"الحمد للہ علی کل حال”، "ہر حال میں اللہ کا شکر اداکرنا”

0 123

نقاش نائطی
+66504960485
(کسی انجان شخص کی لکھی تحریر کو کچھ تبدیلی اور اضافے کے ساتھ اپنے قارئین کے سامنے پیش کررہے ہیں)
ایک گاؤں میں ورموکس (vermox) پیٹ کے کیڑے مارنے کی دوا بہت بکنے لگی۔ پورے ضلع میں استعال ہونے والی ‘ورموکس’ صرف  ایک چھوٹے سے گاؤں میں بک رہی تھی۔
دوا بنانے والی کمپنی بھی حیرت زدہ رہ گئی۔ کمپنی کے "ایم ڈی” نے خود گاؤں وزٹ کرنے کی ٹھان لی۔مصیبتیں جھیل کر، دھکے کھا کر، گرمی میں صحرائی گاؤں گیا تو پتہ چلا کہ چھوٹے سے گاؤں میں کوئی ڈاکٹر تو نہیں ہے، ایک  کمپاؤنڈر ہے، جو  کسی ڈاکٹر کے پاس کچھ سال گزارنے کے بعد، یہاں آکر اپنا دواخانہ کھولے بیٹھا ہے۔
کمپنی کے بندے نے اپنا تعارف کرایا اور آنے کی وجہ بتائی تو کمپاؤنڈ نے اسکو وہیں خاموش بیٹھنے کو کہا اور مریض دیکھنا شروع کردیئے۔
پہلا مریض آیا۔بولا کہ ڈاکٹر صاحب کل باسی روٹی کھالی تھی تو اب میرے پیٹ میں درد ہے۔ کمپاؤنڈر نے، نسخے میں ورموکس لکھی اور بھیج دیا۔دوسرا آدمی چوٹ کے ساتھ  آیا۔ بولا کہ ناریل کے درخت پر چڑھا تھا، گرگیا۔ کمپاؤنڈر نے اسکو بھی ورموکس لکھ دی تیسرا آدمی ناک پہ چوٹ کے ساتھ آیا۔ بولا کہ بھینس کا دودھ نکال رہا تھا تو بھینس نے ٹانگ ماردی۔ کمپاؤنڈر نے اسکو بھی ورموکس تجویز کرکے بھیج دیا۔
کمپنی کا ایم ڈی بول اٹھا کہ ان سب کو ورموکس کی کیوں ضرورت پڑی۔؟
کمپاؤنڈر:- پہلے بندے کو کیڑا تھا تو باسی روٹی کھالی۔ دوسرے کو کیڑا تھا، تو ناریل کے درخت پر چڑھ دوڑا۔ تیسرے کو بھی کیڑا ہی تھا کہ بھینس کی ٹانگ کے پاس بیٹھ گیا۔ غرض، یہاں، ہر کسی کو خود ہی کیڑا ہوتا ہے جو مرض بھی پیدا کرتا ہے۔
کمپنی کا ایم ڈی، خاموشی سے اٹھ کر جانے لگا، توکمپاؤنڈر نے ایک پرچہ پر "ورموکس” لکھ کر اسکے ہاتھ میں بھی تھما دیا۔
ایم ڈی نے تعجب سے پوچھا ہائیں ! مجھے کیوں ورموکس دی؟
کمپاؤنڈر بولا:-اچھی خاصی تمہاری کمپنی کی دوا بک رہی تھی تو تمہیں سکون کرنا چاہئیے تھا۔مگر تمہیں بھى کیڑا لگا تھا، جس نے بیٹھنے نہ دیا، اتنی تکلیفیں جھیل کر اتنے دور دراز گاؤں آن دھمکے۔
پینسٹھ سالہ کانگریس راج میں اچھا خاصہ ملک چل رھا تھا ہم بھارت واسیوں کو بھی تبدیلی کے کیڑے نے کچھ اسی طرح ہی کاٹا تھا کہ ہم کسی چائے والے کے کہے "اچھے دن آنے والے ہیں” اور "سب کا ساتھ سب کا وکاس” کے دل لبھاونے وعدوں پر بھروسہ کر، اپنے لئے اچھے دن لانے چلے تھے، کے بدلے میں ہمیں ملے یہ برے دن، اس پر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹہرانے ہی میں ہم مست ہیں۔
نربھیہ کانٹ کے بعد سول سوسائیٹی والوں نے انڈیا گیٹ پر موم بتی مارچ کیا شروع کیا کیاکہ  مہاراشٹرا سے آنا ہزارے کچھ لوگوں کے ساتھ جنتر جنتر پر کانگریس حکومت کے خلاف دھرنے پر بیٹھ گئے، ہم 137 کروڑ دیش واسیوں نے آرایس ایس کے اس ایجنٹ اناہزارے میں بھی فرنگیوں سے بھارت دیش کو آزاد کرنے والے مہاتما گاندھی  کی شبیہہ   دیکھ لی اور کانگریس کے خلاف چائے والے کو دیش کی سپتھا سونپنے کا کیڑا پورے دیش واسیوں کو لگ گیا۔ آنا ہزارے کے ساتھ ہمہ وقت جنتر منتر پر دھرنا دینے والے کیجریوال کرن بیدی اور بابا رام  دیو آج کہاں سے کہاں کس اونچائی پر پہنچ گئے سب دیش وادیوں کے علم میں ہے، لیکن پینسٹھ سالہ لمبے کانگریسی دور میں سینچا اور سنوارا گیا مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ کے 50 لمبے سالہ زمام  حکومت میں،  اپنے وقت کا سب سے وسیع اور  طاقت ور اکھنڈ بھارت،اپنے 27 فیصد جی ڈی پی کے ساتھ، سونے کی چڑیا مشہور چمنستان بھارت آج 56″ سینے والے مہان  سنگھی مودی 6 سالہ راج میں، اپنے  منفی 24 فیصد جی ڈی پی کے ساتھ، بھارت کے پڑوسی غریب ممالک، نیپال،سری لنکا، مالدیپ، بنگلہ دیش، بھوٹان، برما، پاکستان،  افغانستان کے مقابلے معشیتی طور تباہ و برباد ہوچکا ہے اب  اس گنوار کمپاؤنڈر  کے طریقہ علاج مطابق ہم تمام 137 کروڑ بھارت واسیوں کو بھی،چائے والے کے ہاتھ میں سونے کی چڑیا بھارت تھما دینے کی پاداش میں،   پیٹ کے کیڑے مار دوائی ورموکس  کیا کھانی پڑیگی؟ وما علینا الا البلاغ

Leave A Reply

Your email address will not be published.