عصرِحا ضر میں مطالعۂ سیرت کی ا ہمیت و مقصدیت

0 139

کالم نویس: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ ضیفؔ
بابانگری کنگن کشمیر
+919541060802
حضور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے بھی ہر زمانے اور ہر ملک میں نبیؑ اور رسولؑ بھیجے گئے اور وہ پیغمبر مخصوص اپنی اپنی قوموں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے۔ اور آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت اللعالمین بنا کے بھیجا گیا تا کہ وہ پوری دنیا کے لیے قیامت کے دن تک اپنی زندگی یا سیرت نمو نے کے طور پر چھوڑجائیں۔جب نبی اکرم کو یہ مقام حاصل ہوا تو پھر ہما رے لئے ،ہم سے پہلے اور بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے ضروری ہو گیا کہ ہم حضو اکرم کی زندگی جسے ہم ”سیرت “ کی مخصوص اصطلاح سے مو سوم کرتے ہیں سے اپنے ہر چھوٹے اور بڑے مسلے کے حل اور دین ودنیا کی کا میا بی حاصل کر نے کے لیے نصیحت یا سبق حا صل کریں۔حضور رسالت مآب کی سیرت کا مطالعہ تاریخ کی کسی کتاب کا مطا لعہ نہیں ،بلکہ یہ قرآن مجید کے اصولوں اور احادیث مبارک کے قانون کی صحیح اور پوری تشریح یا تفسیر ہے ،اور اس مقدس دین کی معراج ہے۔ جس کی شمع سب نبیوںؑ نے اپنے اپنے دور میں روشن کی۔اسی لئے سیرت کے مطالعے یا سماعت کا سب سے بڑا مدعا یا مقصد یہی ہے کہ انسانیت کے سامنے پھر ایک بار اس مشعل کو روشن کیا جائے، جس نے آج سے تقریباًچودہ سو چالیس سال قبل چھٹی صدی عیسوی میںاپنے نور کی کرنوں سے جہالت کے اندھیروں کو مٹا کے چہار سو نور ہی نور بکھیر دیا تھا،اگر ہم اس نقطہ نظر یا مقصد کے بیش نظر ہم سیرت کا مطالعہ کریں گے تو پھر ہم اصولوں کی پابندی ،فرض کی شناخت، انسانیت کی خدمت، برابری اورانصاف کے درس، سچائی اورایمانداری کی حمایت ہرقسم کی سماجی برائی اور خرابی کے خلاف ذہنی،نظریاتی،یا علمی لڑائی لڑتے وقت کسی بھی مسئلے میںبڑی بہادری کے ساتھ سینہ سپر ہو جائیں گے۔مگر ایسا کرنے یا ہونے کے لئے حضورپاکﷺ کے پیغام عظیم کو نظام زندگی کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔جب ہم پیغمبر کی مقدس سیرت کونظام زندگی کی نظر سے دیکھیں سمجھیں گے اسی صورت میں ہم اپنی ذات کے ساتھ ساتھ قومی سیرت کو بھی صراط مستقیم کی سمت موڑسکتے ہیں۔لٰہذاس حقیقت کو قبول کرناہی پڑے گا کہ حضرت محمدﷺکی سیرت ایران،ہندوستان یا مصر و روم جیسی قدیم تہذیبوں کی کوئی خیا لی داستان نہیں اور نہ ہی ذہنی لذت مہیا کر نے والا ادب،بلکہ یہ سیرت قرآن کریم کی حقیقی اور عملی تشریح ہے۔
عصر حاضر میں حضور کی سیرت کے سوا کسی فرد واحد کی زندگی اس قابل نہیں کہ اس دور کے انسان اور انسانی معاشرے کوبرے کاموں اور جھوٹے یا بیہوداہ نظام تمدّن سے آزاد کر کے ذہن،خیالات،عادات واطوار، رسم ورواج، طرزِحکومت اور معاشی نا برابری تبدیل یا ختم کر کے بدلے میں انصاف،رحم، ترس اور نظام مساوات (بلحاظ روزگار معاشرت) کی بنیاد ر کھ سکے۔در حقیقت حضور کی سیرت ہمارے اور ہمارے بعد آنے والی نسلوں کے لئے مکمل ضابطۂ حیات ہے،جو سماجی،سیاسی،اقتصادی،تعلیمی قدروں کا ایسا خزینہ ہے کہ اس میں حق اور فرض کی وضاحت،سماجی اور خاندانی مسا ئل،اولاد کی تر بیت کے طریقے،فیشن اور پردے کی تعلیم،والدین اور اولاد کے حقوق،مرد و خواتین کی رہنمائی،ناپ طول میںکمی بیشی کرنے والوں کے لیے حکم،وراثت کے قوانین،نوع انسانی کے لیے علماءکا کردار اور ذمّہ داریاںاور ہر چھوٹے بڑے،نیک بد،عالم جاہل،امیر غریب،گورے کالے ،عربی عجمی کی دنیاوی زندگی کے بروز حشر غیر امتیازی میزان کی بھی خبر ہے۔اس لئے میں ذمّہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ رسول اکرم کی سیرت ہر انسان کے لئے ایک اسکول،مدرسہ یا تر بیتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے جس سے ایک سوداگر ،مزدور، آفیسر،استاد،مذہبی رہنما،(مولوی)سیاسی لیڈر، ادیب، جج، وکیل، صحافی،آقا،غلام، چرواہا، کسان وغیرہ زندگی کے ہر شعبے سے وا بستہ افراد رہنمائی ،عقل اور علم و حکمت کے اسرارورموز جان سکتے ہیں۔دور حاضر اپنے پیچیدہ مسائل کے پیش نظرعام سیرت کے سائنٹفک مطالعے کی اپیل کرتا ہے تاکہ طالب سیرت مختلف قسم کی عالمی تحریکات کو رسول اکرم کے پیغام کی روشنی میں دیکھ پرکھ کے ان عالمی تحریکات اور رجحا نات کے ساتھ ساتھ اس عظیم دورِِ تاریخ کو بھی ذہن نشین کر سکے جس کی ابتداءحرا ءکے غار سے (اِقرَا بِسمِ رَبک الذی خَلق۔۔۔)کی گئی اور پھر ہجرت ِ یثرب کے بعد میثاقِ مدینہ کے مسودے کی صورت میں قیامت کی صبح تک پختہ ثبوت رہ گیا کہ صرف حضورﷺ ہی انسانی تہذیب و تمدّن کے قائد ا عظم ہیں۔
بلاشبہ سیرت اپنا مواد قرآن مجید اور کتب حدیث سے اکٹھا کر تی ہے اور قرآن و حدیث کی تفہیم،تفسیر اور تشریح علم سیرت کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی الغرض مفسّر اور محدث دونوں کے لئے لازم ہے کہ ا نہیں علم سیرت کے ہر پہلو سے آگاہی ہو۔درحقیقت قرآن کریم نبی پاکﷺکی حیات طیّبہ کے علم کا بنیا دی منبع ہے،مثلاً یہ واقع ہر ایک کے علم میں ہے کہ ایک دفعہ حضور کے اخلاق کے متعلق کسی نے حضرت عائشہؓ سے استفسار کیا تو ام المومنینؓ نے فر مایا ”کان خلّقہ القرآن“مطلب یہ کہ قرآن کریم حضور کے اخلاق کی صحیح اور سچی تصویر ہے۔ یہ سچائی ہے کہ خدا کی وحدانیت کو مانتے ہوئے حضوراکرم کی رسالت کی تصدیق ایمان کا ستون ہے جس کے بغیر اسلام کے دروا ز ہ کا داخلہ ممنوع ہی نہیں ناممکن بھی ہے نیز خدا کی بندگی، رضا،اور بخشش بھی نصیب نہیں ہو سکتی۔یہ مقام غوروفکر ہے کہ جن برگزیدہ ہستی کا مبارک اسم لئے بغیر یا اس نام کا کلمہ پڑھے بغیر ہمارا ایمان نا مکمل ہے،کیا اُن کی زندگی یا حالات سے لاعلمی ہمارے لئے بدبختی یا جرم نہیں تو کیا ہے؟
میںیہ بات وثوق سے کہتا ہوں کہ اسلامی تہذیب گزشتہ تہذیبوں کی شاہد،ان کی روح اور جدید تہذیب کا قدیم تہذیبوں سے رابطہ بھی پیدا کر تی ہے۔لہٰذاعصرِ حاضر میں حضرت محمدﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ تہذیبی تا ریخ کی روشنی میںکرنے کی ضرورت ہے۔مثلاً دیگر اہلِ کتاب اور مسلمانوں کی مذہبی تعلیم اور ان کاالہامی کتاب کاسرچشمہ ایک ہی ہے۔ یا یہ ایک ہی شمع کی لو ہیں ۔مزید یہ کہ مسلمان تمام انبیاءکو ایک ہی دین کے بنیاد گزار یا دائی مانتے ہیں۔دورِ جدید میں ان اہل کتاب اور مسلمان دنیا کے درمیان تہذیبی تصادم جس طرح کی خطر ناک صورت حال اختیار کر کے سامنے آیا ہے ،علمِ سیرت اسے کافی حد تک کم یا ختم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔موجودہ دنیا کے تمام دانشور چاہے وہ کسی بھی مذہب، فلسفہ یا نظریہ کے پیرو کار ہوں اگر غیر جانب داری،سچائی اور نیک نیتی کے ساتھ سیرت کا مطالعہ کریںتو وہ اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ امنِ عالم کے قیام کے لئے جومدد حضورﷺکی زندگی سے لی جا سکتی ہے، وہ دنیا میں کسی ایک فرد واحد کی زندگی یا قانون سے نہیںلی جا سکتی۔مگر اس کام کے لئے دانشور حضرات کوحضور رسالت مآب کی انسانی محبّت،تعلیم اور قومی و بین الاقوامی نظریۂ وحدت اورکوششوں کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ہاں یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس تعلیم یا نظریہ کی تفہیم اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک ہم ایک تہذّیب، تمدّن ،ثقافت اور ایک خدائی پیغام کے صحیفۂ واحد یا حصےّ کے طورپر نہ کریں۔ یہ دورِ عالم گیریت ہے ۔ سائنسی ترقی نے دنیا کو سمیٹ کر عالمی گاؤں(GLOBAL VILLAGE) بنا دیاہے۔ عالم گیریت کوعملانے میں ریڈیو۔ ٹیلی ویژن، ٹیلی فون، کمپیوٹر، موبائل فون اور انٹر نیٹ کااہم کردار رہا ہے۔بین الاقوامیت یا عالمگیریت کے دورِ حاضر میں پیغام رسانی کے ان ذریعوںنے نوع انسانی کے لئے مفید ثابت ہو نے کے ساتھ ساتھ بہت ساری خرابیاں بھی پیدا کی ہیں،جن میں امن، سلامتی، برابری اور انصاف جیسی اعلیٰ تہذیبی قدریں زوال پزیرہونے کے علاوہ شخص سماج اور سماجی رشتوں کی شناخت کے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں،صرف اتنا ہی نہیں سائنسی علم وایجادات کے غلط استعمال کی بدولت ہماری دنیا میں تشویش ناک حد تک خطر ناک قسم کے سائنسی اور جرا ثیمی ہتھیار بنا نے کی دوڑ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ڈر اور خوف بھی ہماری دنیا کا بڑا مسئلہ ہے۔دور جدید کی ان تمام مشکلات کا حل ،انسان اور انسانیت کی بہتری کی راہ محسن انسا نیت کی پاک سیرت میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح مغر بی تمدّن نے علوم سائنس کے مختلف شعبوں میں جو تر قی کی ہے غیر جانب دار اور ایماندار سائنسی محقق اور سماجی وسیاسی تاریخ کے علماءجانتے ہیں کہ اس کے پسِ پُشت وہ علمی ،تحقیقی اور فکری انقلاب ہے جس نے علم وفن کے میدان میں عہدِ جدید کی شروعات کر کے دنیا میںابن الہیثم، الرازی، ابن سینا، الکندی، ابن رشد، الزعرابی، البیرونی اور عبد الرحمان الصوفی وغیرہ جیسے عظیم سائنس دان اور علوم جدیدیہ کے ماہر ین پیدا کئے جنھوں نے سائنسی وسماجی علوم کا ضخیم خزینہ چھوڑا ہے۔در حقیقت عرب کے صحراؤں اور بیا بانوں میں پیدا ہونے والے ان اسکا لروں کی ذہنی تر بیت کا اہم اور بڑا ذریعہ حضور رسالت مآب کی سیرت مبارک ہی تھی،اور موجودہ عہد میںیہ سیرت مبارک ہماری ذہنی تر بیت کے لئے اکسیر اور طبیب ثابت ہو سکتی ہے ۔
تعلیم اور روز گار کے آپسی تعلق سے ہر انسان آگاہ ہے،غربت ،بےروزگاری اور انپڑھ طبقے کا استحصال جو مو جودہ معاشرے کا نا سور ہے اُس کی اہم وجہ علم وفن سے لا تعلقی ہے۔پیشہ ورانہ تعلیم ،کار خانوں اور صنعتوں کی کمی،نیا اقتصادی نظام جس کی بنیاد سودی کاروبار پر ہے۔کمزور ممالک کا سر مایہ دار قوموں کی طرف سے اپنے تجارتی اور فوجی (جائزو ناجائز) مقاصد کے لئے استعمال وغیرہ متعدد ایسے مسائل ہیں جن کاحل نظام زکوٰة،سودورشوت کی نفی اور مساوی تجارتی مواقعوں کی فرا ہمی میں ہے۔اس سارے قضیے کا حل رسول اللہ ﷺکی سیرت میں موجود ہے جو نئی نسل سے مطالعے کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمارا عہد صحافتی انقلاب کا عہد ہے،دنیا کی تقریباًہر چھوٹی بڑی زبان میں تمام تر موضوعات پر اخبارات اور رسائل ہزاروں کی تعداد میں شائع ہورہے ہیں،مگر دوسری طرف آزادی اظہار یا صحافت کی آزادی پہ قدغن کے ساتھ ساتھ ( Social Media)پہ نفرت،بد زبانی اور فحش موادِ د نیایت تیز رفتا ری سے پھیلا یا جا رہا ہے،جس کی بدولت نوجوان نسل کی قوت دانش اور روحانی قدریں پامال ہوئی ہیں۔اس اہم اور سنجیدہ مسئلے کے پا ئیدار حل کی خاطر موجودہ معاشرے کے ہر فردسوشل میڈیا کے اثرات پر کام کر نے والے اسکالروں،صحافتی آ زادی اور جمہوری حقوق کی خاطر کام کرنے والی تنظیموں کے لئے حضور کی سیرت پاک مشکل کشائی یا رہنمائی کا کام کر سکتی ہے۔ بعض مشتشرقین نے پیغمبر کی سیرت طیبہ اور اسلامی تاریخ کو ذاتیات اور بغض کی بنیاد پر جس غلط انداز میں پیش کیا ہے اسے کم تعلیم یافتہ اور دین اسلام سے نا بلد لوگوں کے اذہان کچھ شکوک وشبہات میں مبتلا ہو گئے ہیں،جنہیں دور کر کے دین اور پیغمبر اسلام کی صحیح اور سچی شبیہ عالمی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے،مگر ہم اس کے اہل اسی وقت ہو سکتے ہیں جب ہم اپنے بچوں کو چاند اور کوہ قاف کی پریوں کے جھوٹھے قصّے،الف لیلہ،کلیلہ ودمنہ،پنج تنتر،طلسم ہوش ربا،فسانہ عجائب، سیف الملوک بدیع الجمال جیسی افسانوی داستانوں کے بدلے رسول اللہﷺ کی سیرت طیبہ سے سچی اور علم و حکمت کے موتیوں سے مزّین سطے واقعات سنائیں اور پڑھائیں گے،یہ عمل ہمارے لئے فرض کا حکم رکھتا ہے۔فرض اس لئے کہ حضرت محمد کے بعد بابِ نبوت ووحی بند ہو گیا ہے اور دین اسلام کو اپنی حقیقی شکل وصورت میں موجودہ اور آنے والی نسل انسانی تک پہنچانے اور سکھا نے کی ذمّہ داری اس امت کے ہر فرد کی ہے ،اور یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لئے سیرت کا علم نا گزیر ہے۔(ختم شُد)۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.