحول میں جا رہی ہے جسے تو نہیں جانتی۔ ایک ایسے ساتھی کے ہاں تجھے جانا ہے جس کے ساتھ تو مانوس نہیں جب کہ وہ تیرا مالک بن جائے گا۔ لہٰذا تو اس کی لونڈی بن جانا اس طرح وہ تیرا غلام بن جائے گا۔
اس سلسلے میں تو میری دس باتیں یاد رکھنا:
٭ پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے خاوند کے ساتھ قناعت اور سادگی سے زندگی گزارنا۔
٭ اس کی بات غور سے سننا اور اطاعت کرنا کیونکہ قناعت میں دل کو راحت پہنچتی ہے اور اطاعت و فرمانبرداری میں مالک (خاوند) خوش ہوتا ہے۔
٭ تیسری بات یہ کہ تجھ سے خاوند کی مرضی کے خلاف کوئی بات سرزد نہ ہو۔
٭ تیرا خاوند تجھے صاف ستھرے اور مہکتے لباس میں ملبوس ہی دیکھے۔ اے میری بیٹی، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ عطر کی عدم موجودگی میں پانی سب سے خوشبودار ہے اس سے نہا اور بناؤ سنگار کر۔ حسن پیدا کرنے کے لیے تیرے پاس سرمہ موجود ہے، اس سے زیادہ کوئی چیز اچھی نہیں۔
٭ پانچویں بات یہ ہے کہ اس کے کھانے کے وقت کا خیال رکھ۔
٭ سونے کے وقت بھی اس کے آرام کا خیال رکھ کیونکہ بھوک کی شدت ناقابل برداشت ہوتی ہے اور نیند سے اچانک جاگنا غصے کا سبب ہوتا ہے۔
٭ ساتویں بات اس کے مال کی حفاظت کرنا ہے۔
٭ آٹھویں نصیحت یہ ہے کہ اس کے رشتے داروں اور خاندان کا لحاظ رکھنا۔ کیونکہ مال کی حفاظت حسن ترتیب اور رشتے داروں اور خاندان کی رعایت حسنِ انتظام کی علامت ہے۔
٭ نویں یہ کہ اس کے رازوں کو ظاہر نہ کرنا۔
٭ دسویں یہ کہ اس کے حکم کی نافرمانی نہ کرنا۔ کیونکہ اگر تو نے اس کے راز کو ظاہر کر دیا، تو سزا سے نہ بچ سکے گی اور اگر نافرمانی کی، تو اس کے غصے کو بھڑکا دے گی۔
اے بیٹی، جب وہ ناخوش ہو، تو خوش ہونے اور جب وہ خوش ہو، تو غم کا اظہار کرنے سے بچنا۔ کیونکہ پہلی چیز کوتاہی کی علامت ہے اور دوسری سے کدورت کا اظہار ہوتا ہے۔اور تجھے اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تمام چیزیں، تو اپنے خاوند سے اس وقت تک حاصل نہ کر سکے گی جب تک کہ تو ان تمام معاملات میں جنھیں تو پسند یا ناپسند کرتی ہے، اپنے خاوند کی خواہش اور رضا کو اپنی مرضی پر ترجیح نہ دے۔ اللہ تعالیٰ تیرے لیے بہتری کرے اور تجھے اپنی رحمت سے نوازے۔
جب لڑکی اپنے خاوند کے ہاں پہنچی، تو اس نے اپنی والدہ کی نصیحتوں کے مطابق عمل کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے خاوند کا اعتماد حاصل کر لیا اور بڑی عزت پائی۔”

سیدہ تبسم منظور۔ممبئی
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال نوائے ملت
9870971871

Leave A Reply

Your email address will not be published.