کورونا وائرس : کہیں سازش کا پیش خیمہ تو نہیں ؟

0 71

 

از : صادق جمیل تیمی

چین کے ہوبائی ریاست کے شہر ووہان سے اٹھنے والی وبا کورونا وائرس (coronavirus) نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے اور اقوام عالم کی توجہ اپنی جانب کھینچ رکھا ہے . ICTV انٹرنیشنل کمیٹی آن ٹیکنالوجی آف وائرس کے مطابق کورونا ایک ایسا وائرس کا گروپ ہے جس کے جینوم کی مقدار تقریبا 26 سے 32 جوڑے تک ہوتی ہے – یہ وائرس دودھ پلانے والے جانوروں اور پرندوں میں مختلف معمولی اور غیر معمولی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، مثلاً: گائے اور خنزیر کے لیے اسہال کا باعث ہے، اسی طرح انسانوں میں سانس پھولنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

اردو ویکیپیڈیا کے مطابق کورونا (corona) لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تاج یا ہالہ ( دائرہ ) کے ہوتے ہیں۔ چوں کہ اس وائرس کی ظاہری شکل سورج کے ہالے یعنی کورونا کے مشابہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کا نام "کورونا وائرس” رکھا گیا ہے –
اس کا آغاز 1960 کی دہائی میں پہلی بار ہوا ، اس وقت یہ سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہوکر داخل ہوا – اب تک اس کی 13 اقسام متعارف ہو چکی ہیں جن میں سے 7 جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی ہیں – اس وائرس نے دنیا کے سامنے اس وقت خلفشار مچا دیا جب ووہان شہر کے کچھ لوگ دسمبر 2019 ء کو اس سے متاثر ہوئے – اس کی عمومی علامات میں بخار ، تھکاوٹ ، خشک کھانسی اور نظام تنفس میں گڑبڑی بتائی جاتی ہے – چین کے بعد ایران اور اٹلی میں سب سے زیادہ پھیلا ہوا ہے بلکہ ایران کے حکمراں طبقہ اس سے متاثر ہے ، اس کے علاوہ بڑی تیزی سے پوری دنیا میں یہ وائرس اپنے پنجہ آہنی میں نفوس انسانی کو لے رہا ہے – یہاں تک ارض مقدسہ کے خانہ کعبہ کا مطاف بند کر دیا گیا اور اس سال رمضان میں قاصدین معتمرین کو روک دیا گیا – یعنی اس کا اثر عالمی سطح پر بہت زیادہ پڑا ہے اور روز افزوں اموات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے –
اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حقیقت میں جس طرح سے کورونا کی افواہ پھیلائی گئی ہے اور جارہی ہے اور عالمی سطح پر لوگوں کو خوف دلایا گیا ایسا ہی ہے یا اس کو ہوا دینے اور پوری دنیا میں باور کرانے میں کوئی سازش چھپی ہوئی ہے – یوں تو موت و حیات خالق کائنات کے ہاتھ میں ہے وہ جب چاہے جس کو چاہے اسی وقت اسے موت سے ہمکنار کر سکتا ہے اور اللہ کی اس دنیا میں ہزاروں اموات ہوتی ہیں یہ بعید بات نہیں ، تاہم ابھی جو مسئلہ درپیش ہے اس کی کیا حقیقت ہے تو اس کا جواب بالکل آسان ہے کہ حقیقت تو ضرور کچھ نہ کچھ ہے لیکن جس طرح سے ملکی و عالمی میڈیا نے اسے موضوع بحث بنایا ہے اور لوگوں میں ایک دہشت پھیلا دی ہے اس حد تک حقیقت نہیں ہے – قدرتی آفات کی وجہ سے دنیا میں سالانہ اموات کی تعداد 63000 ہزار ہے ، باہمی تصادم کی وجہ سے 75000 ہزار ، آلودہ پانی کی وجہ سے 780000 ہے جب کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے پوری دنیا میں اموات 33 لاکھ ہوتی ہیں اور WHO کی جانب سے شائع رپورٹ کے مطابق اب تک کورونا وائرس 3380 کی موت ہوئی ہے اور 81000 ہزار متاثرین ہیں جب کہ 17 سال قبل چین ہی میں وبا سارس (سانس میں تکلیف پیدا کرنے والی بیماری ہوئی تھی ، BBC کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس وباسارس سے بڑی لیکن مہلک کم ہے -اگر کروڑ میں ایک دو آدمی کی موت ہوجائے تو یہ نظام کائنات میں سے ہے اور دنیا کا معمول ہے لیکن اس کو اتنی ہوا دے دینا کہیں نہ کہیں سازش کا پیش خیمہ ہی لگ رہا ہے تو آئیے جانتے ہیں کہ اس کی تشہیر کا اصل راز کیا ہے –
کورونا وائرس کا ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوتا ہے کہ اس کی چیک اپ کے لیے مشین آجاتی ہے جسے Diagnostic kit کہا جاتا ہے اور اس کے لیے Vaccine بھی چین تیار کر دیتا ہے (اس میں چین اور USA دونوں سازش میں شامل ہیں ) یعنی یہ ان کا برسوں سے پلان چل رہا تھا کہ اس میں کچھ لوگوں کی جانیں بھی جائیں تو کیا ہوگا؟ چین کی اقتصادیات بہت خراب ہیں اب یہ سازش رچی کہ اس بہانہ پوری دنیا میں اس کی مشینیں اور ویکسینز خریدے جائیں گے جس سے اسے کروڑوں کا منافع ہوگا اور اس تجارت میں جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ china اور USA شامل ہیں کہ تجارت میں دونوں نصف نصف کریں گے – اس سے قبل بھی فرانس اور USA 1994 میں HIV کا معاملہ پوری دنیا میں اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ اس کی وجہ سے آدمی مرتا ہے اب پوری دنیا میں اس کے دفاع کے لیے دوائیں خریدی گئیں جس سے ان کو کافی فائدہ ہوا حالانکہ ماہر طبیات کے مطابق موت قوت دفاع ختم ہوجانے کی وجہ سے ہوئی ہے ناکہ HIV کی وجہ سے – HIV اس کا انکار کرنے کی وجہ سے افریقہ کے صدر ایم بی کی کا تختہ پلٹ ہوگیا تھا – بات یہ بھی ہے کہ وائرس کی کوئی دوا نہیں ہوتی اور یہ وائرس تو عام حالت میں بھی پایا جاتا ہے لیکن چین اپنا ویکسن بیچ رہا ہے اور وائرس چیکنے والی مشین بیچ رہا ہے – یعنی یہ تجارت ہے اس کے سوا کچھ نہیں – عالمی طور پر دوسرے ممالک کو اقتصادیات میں کمزور بنا دینا اور امریکہ و چین اقتصادیات میں آگے ڑھ جائیں –
ہندستان میں جب ہر چہار جانب NRC کے خلاف ہورہے احتجاجات ، ہندستان کی گرتی ہوئی معیشت اور دہلی فساد کو لوگوں کے ذہن سے ہٹانے کے لیے پورے میڈیا کورونا کورونا کا رٹ لگا رہے ہیں یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے بہانے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے اور اصل مدعے سے ذہن ہٹایا جا رہا ہے – اسی طرح پوری ریاست میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا کہ کوئی باہر نہ نکلے اور بھیڑ والی جگہوں کا رخ نہ کرے یعنی احتجاج سے لوگوں کو بھگانا مقصد ہے اسی طرح بہار کا سالانہ بجٹ سیشن اپریل کے شروع میں ہے تو اس کے لیے بھی نتیش کمار پینترا بدل رہے ہیں –
خلاصہ یہ ہوا کہ کورونا وائرس کی کچھ حد تک حقیقت تو ہے لیکن جس طرح سے اس کے لیے پوری دنیا میں ماحول سازی کی گئی ہے اتنی حقیقت نہیں ہے – اللہ تعالی ہمیں محفوظ رکھے –

Leave A Reply

Your email address will not be published.