نہ رکھی لاج کعبہ کی نہ حرم کے مصلے کی

0 51

تحریر : جاوید اختر بھارتی
[email protected]

یہود و نصاریٰ سے روابط قائم کرنا اسلامی اصول و ضوابط اور اسلامی روح کے قطعاً خلاف ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ایمان والوں تم یہود و نصاریٰ سے ہرگز دوستی نہ رکھو اور یاد رکھو کہ جو ان سے دوستی کرے گا وہ انہیں میں سے ہوگا,, فرمان نبی ہے کہ یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکال دو،، اسی لیے امام حرم عبد الرحمن السدیس کے یہود و نصاریٰ سے تعلقات استوار کرنے والے بیان پر  عالم اسلام میں ناراضگی کا اظہار ہونا شروع ہوگیا ہے پوری دنیا میں علماء کرام، دینی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے امام حرم کے اس طرز عمل کی مذمت کرنا شروع کردیا ہے اور یقیناً
امام حرم کا خطبہ و بیان قابل مذمت ہے اور رب کے قرآن و نبی کے فرمان کے خلاف ہے اور اب یہ ثابت ہوتا جارہا ہے کہ دنیا میں سب سے بے حس حکمراں عرب ممالک کے ہیں اور ان میں سب بے غیرت سعودی عرب کے حکمراں ہیں انکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے –

اب پتہ چلا کہ حرم کے مصلے پر ہر سال مسجد اقصٰی سے متعلق اور فلسطینیوں کے حق میں کی جانے والی دعا کیوں قبول نہیں ہوتی ایک طرف اللہ کا فرمان ہے کہ یہود و نصاریٰ سے دوستی نہ کرنا دوسری طرف نبی کا فرمان ہے کہ یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکال دو تو ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی سینے میں نبی کی الفت و محبت بھی رہے اور یہود و نصاریٰ سے بھی محبت رہے اب اگر کوئی ایسے راستے پر چلے تو حقیقت میں ہٹ دھرمی ہے منافقانہ چال ہے اس کی کوئی شاطرانہ حکمت عملی ہے اور اللہ و رسول سے بغاوت ہے اور ایسے شخص کو  خانہ کعبہ میں امامت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے-
سعودی عرب کے حکمراں اور ولیعہد دونوں پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کررہے ہیں اور وہ دن بھی دور نہیں کہ جب ان کے چہروں پر یہود و نصاریٰ کے تھپڑ لگیں گے اور ان کی بے بسی پر عالم اسلام میں کہیں کوئی دو قطرہ آنسو بھی بہانے والا نہیں ہوگا،، امام حرم عبد الرحمن السدیس ایک چاپلوسی کرنے والے اور سعودی حکومت کو خوش کرنے کیلئے قرآن و حدیث کو توڑ مڑوڑ کر پیش کرنے والے آدمی ہیں وہ دولت حاصل کرنے کیلئے اور اپنے منصب کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ائمہ حرم میں عبد الرحمن السدیس سعودی حکومت کے ہر فیصلوں کی بغیر کچھ سوچے سمجھے آنکھ بند کر کے حمایت کرنے والی سب سے بڑی شخصیت کا نام ہے جو سعودی حکمرانوں کے ہر فیصلے کو سب سے پہلے جائز ٹھہراتے ہیں اور اس کے لیے قرآن و حدیث کو بھی غلط طریقے سے  پیش کرنے میں بھی نہیں ہچکتے اس لئے انکی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہی ہے عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی، دکانوں پر بھی رہنے کی اجازت دی گئی، سنیما گھروں کو بنانے کی اجازت دی گئی اب اسرائیل کے ساتھ اور یہود و نصاریٰ کے ساتھ ہمدردی دکھائی جارہی ہے اور دوسروں کو بھی ہمدردی کرنے کا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا مشورہ دیا جارہا ہے خبریں ایسی بھی ارہی ہیں کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان امریکہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ جب تک اسرائیل کے ذریعے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ بند نہیں ہوگا تب تک ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں بنا سکتے ہیں تو ایسی صورت میں جب امام حرم عبد الرحمن السدیس اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور انہیں بھائی سمجھنے کا خطبہ دیتے ہیں تو انہیں گرفتار کیوں نہیں کیاجاتا دوسری یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ سعودی عرب کے اندر بڑی بڑی مساجد میں اور حرمین شریفین میں سرکاری خطبہ پڑھا جاتا ہے اگر اپنی طرف سے کچھ ایسی باتیں خطبے میں کہدی گئیں جو سعودی عرب کی حکومت کے خلاف ہو تو اس امام کے خلاف کارروائی بھی ہوچکی ہے جس کی مثال امام حرم شیخ صالح الطالب ہیں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے موضوع پر خطبہ دئیے تھے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا –

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کے ظلم و ستم سے فلسطینیوں کے تحفظ کی دعا کس منہ سے کریں گے اللھم ایدالاسلام و المسلمین جیسی دعا کس بنیاد پر کریں گے، اللھم النصر اخواننا فی فلسطین جیسی دعا کس بنیاد پر کریں گے، اللھم اعزالاسلام و المسلمین اور اللھم النصرالاسلام والمسلمین جیسی دعا کس بنیاد پر کریں گے اب روروکر قرآن کی آیات کی تلاوت کرنے اور رقت آمیز دعا کرنے سے کیا فائدہ جب اللہ و رسول کی جانب سے کہہ دیا گیا کہ یہود و نصاریٰ تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں، شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے تو دو میں سے ایک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی اپیل کی جارہی ہے یہی حال رہا تو کل شیطان کے ساتھ بھی تعلقات استوار کرنے کا مشورہ دیا جاسکتا ہے اور یہ سارا کام سعودی حکومت کے اشارے پر ہورہا ہے یعنی سعودی حکومت پتھر پھینک کر آزما رہی ہے کہ دیکھا جائے اس پر عالم اسلام کا کیا رد عمل سامنے آتا ہے اور یہ بات بھی کھل کر اب واضح ہوچکی ہے کہ حرم کے مصلے پر کھڑے ہونا سدیس صاحب کے لئے ایک ملازمت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے اسی لئے نہ انہیں کعبہ کے وقار کا احساس ہے اور نہ ہی حرم کے مصلے و مقام ابراہیم کے تقدس  کا احساس ہے بس روروکر تلاوت کرنا ایک فن ہے اور کچھ نہیں –

جب انہوں نے یہود و نصاریٰ کو اپنا بھائی مان لینے تک کا خطبہ دیدیا اور مشورہ دیدیا،، اب ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ کسی کو بھائی مان کر محبت بھی کی جائے اور اسے ظالم بھی کہا جائے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ ایک ظالم اور دھوکا باز قوم ہے جو مکر و فریب کو انجام دینے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگاسکتی ہے اسی لئے اس قوم سے تعلق نہ رکھنے کا حکم دیا گیا لیکن جب امام کعبہ   ہی کا قدم بہک جائے اور یہود و نصاریٰ جیسی ظالم قوم سے تعلقات قائم کرنے کا خطبہ دینے لگے، قرآن و حدیث کے ساتھ بغاوت کرنے لگے اور حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگ جائے تو اللہ ہی خیر کرے –
[email protected]
– – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –

Leave A Reply

Your email address will not be published.