ملکی میڈیااوراس کی دوغلی پالیسیاں

0 66
از مفتی محمد عبدالرحیم نشتر فاروقی
ایڈیٹر ماہنامہ سنی دنیا و مفتی مرکزی دارالافتاء بریلی شریف
میڈیاکے مکروہ چہرے اوراس کی دوغلی پالیسیوں کاپردہ چاک کرتی ایک چشم کشاتحریر
 کبھی جمہوریت کا چوتھا کھمبا تصورکیاجانے والا میڈیا اب نہ صرف اپنے مطلب کی خبریں دکھاتا ہے بلکہ اپنے مطلب کی خبریں بناتا بھی ہے، الیکٹرونک میڈیا سے لےکرپرنٹ میڈیا تک سبھی بے ڈھڑک مسلم دشمنی کےایجنڈے پرکام کررہے ہیں، ’’تک کاتاڑ‘‘اور’’رائی کاپہاڑ‘‘بناناتواب میڈیاسے کوئی سیکھے، اپنے مطلب کی خبریں بنانے کے لیےاس وقت میڈیاچاہے جتنا بھی گرنا پڑےگرسکتاہے، چاہے اس کے لئے اسےجس کو بھی بلی کا بکرا بنانا پڑے؛میڈیااس سے پیچھے نہیں ہٹنے والا!
یوں تواسلام اورمسلمانوں کوبدنام کرنے کاکوئی بھی موقع میڈیااپنے ہاتھوں سے کبھی جانے نہیں دیتالیکن 2014ءکے بعد سے اس نے اسلام اور مسلمانوں کوٹارگیٹ کرنے کی ایک شازسی مہم چھیڑرکھی ہے ،بات چاہے جوبھی ہو،جیسی بھی ہو،کہنے والااگر مسلمان نہیں توکوئی بات نہیں،کوئی چرچانہیں،کوئی دنگل نہیں، کوئی آرپارنہیں،نہ ہی’’پوچھتاہےبھارت ‘‘نہ ہی کوئی’’تال ٹھوکتا‘‘ہے اورخدانخواستہ وہی بات اگرکہنے والامسلمان نکل گیا توصاحب مت پوچھئے !ٹی وی چینلوں پرڈبیٹس کی باڑھ سی آجاتی ہے ، شایدہی کوئی ٹی وی چینل ہوجس پر’’دنگل یاآرپار‘‘نہ ہوتاہو، جہاں اسلام، اسلام اورمسلمان ،مسلمان کے سواکچھ نہیں ہوتا۔
ابھی حال ہی کاواقعہ ہے کہ جب 8؍جون 2020ءسے اَن لاک وَن کاآغازہواتوحکومت نے مذہبی مقامات کوبھی مشروط طورپرکھولنے کی اجازت دی، جس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ لوگوں کوالکوحل بیسڈ سنیٹائزرسے ہاتھ صاف کرکے ہی مذہبی مقامات میں داخل ہوناہے ساتھ ہی سبھی مذہبی مقامات کو الکوحل  والے سنیٹائزرسے سنیٹائزکرنابھی لازمی ہے ،لیکن ایم پی اوریوپی کےکچھ بڑے مندروں کے پجاریوں نے اس کی سخت مخالفت کی ،ورنداون اورمتھراکے پجاریوں نے تواس وجہ سے 8؍جون سے مندروں کونہ کھولنے کافیصلہ کرلیا تھا، ان کاکہناتھاکہ الکوحل شراب سے بنتاہے جس کااستعمال کرکے نہ مندروں میں جایا جاسکتا نہ مندروں کی سنیٹائزنگ میں اس کااستعمال ہوسکتاہے ۔
بھوپال کےویشنودھام درگامندرکے پچاری چندرشیکھر تیواری  نے الکوحل والے سینٹائزرکی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم شراب پی کرمندر میں نہیں جاسکتےتوالکوحل سے ہاتھ سنیٹائزکرکے کیسے مندرمیں جاسکتے ہیں؟انھوں نے حکومت سے کہاکہ آپ ہاتھ دھونے کی مشین سبھی مندروں کے باہرلگوائیے، وہاں پرصابن رکھوائیے، ہم اسے قبول کرتے ہیں،انھوں نے مزید کہاکہ ویسے بھی مندرمیں لوگ نہا دھو کر ہی داخل ہوتے ہیں، انھوں نے آگے کہاکہ سنیٹائزرمیں الکوحل ہوتاہے اس کوہاتھ میں لگا کرمندورں میں جانابھارتیہ سنسکرتی کے خلاف ہے، ہم اس سلسلے میں گریہہ منتری کوگیاپن بھی سونپیں گےتاکہ مندروں میں سنیٹائزرنہ ہو، ورنہ مندروں کی پوترتا(پاکیزگی)نہیں رہے گی، یہ شاشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے لئے کسی دوسرےآپشن کاانتظام کرے۔‘‘ [نوبھارت ٹائمس، 5؍جون 2020ء]
وَن انڈیاہندی کے مطابق 5؍جون کوہی دورکادھیشور مندر پرکوٹاجئے پور راجستھان کے پجاری ویجئے شنکر نے کہاکہ بازار میں بکنے والے سنیٹائزر میں 70؍فیصدالکوحل  یعنی شراب پائی جاتی ہے، اس سے ہاتھ دھونے پرہاتھ میں شراب لگے گی جبکہ مندر میں شراب کے ساتھ داخل نہیں ہوسکتے، ایسے میں ہم آیورویدک سنیٹائزر بنارہے ہیں جوالکوحل فری ہے۔
اسی طرح 8؍جون 2020ءکومتھراورنداون میں اسکان، بانکے بہاری،مکٹ مکھارونداورشری رنگ ناتھ جیسے بڑے مندروں کے پجاریوں نے الکوحل بیسڈسنیٹائزرکے استعمال کولازمی قرار دینے کے سبب سوموارسے لوگوں کے لئے مندوں کے دروازے نہ کھولنے کااعلان کیا، گنیش پہلوان کی مطابق مکٹ مکھاروندمندر گوردھن کے انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیاہےکہ وہ مندرمیں الکوحل  بیسڈسنیٹائزر کااستعمال نہیں کرسکتے، اس لئے سوموارسے وہ مندر نہیں کھلیں گےکیوں کہ حکومت نے اسے ضروری قراردے دیاہےجبکہ مندوں میں الکوحل  کااستعمال منع ہے اوروہ اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔    [آؤٹ لک،8؍جون 2020ء]
اس کے علاوہ بھی کئی جگہوں پرمندروں کےپجاریوں نے مندروں میں الکوحل کے استعمال کی سخت مخالفت کی، یادرہے کہ ویشنودھام درگامندربھوپال کے پچاری نے 5؍جون 2020ء کویہ بیان دیا،5؍جون کوہی جئے دوارکادھیشورمندرکے پجاری نے بھی اس کی مخالفت کی اورمتھرا، ورنداون میں اسکان، بانکے بہاری، مکٹ مکھاروند اورشری رنگ ناتھ جیسے بڑےمندروں کے پجاریوں نے8؍جون 2020ءکواس کی مخالفت میں بیان دیا لیکن ان میں سے کسی بھی معاملے میں میڈیاکےکان پرجوں تک نہیں رینگی ،بلکہ یہ کہنازیادہ بہترہوگا کہ بڑےبڑے مندروں کے پجاریوں کی الکوحل بیسڈسنیٹائزرکی مخالفت والےبیان پر بھی میڈیا”کمبھ کرن” کی نیندسوتارہا۔
ان میں سے کسی بھی بیان پرنہ میڈیاٹرائل ہوا، نہ کسی ٹی وی شوپر ’’آرپار‘‘ہوانہ’’ دنگل‘‘نہ کسی نے’’تال ٹھوکا‘‘اورنہ ہی کسی نے ’’دیش تک‘‘یہ بات پہنچائی ،لیکن جیسے ہی 10؍جون 2020ءکو ٹھیک ویساہی ’’الکوحل بیسڈسنیٹائزرکااستعمال مسلمانوں کے لئے حرام ‘‘کاہمارابیان آیاتو”کمبھ کرن”کی نیندسورہے میڈیانے ’’میٹھائی‘‘ کی خوشبوسونگھ لی اور فوراًہی کمبھ کرنی نیند سے بیدارہوگیا، کیونکہ یہ بیان نہ کسی پنڈت کاتھانہ کسی پجاری کا، بلکہ یہ بیان توکسی مسلمان کابیان تھا، جس کے لئے کچھ بھی کہاجاسکتاہے، کچھ بھی لکھاجاسکتاہے اورجس کے ساتھ کچھ بھی کیاجاسکتاہے، پھر کیاتھا! درگاہ اعلیٰ حضرت سوداگران میں ملک کےسبھی ٹی وی چینلوں کے مقامی رپورٹرس کسی ’’مردارپرگدھ‘‘کی طرح منڈرانے لگے اور سارے ٹی وی چینلوں پرڈبیٹس کی باڑھ سی آگئی، دیش کروناسے لڑے یا دقیانوسی سوچ سے؟ مہاماری میں مولاناؤں کی منمانی، کروناکال میں بریلی کے مفتی کانیافرمان!اورنہ جانے کیسے کیسے اہانت آمیز کیپشن چلنے لگے۔
حد توتب ہوگئی جب ہماری طرف سے کسی بھی ٹی وی چینل رپورٹرکوکوئی اہمیت نہیں دی گئی توکچھ ٹی وی چینلوں نے میرے نام سےمنسوب کرکےکسی اور مولانا کا ویڈیو چلایااوراپناالو سیدھا کرناشروع کردیا، اس سے اندازالگایا جاسکتا ہے کہ میڈیا والے اپنامطلب حاصل کرنے کے لئے کس بھی حدتک گرسکتے ہیں، اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ ڈبیٹ کے لئے اگرصاحب معاملہ راضی نہ بھی ہو تومیڈیا اس کے نام سےکسی اور کو بھی ٹی وی پرپیش کر کے یا کسی اور کابھی ویڈیو چلاکر اپنی ’’ٹی آرپی‘‘ بڑھانےکاسامان پیداکرلیتاہے۔
یہ واقعہ اس بات کو بھی ثابت کرتاہے کہ معاملہ اگرکسی مسلمان یااسلام سے جڑاہو تو میڈیاوالے اس خبر کی تحقیق کرنا ضروری ہی نہیں سمجھتے، کہنے والا کون ہے، اس کی جگہ کوئی اور تو کیمرہ فیس نہیں کر رہا ہے، یہ خبر درست ہے بھی یا نہیں؟ خبر سچی ہویاجھوٹی مسلمانوں سے جڑی ہوئی ہوتو بس چلاؤ، اپنے زہر آلود بیانوں سے نفرت وعداوت کاماحول گرم کرو اوراپنے آقاؤں کوخوش کرو،کوئی بے قصورسبزی والاپیٹاجاتا ہے تو پیٹاجائے ،کوئی پھل والاماراجاتاہے توماراجائے۔
کچھ دن پہلے تبلیغیوں کے نام پرعام مسلمانوں کے ساتھ نفرت وعداوت کاجوننگاناچ ہوا، اسےپوری دنیانے اپنے ماتھے کی نگاہوں سے دیکھا، کرونا پھیلانے کے الزام میں پھل اور سبزی بیچنے والوں تک کوظلم وستم کانشانہ بنایاگیا، مسلمانوں کو دیکھ کر’’کرونابم‘‘جیسی نفرت انگیزآوازیں کسی گئیں، نیوز چینلوں کے ذریعہ ’’فلاں جگہ کروناکے100؍مریض ! جن میںسے72؍ صرف تبلیغی یعنی مسلمان ‘‘جیسی ہیڈنگس چلائی گئیں، عام مسلمانوں کوبھی تبلیغی بتا کر پریشان کیاگیا، ان کے اہل خانہ اوررشتے داروں کوکرونٹائن کیاجانے لگا، یہ سلسلہ خوب چلا، معروف صحافی مولاناغلام مصطفےٰ نعیمی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
’’کورونا جیسی مہلک بیماری پر میڈیا کو حکومتی اقدامات ، حفاظتی انتظام اور ارباب اقتدار کی لاپرواہی پر سوال اٹھانے چاہیے تھےلیکن ہفتوں تک میڈیا ہاؤسز میں مرگھٹ سا سناٹا چھایا ہوا تھا،لیکن تبلیغی جماعت کا قضیہ سامنے آتے ہی گودی میڈیا کے تن مردہ میں جان پڑ گئی، ایک ساتھ کئی نیوز چینلوں نے تبلیغی جماعت کے نام پر مسلمانان ہند پر ہلّہ بول دیا، تبلیغی جماعت پر ڈبیٹ شوز اور بریکنگ نیوز شروع ہوگئی، اس کے بعد شرپسندوں کے آئی ٹی سیل نے اپنا کام شروع کیا،ملک و بیرون ملک کے سالوں پرانے ویڈیوز نکال کر انہیں مسلمانوں سے منسوب کرکے اکثریتی طبقے کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے کی پوری کوشش کی گئی کہ مسلمان سازشاً کورونا وائرس پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں، اس شرانگیزی کی وجہ سے ملک کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملے شروع ہوگئے ہیں۔‘‘
میڈیانے مسلمانوں کوٹارگیٹ کرتے ہوئے بلاکسی تحقیقی کے کیسی کیسی زہرآلودخبریں چلائیں، ذیل میں ہم اس کی ایک مختصرسی چھلک پیش کرتے ہیں جس سے اس حقیقت کوسمجھنا بہت ہی آسان ہوجائے گاکہ آج ملک کے اکثرمیڈیا ہاؤسیز بالخصوص الیکٹرونک میڈیانے ملک میں امن وسلامتی کی فضاقائم کرنے کی بجائے نفرت وعداوت کے شعلے بھڑکانے کابیڑا اٹھا رکھاہے، اس کے لئے انھیں جھوٹی اور بے بنیاد کی خبریں بھی چلانے میں کوئی جھجھک نہیں محسوس ہوتی۔
1- سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے دہلی کے شاستری نگر کے ایک ویڈیو میں ایک سبزی فروش کو اس لیے نکال دیا گیا کہ وہ مسلمان تھا،ویڈیو بنانے والا کہتا ہے کہ جتنے بھی سبزی فروش ہیں ان کا آدھار کارڈ چیک کرو اگر مسلمان نکلے تو اسے فوراً بھگا دو یہ لوگ وائرس پھیلا رہے ہیں۔
2- اتراکھنڈ کے ہلدوانی شہر میں رامپور روڈ پر جاوید پھلوں کی دکان لگاتا ہے، دو دن پہلے آدھا درجن کے قریب شرپسند پہنچے اور کورونا پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے دکان بند کرا دی، پڑوسی دکاندار غیر مسلم تھا ،اس نے غنڈوں سے ڈرتے ڈرتے پوچھا کیا میں بھی دکان بند کردوں؟شرپسندوں نے کہا نہیں نہیں تم دکان کھولی رکھو، مسلمانوں کی وجہ سے کورونا پھیل رہا ہے، ہمارا نمبر نوٹ کرلو اگر کوئی مسلمان دکان کھولے تو ہمیں خبر کردینا۔
3- 4؍اپریل کو کرناٹک کے باگل کوٹ ضلع کے بدری گاؤں میں چار ماہی گیر کرشنا ندی میں مچھلی پکڑنے آئے تھے،اچانک ہی گاؤں والوں نے انہیں گھیر لیا، ہندو ماہی گیروں کو تو چھوڑ دیا لیکن مسلمانوں پر کورونا پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے انھیں زدوکوب کرنا شروع کردیا، وہ لوگ گڑگڑاتے رہے مگر ہجوم پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
4- اسی دن صوبۂ کرناٹک کے امروتاہلّی میں یوگیندر یادو کے "سوراج انڈیا” سے وابستہ زرّین تاج نامی سوشل ورکر اپنے بیٹے تبریز کے ساتھ ایک بستی میں لاک ڈاؤن متأثرین میں راشن تقسیم کر رہی تھیں، اچانک ہی 20۔25؍ غنڈے وہاں پہنچ گئے اور وائرس پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں کو کھانا مت بانٹو، اپنے لوگوں میں بانٹو، تمہیں لوگوں سے کورونا پھیل رہا ہے، تبریز نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے ان سے بحث نہیں کی اور دوسری بستی میں چلے گئے لیکن شرپسندوں کی ٹولی نے وہاں بھی ان کاپیچھا نہیں چھوڑا اوران پرشدید حملہ کردیا، اس حملے میں تبریز کے سر اور ہاتھ پر 6؍ ٹانکے آئے ۔
5- 4؍اپریل کو رامپور کے قصبہ دڑھیال میں پنجاب اینڈ سندھ بینک سے پیسہ نکالنے والوں کی بھیڑ لگی تھی، اچانک ہی کچھ پولیس والے وہاں پہنچے اور لائن میں لگے ہوئے ایک مشرع مسلمان کو تبلیغی کہہ کر نکالااور گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ تمہاری وجہ سے کورونا پھیل رہا ہے ،یہ کہہ کر سر عام خوب پیٹا۔
واضح ہوکہ اس طرح کی بہت ساری اہم خبروں کواکثر نیشنل میڈیانےکوئی توجہ نہیں کیونکہ یہ سب ان کی منشاکے عین مطابق ہورہاتھا اورجو خبریں چلائیں وہ کتنی ’’اتھینٹک‘‘تھی ،لوکل انتظامیہ نے ہی ان کی پوپ کھول کررکھ دی ،ملاحظہ فرمائی
6- یوپی کے ایک مشہور ہندی روزنامہ نے فیروزآباد میں 6؍جماعتی افراد کے کورونا پوزیٹو ہونے کی جھوٹی خبر
 چھاپی بعد میں ضلع پولیس نے اس خبر کی تردید کی۔
7- ملک کی معروف نیوز ایجنسی ANI نے نوئڈا میں کرونٹائن کئے گئے جماعتی افراد کے خلاف فرضی خبر چلائی، بعد میں نوئڈا کے ڈی سی پی (DCP) اپنے ٹیوٹر ہینڈل سے ANI کو ٹیگ کر کے لکھا کہ آپ نے غلط اور فرضی خبر چلائی ہے، تب جاکر اے این آئی نے وہ خبر ڈلیٹ کی۔
8- بدنام زمانہ زی نیوز چینل نے ہماچل پردیش میں 11؍ جماعتی افراد کے کورونا پوزیٹو ہونے کی خبر چلائی حالانکہ پورے صوبے میں محض ایک ہی کورونا متأثر ہے، بعد میں جب افسران نے اس جھوٹی خبر کی تردید کی تب جاکر چینل نے معافی مانگی۔
9- رامپور کے قصبہ ٹانڈہ میں 15؍ جماعتی تبلیغی مرکز دہلی گئے تھے جس کی وجہ سے انہیں CHC میں کرونٹائن کیا گیا، ان لوگوں کے کھانے پینے کی ذمہ داری مقامی افراد نے لے رکھی ہے لیکن اس کے بعد بھی ایک ہندی روزنامے نے یہ جھوٹی خبر شائع کی کہ جماعتی مرغ اور بریانی مانگ رہے ہیں۔
مسلم مخالف خبریں ڈھونڈنے یاچلانے میں میڈیاجلد بازی کامظاہرہ اس لئے کرتا ہے کہ جب تک خبروں کے مبنی برحقائق ہونے کی تحقیق ہوگی تب تک تو نفرتوں کی اچھی خاصی کاشتکاری ہوچکی ہوگی اوراس کازہرسماج میں اپنا اثر دکھا چکاہوگا، بعد میں ’’کھنڈن‘‘کرکے ’’کھیدبیکت‘‘کرلینے میں کیاجاتاہے، اصل کام تو مسلم مخالف ایجنڈے کوفائدہ پہنچاناتھا، سو تو ہو چکا، ویسے بھی اب مودی حکومت میں اس کی نوبت کم ہی آتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.