درخشاں ستارہ ڈوب گیا

0 81

 

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف اپنے لیے جیتے ہیں مگر کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو دوسروں کے لئے زندہ رہتی ہیں ۔ان کی زندگی کا مقصد ملک و ملت اور انسانیت کی خدمت ہوتا ہے ۔دوسرا پارہ جستجو و آرزو ہوتے ہیں وہ ایسے شجر کی طرح ہوتے ہیں جو سایہ دار بھی ہوتا ہے اور پھل دار بھی ۔جن کی زندگی خلق خدا کے لئے سرچشمہ فیض ہوا کرتی ہے ۔ محترم ڈاکٹر شفیع پورکر صاحب بھی ایسی ہی ہستیوں میں سے تھے ۔انہوں نے اپنی زندگی ملک و ملت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی ۔وہ اعلیٰ انسانی اقدار کے حامل انسان تھے ۔انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں سماء کی اصلاح اور تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی ۔وہ صحافت کے میدان میں پارسا تھے اور اپنے قلم کی جنبش سے انہوں نے بیداری کی ایک لہر پیدا کرنے کا اہم کارنامہ سرانجام دیا ۔ابھی وہ قوم و ملت کی خدمات میں ہمہ تن مصروف تھے کہ اچانک دارفناء سے داربقاء کی طرف رحلت کر پورکر خاندان، آواز گروپ کو ہی نہیں بلکہ پورے کوکن کے صحافتی،سماجی،دینی، تعلیمی حلقوں کو افسردہ کرگئے۔ ہم سے جدا ہوکر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ان کا اس طرح ہم سے جدا ہو جانا پوری قوم کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔


کوکن کی ملت اسلامیہ اپنے ایک مخلص خادم،بے باک صحافی،دیندار قلمکار،بے لوث رہنما اور باہمت مدبر سے محروم ہوگئی۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر نہیں کیا جا سکتا ۔کوکن کے علاقے میں سماجی سیاسی مذہبی اور تعلیمی بیداری کے لئے ان کی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔یہ ان کا سب سے اہم کارنامہ ہے کہ انہوں نے کوکن کے دیہی علاقوں میں اردو اخبار نکال کر اسے کامیابی سے ہمکنار کیا اور لوگوں کی زندگی میں انقلاب لانے کی کوشش کی ۔یہی نہیں اردو کے ساتھ انھوں نے مراٹھی میں بھی ہفتہ روزہ اخبار نکال کر بے زبانوں کو زبان دینے کی کوشش کی ۔ان کے اخبارات صحافتی اخلاقیات کے حامل ہیں ۔انہوں نے اختیارات میں شرعی پابندیوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسے اشتہارات سے پرہیز کیا جو عریانیت کے ذیل میں آتے ہیں ۔بغیر استہارات کے اخبار نکالنا بہت مشکل کام ہے لیکن لیکن ڈاکٹر شفیع صاحب نے اپنی تمام تر کوششیں وقف کر کے ان اخبارات کو جاری رکھا ۔مرحوم درد و داغ و جستجو وعمل پیہم ،ایثار و قربانی کا پیکر تھے۔ آپ کے سر چشمہ فیضان سے اپنا ہو یا پرایا سبھی سیراب ہوئے ۔وہ قومی اتحاد کے زبردست حامی تھے ۔قومی اتحاد اور انسانی ہمدردی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں ۔ان کے چلے جانے سے کوکن میں ماتم کا ماحول ہے ۔ایسے ہر دلعزیز انسان کا اچانک سے جدا ہو جانا سبھی کے لئے سوہان روح ہے۔
ہفت روزہ اخبار "کوکن کی آواز”کی ابتدا آپ کی ہمت حوصلہ کی عظیم نشانی ہے،کوکن میں ایسا کوئی اردو اخبار نہیں تھا۔جوکوکنی عوامی مسائل کو حکومت کے ایوانوں تک پہنچائے،کوکن میں موجود دینی وعصری تعلیم گاہوں کی سرگرمیوں کو عام کرے۔دین کے بنیادی چھوٹے بڑے مسائل عام فہم انداز میں نشر کرے۔اور سماجی وفلاحی اداروں،جماعتوں اورتنظیمیوں کی خدمات کو عام و خاص کے سامنے لائے کوکن سے دور رہنے والے کوکنی احباب کو کوکن کی خبروں و سرگرمیوں سےروشناس کرے۔ایسے اخبار کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی تھی۔لازم تھا کہ کوکن کا ہی کوئی حوصلہ مند انسان اس اہم کام کو انجام دینے کے لئے آگے بڑھتا۔ ڈاکٹر شفیع پورکر صاحب کا انتخاب ہوا اور انہوں نے اس اہم قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگادی۔ اپنے اخبار کے ذریعہ کوکن کے نئے قلمکاروں صحافت میں قدم رکھنے والوں اور خواتین کو بھی اردو صحافت و مضمون نویسی کے مواقع عطاکئے۔میں خود اس اخبار سے جڑی رہی، اور کئی لوگ آگے چل کر صحافی و کالم نویس بن گئے۔جن کے مضامین کو بڑے اخبارات اور رسائل میں اہمیت والی جگہ ملنے لگی۔
ڈاکٹر شفیع پورکر صاحب بہت ہی نیک انسان تھے بلکہ کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے وہ لوگوں کا درد رکھنے والے زندہ دل اور مخلص تھے۔ ان کا ذہن قوم و ملت کی فکر کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا۔ ان کی فکر میں بڑی سنجیدگی و متانت اور خیالات میں انتہائی پاکیزگی تھی. ایسے دور میں جب سرزمین کوکن علمی شعوری اور فکری سطح پر ترقی یافتہ نہیں تھا اُس دور میں ڈاکٹر شفیع پارکر صاحب نے کوکن میں اردو صحافت کا آغاز کیا۔جس وقت انہوں نے یہ کام شروع کیا اس وقت کوکن جیسے علاقے بہت دشوار تھا لیکن ان کی کوشش، محنت۔ لگن، جدوجہد اور عزم مصمم نے ایک اردو اسلامی اور قومی صحافت کا مضبوط ادارہ قائم کردیا جو ملک و بیرون ملک کوکن کے مسائل وہاں کی ثقافتی سرگرمیوں اور تعلیمی و سماجی مراحل کا ترجمان ہے، اردو اخبار کے بعد انہوں نے مراٹھی اخبار بھی شروع کیا ” رائے گڑھ چا آواز ” جو کہ ضلع کے مسائل اور احوال کی مقامی زبان میں نمائندگی کرتا ہے، یہ مراٹھی اخبار شروع کرنا اور اسے جاری رکھنا یہ درحقیقت ایک مسلم شخصیت کی مراٹھی علاقوں میں بڑی کامیابی ہے۔ ان کی صحافت کوکن اور مہاراشٹر کے لحاظ سے تاریخ ساز صحافت رہی جس کی اہم ترین خوبی زمین سے جڑی صحافت تھی.
ان کے اداریوں کے مجموعہ کی اشاعت جب ہوئی تھی۔اداریوں کا وہ مجموعہ چھ سو اداریوں میں سے ۱۰۰ اداریے منتخب ہوکر شائع ہوا تھا اس کے اجراء پر بہت ہی معروف اور سینئر صحافی شمیم طارق صاحب نے تاثرات کا اظہار کیا تھا۔ جب علاقے کا آرگن اور صحافتی ہتھیار ایسے مسلمان کے ہاتھ میں ہو جو قوم پسند مسلمانوں کا ہمدرد، بے لوث اور بے لاگ بھی ہو تو یقینًا اس علاقے میں مسلمانوں کی بہترین نمائندگی ہوگی۔ یہ کارنامہ مہاراشٹر میں ڈاکٹر شفیع پورکر صاحب نے انجام دیا اس طرح کہ لوگوں کو کوکن جیسے علاقے میں ان کاموں کی کامیابی کی توقع تک نہیں تھی لیکن انہوں نے اپنی بے لوث کوششوں کے ذریعے اسے کامیاب کر دکھایا اور ایسے کامیاب ہوئے کہ پھر "بہو بھاشکھم مسلم پترکار سنگھٹنا ” کے نائب صدر ” راشٹریہ ایکاتمتا فیلوشپ پرتیبھا ” ” اکھل مہاراشٹر پترکار و پَتر لیکھن ” ” مہاراشٹر اردو اکیڈمی ” جیسے کئی صحافتی و ادبی اداروں کے ایوارڈ یافتہ، ” سمپادک و پترکار سَنگھ مہاراشٹر ” کے ضلعی صدر، ” کوکن مراٹھی اردو پترکار سَنگھ ” کے صدر، اس کے علاوه مسلم اقلیتی تعلیمی بورڈ، آواز ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، اور کوکن اردو لائبریری اینڈ ریسرچ سینٹر جیسے کئی ایک اداروں کے وہ روح رواں ، اور اسی طرح انجمن دردمندان اور انجمن حمایت الاسلام سمیت کئی ایک تعلیمی و فلاحی اداروں سے وہ وابستہ تھے۔وہ جہاں سماجی خدمت گزار تھے۔ اردو ادب اور مراٹھی ساہتیہ کے حوالے سے معروف تھے۔ وہ دسویں بارہویں میں کامیاب ہونے والے پھر آگے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پروگرام منعقد کرتے تھے تاکہ تعلیمی بیداری مزید عام ہو۔کئی جوانوں بچوں کے علمی سفر میں انہوں نے تعاون کیا ہے ، اس طرح انہوں نے اپنے یہاں مسلم قوم کے ذہین اور باصلاحیت افراد کے اعتراف میں کبھی کسی بھی ذاتی اختلاف کو حائل ہونے نہیں دیا، بلکہ پوری قوت سے ہر سطح پر ہر مسلمان کے کامیاب ہونے کی حوصلہ افزائی بھی کی اور اخلاقی حمایت بھی دی ایسی نایاب صفات اور اپنی ذات میں انجمنوں کے سربراہ اور مخلص انسان سے آج کوکن محروم ہوگیا۔ڈاکٹر شفیع پورکر کی صورت میں کوکن نے خاص کر مہاڑ نے کیا کھویا ہے یہ آنے والے وقت میں سب کے لبوں پر ہوگا۔
ڈاکٹر شفیع پورکر صاحب نے اپنے پیچھے ایسی اولاد چھوڑی ہے جو ان کے لیے ہمیشہ صدقہ جاریہ رہیں گی۔ ان کے بڑے بیٹے دلدار پورکر ان کے سماجی و صحافتی کاموں میں نمائندہ اور قوم پسندی کے جذبات و دینی کاموں سے بھرپور ہیں۔ ان کے بیٹے مفتی رفیق پورکر صاحب صدر انجمن دردمندان و استاذ حدیث جامعہ حسینیہ عربیہ اپنی ذات میں ایک عظیم شخصیت ہیں ان کی نیک نفسی اور قوم کے لیے تڑپ واقعی اسوہ ہے۔ ان کے بیٹے محمد حنیف پورکر سوشل ریفارم اور علمی تعلیمی ترقی کے میدان میں مرحوم کے جانشین ہیں۔اللہ ڈاکٹر صاحب کے تمام بیٹوں اور ان کی بھی اولادوں کو مرحوم کے لیے ہمیشہ صدقہ جاریہ بنائے رکھے۔
اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے مشن کو آگے بڑھائیں اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے کام کریں ۔اور ان کے نصب العین حیات کو اپنا نصب العین حیات بناتے ہوئے قوم کی فلاح و بہبود کے لئے ہمہ تن مصروف ہو جائیں۔
رب کریم سے دعا ہے ڈاکٹر صاحب کی روح پر اپنے انعامات کی برسات فرمائے،اللہ رب العالمین ان کی مغفرت فرمائے اور جنت میں آعلی مقام عطا فرمائے۔ اللہ ان کی لحد کو کشادہ اور روشن کرے۔ آمین

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

سیدہ تبسم منظور ناڈکر (موربہ) ممبئی
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال نوائے ملت
9870971871

Leave A Reply

Your email address will not be published.