عالم عربی صہیونیت کی آغوش میں

0 33

*محمد اعظم ندوی*
*استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد*
[email protected]

فلسطین اور مسجد اقصی کا مسئلہ امت مسلمہ کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے،یہ وہ قطب نما ہے جوہمارے نقطۂ نظر کا رخ صحیح ہے یا غلط، ٹھیک ٹھیک بتاتا ہے،یہ ایک ترازو ہے جس میں امت کی وحدت اور قوت کووزن کیا جاسکتا ہے،مسئلۂ فلسطین کوحاشیہ پر ڈال دیناہمارے تفرقہ اورپسپائی کی علامت ہے،فلسطین،شہر قدس اور مسجد اقصی کے تعلق سے آپ کا کیا نظریہ ہے؟ اس کا فیصلہ اس ایک بات سے ہوجاتا ہے کہ آپ صہیونی وجود کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں،اگر آپ اس کو عالم عربی کے قلب میں ایک خنجرسمجھتے ہیں اور اسے مسلمانوں کی سرزمین کاغاصب وقابض مانتے ہیں تواس سے مقابلہ اور مزاحمت کو بھی درست قرار دیں گے،اور آپ کہہ سکیں گے کہ ہم فلسطین میں نہیں بستے؛ لیکن فلسطین ہم میں بستا ہے ،یہ آپ کے پختہ اسلامی شعور اور بیداری کی علامت ہوگی، اوراگر آپ ایسا سمجھتے ہیں کہ صہیونی ریاست کا وجودروا ہے؛اس لیے اسرائیل کے نام سے ایک یہودی ریاست کو تسلیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اوریہ کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں مذہبی اعتبار سے کوئی حرج نہیں اوریہ کوئی عار اور ذلت کی بات نہیں تویہ سنگین غلطی اوربڑے خطرہ کی بات ہے، کسی صاحب نظر نے کہا تھا:’’ فلسطین کا مسئلہ ’’خافضۃٌرّافعۃٌ‘‘ہے(کسی کو اونچااور بالا کرنے والا اور کسی کو نیچااور پست کرنے والاہے) جس نے اس کی حمایت کی وہ سرخرو ہوا،اور جس نے اس کا ساتھ چھوڑا یا اس کے ساتھ خیانت کی وہ زرد رو ہوا‘‘۔
ثقافتی شکست کے اس دورمیں جس سے امت اس وقت دوچار ہے ، تیزی سے مسلم ممالک ’’تطبیع‘‘ کا راستہ اختیار کررہے ہیں،کیا آپ جانتے ہیں ’’ تطبیع‘‘(Normalization) کسے کہتے ہیں؟ تعلقات کو طبعی اور فطری بنیادوں پر استوار کرنا، آپسی رشتوں کو نارمل بنانا،دوسرے لفظوں میں اپنی ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر ذلت پر راضی ہوجانا اور ضمیرکا سودا کرلینا،موجودہ عرف میں عام طور سے مسلم ممالک کافلسطین کے خلاف اسرائیل کی حمایت میں جانا ’’ تطبیع‘‘کہلاتا ہے، اس کا سلسلہ اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب برطانوی سامراج کے اعلی سفارت کار مارک سائیکس اور بیروت میں فرانسیسی قونصلرجارج پیکونے مل کر ۱۹۱۶ء میں خلافت عثمانیہ کے ماتحت آنے والے مشرق وسطی کے علاقوں کو فرانس اور برطانیہ کے درمیان تقسیم کرلیا تھا،بعد میں سلطنت روس اور اٹلی کو بھی حصے ملے تھے،اسی کو سائیکس۔ پیکو معاہدہ یا سازش کہتے ہیں،ترکی میں یہودی نسل پرستوں نے ترک قومیت کا نعرہ بلند کیا، اور دنیائے عرب میں عیسائی قوم پرستوں نے عرب قومیت کا جدید تصور پیش کیا، فلسطین میں غیر قانونی ناجائز نسل پرست صہیونی ریاست اسرائیل کے قیام میں پہلی جنگ عظیم کے دوران طے پانے والے اس سائیکس۔پیکو معاہدے نے بنیادی عامل کا کردار ادا کیا۔
1917ء میںبرطانوی دفتر خارجہ کے سکریٹری آرتھرجیمز بالفور کے نام سے موسوم بالفور اعلامیہ کو بھی سائیکس۔ پیکو معاہدہ کی توسیع اور تسلسل سمجھنا چاہیے،جس نے خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے کئے تھے،اور بعض عرب حکمرانوں کو اس وقت بھی خود مختار حکمرانی کے سبز باغ دکھائے گئے تھے،اور ٹکڑیوں میں بانٹے گئے تھے، ان کوششوں کا باضابطہ آغاز ا س سے بھی پہلے ہوگیا تھا جب 1896ء میں سوئزر لینڈ کے شہر بازل(Basel)میں اسرائیل کے بانی صہیونی رہنما تھیوڈور ہرزل کی صدارت میںخفیہ کانفرنس منعقد ہوئی تھی،اور اس میں The Protocols of the Elders of Zion(یہودی پروٹوکولز)کے نام سے 24 نکاتی تجاویز منظور کی گئیں تھیں،اس پر بدستور عمل جاری ہے،اور عالم عربی میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے اس کوان خفیہ منصوبوں کا نفاذسجھنا چاہیے،واقعات کی کڑیوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
آج اس امت پہ ایسا وقت بھی آگیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بے وفائی، غداری،نفاق اور خیانت ایک نقطۂ نظر بن گیا ہے،اسرائیلی پارلیمنٹ(کنیست) کا کام ہے منصوبہ بنانا اور دوست عرب ممالک کا کام ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا،صہیونی طاقتوں نے 1948ء سے قبل ہی گریٹر اسرائیل کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے نیل (مصر)سے فرات(عراق) تک کا نعرہ لگایا،جس میںموجودہ اسرائیل، فلسطین،لبنان،سیریا،مصر،اردن،عراق،کویت،سعودی عرب،امارات،عمان اور یمن وغیرہ سب آتے ہیں،اسلامی تاریخ کے مراکز دمشق،بغداد،حرمین شریفین اور قاہرہ(دنیا کی ماں) سب داخل ہیں ،اس وقت کون جانتا تھا کہ اسرائیل کے نام سے کوئی ملک بنے گا جس کو دنیا تسلیم بھی کرلے گی،1967ء سے کچھ پہلے تک بھی کوئی مسلمان یہ تصدیق نہیں کرسکتا تھا کہ شہر قدس، فلسطین کے دیگر علاقے،جزیرہ نمائے سینا مصر،گولان کی پہاڑیاں اوران جیسے اہم جغرافیائی اہمیت کے حامل علاقے دشمن کے قبضہ میں چلے جائیں گے،1977ء سے پہلے تک یہ نہیں مانا جاسکتا تھا کہ دشمن سیاست،سفارت کاری اور سراغ رسانی میں پورے عالم عرب پر حاوی ہوجائے گا،اور اسی کی بات چلے گی،اوراکثر مسلم ممالک کے بارے میں وہی طے کرے گا کہ وہاں کون سربراہ رہے گا اور کون حکمرانی سے بے دخل کردیا جائے گا،عرب بہاریہ کا پرچم جب تک لہراتا رہا کیسا یقین جاگا تھا اور اس علم بغاوت کے سرنگوں ہونے سے پہلے کون جانتا تھا کہ دشمن کھل کر اظہار کرپائے گا کہ ہماری اسٹراٹیجی کے اعتبار سے بعض عرب حکمراں ہمارے لیے قیمتی سرمایہ ہیں،وہ ہمارے مفاد ات کے خادم اور مخلص دوست ہیں،ان سب کے باوجودصدی ڈیل سے پہلے یہ کہاں مانا جاسکتا تھا کہ بعض عرب ممالک کھل کر اسرائیل دوستی کا فخریہ اعلان کریں گے اور اس سے تقرب حاصل کرنے میں ان میں دوڑ ہوگی،لیکن یہ ساری فضیحتیں ہم دیکھ چکے۔الامان الحفیظ۔
13؍ اگست2020ء کو ابو ظبی اور تل ابیب کے مابین طے پانے والے سیاسی وسفارتی تعلقات پر مبنی معاہدہ نے راز سربستہ سے پردے اٹھا دئیے ہیں،یہ ان ناجائز تعلقات کی ابتدا نہیں، بلکہ مسلمانوں کی مقدسات کے ساتھ کی گئی چھپی ہوئی خیانتوں اور غداریوںکا ایک معمولی اظہار ہے، دنیا کو معلوم ہے کہ امارات اور اسرائیل کے درمیان رشتوں کی ڈوریاں بڑی مضبوط ہیں،اس کی تیاری بہت پہلے سے تھی، پہلے انہوں نے تمام سوشل اکٹیوسٹ اور مردان حر کو زندان میں رکھا، پھر یمن، لیبیا اور سیریا کی اسلام مخالف اور عوام دشمن یک طرفہ جنگی کاروائیوں کی تائید کی،اب جومعاملہ ٹیبل کے نیچے تھا،اوپر آگیاہے، امارات کے ولی عہد اور عملاً حاکم شیخ محمد بن زائد آل نہیان نے کئی برسوں پہلے بنے رشتہ کو اس کے فطری انجام تک پہنچاتے ہوئے سیاسی شادی کا اعلان کردیا، اور نوشہ وعروس کو تہنیت پیش کرنے میں اپنوں اور بیگانوں نے بے پناہ گرم جوشی کا ثبوت دیا،موجودہ متحدہ عرب امارات ایک جواں سال حکومت ہے،1971ء میں اس کا قیام عمل میں آیا، سلطنتوں کے لیے 50؍سال کی مدت عنفوان شباب سے بھی کم ہے، یہ سات ’’اِمارات‘‘(ریاستوں) یا’’ مشِیخات‘‘(چھوٹی چھوٹی سلطنتیں جن میں سے ہر ایک کا حاکم شیخ کہلاتا ہے)پر مشتمل ایک وفاقی (Federal)حکومت ہے،افسوس بہت جلد اس نے فلسطین کا ساتھ چھوڑدیا؛لیکن امارات کوبھی اپنے بدترین انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے؛چونکہ اس نے ان ہزاروں فلسطینی وغیر فلسطینی شہدا کے خون ناحق کے ساتھ خیانت ہے جو ایک مقدس مقصد کے لیے اپنی جانیں قربان کرگئے،اور آج بھی کررہے ہیں۔
صہیونی تحریک کا مقصد صرف بحیرۂ روم سے دریائے اردن کے مشرقی کنارے تک یہودی ریاست قائم کرنا نہ تھا،اور ان کا خواب صرف قدس اور فلسطین بھی نہیں؛ بلکہ یہ مدینہ منورہ، خیبر اور پورے جزیرۃ العرب میں واپس آنا چاہتے ہیں،حتی کہ مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ مکرمہ اور قبلۂ اسلام تک بھی پہنچنے کا منصوبہ رکھتے ہیں، صہیونی مؤرخ اور سیاست داں ڈینس لپکین Dennis Lipkinنے Return to Mecca (مکہ کی جانب واپسی)نامی کتاب لکھ دی، لپکین نیویارک میں پیدا ہوئے، اور1968ء میں 19؍سال کی عمر میں اسرائیل آگئے،اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد میں بھی کام کرچکے ہیں، ان کی مصری نژاد یہودی بیوی رشال نے اسرائیل کے سرکاری ریڈیو، ٹی وی اور روزناموں کے لیے 30؍سالوں تک اپنی عربی خدمات فراہم کی ہیں، اس کتاب میں لپکین کا ماننا ہے کہ جزیرۃ العرب کے اصلی باشندے یہودی ہیں؛ اس لیے مکہ کی طرف لوٹنا ارض موعود کو پانا ہے،وہ یہ تمنا کرتا ہے کہ عرب بہاریہ جیسا کوئی انقلاب سعودی عرب میں بھی آئے تاکہ سعودی حکام امریکہ اور اسرائیل سے مدد مانگیں اور اس طرح اسرائیل وہاں اپنی جگہ بناسکے،اور یہ کوئی بعید بھی نہیں،خلیجی ممالک میں اسرائیل کانفوذ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، یہ حکام تو سب کچھ چاندی نہیں سونے کے طشت میں سجا کر پیش کردینے کو تیار بیٹھے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ڈیل آف سنچری یعنی صدی معاہدہ (صفقۃ القرن)2019ء کو عملی شکل دینے کے لیے امریکہ نے اپنی پوری طاقت صرف کردی ہے، یہ معاہدہ ٹرمپ اور ان کے یہودی دامادجیرڈ کشنر کے ذہنوں کی پیداور نہیں ہے بلکہ اس کے پس پردہ نوآبادیاتی اور استعماری ذہن کارفرماہے، ساتھ ہی اس منصوبہ کو بروئے کار لانے کے لیے دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی خدمات پیش کررہی ہیں جن میں چین،جنوبی کوریا،آسٹریلیا،کناڈا،امریکہ، یوروپی یونین، سعودی عرب اور اسکے تمام حلیف ممالک شامل ہیں، اس معاہدہ کی تکمیل کے لیے یوروپی یونین، خلیجی ممالک اور تمام بڑی طاقتیں سرمایہ کاری کررہی ہیں، جس کی سالانہ لاگت چھ بلین امریکی ڈالر ہے،اس سرمایہ کاری کا مقصد یہ ہے کہ پانچ سالوں میں نئی فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آسکے اور اسرائیل کو مستقل حیثیت دے کر فلسطین کی موجودہ حیثیت کو ختم کردیاجائے،امارات تو جاچ کا،اب دیگرخلیجی ممالک جن کو ڈرا دھمکاکراور دباؤ بناکر اپنا ہم نوا بنانے کی کوششیں زوروں پر ہیں، باستثنائے چندوہ بھی اسی راہ پر ہیں،کچھ وہ ہیں جواسرائیل مخالف عوامی رجحان کی وجہ سے شش وپنج میں ہیں،کچھ وہ ہیں جو امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج کا انتظار کررہے ہیں،پھر وہ اپنی حکمت عملی طے کریں گے،2017ء میں خودنتن یاہو نے ٹوئٹر پہ لکھا تھا:’’عرب ممالک سے ہماری دوستی میں سب سے بڑی رکاوٹ وہاں کے عوام ہیں جو اسرائیل سے کسی قیمت پر متفق نہیں‘‘۔
اس معاہدہ کی ٹائمنگ اور اس کے نقد فائدہ کی بات کی جائے توا س کو ٹرمپ امریکہ کے صدارتی انتخاب میں کیش کرنا چاہتے ہیں اور نتن یاہو اپنی گرتی ہوئی ساکھ کوبحال کرکے بدترین سطح سے ابھرنا چاہتے ہیں،اسرائیل کے ایک سابق وزیر دفاع موشہ یعلون نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے تبصرہ کیاتھا:’’جیسے اسرائیل کی توسیع کا قدیم اعلان ایک دھوکا ہے ویسے ہی صلح کے نام پر امارات سے تعلقات بھی ایک دھوکہ ہے،یہ کوئی تاریخی دن نہیں، وعدۂ بلفور کی طرح یہ ایک دوسرے جنون کا دن ہے،ایک ایسے وقت میں جب وزیر اعظم قانون سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں،اور اپنے رسواکن اسکینڈلز سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں،لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں،معیشت تباہی کے دہانے پر ہے،وبا چارسو پھیلی ہوئی ہے،اس طرح کی دوستی کی کوئی اہمیت نہیں‘‘۔
توقع کے عین مطابق ترکی نے اس امارات کے موقف کی سخت تردید کی،یو اے ای کے اس اقدام پرجب ترکی نے سخت رویہ اختیار کیا تو لوگوں کو اعتراض ہوا کہ ترکی تو خود اسرائیل سے تعلقات رکھتا ہے،پھر اعتراض کے کیا معنی؟حقیقت میں ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات 1949ء سے ہی چلے آرہے ہیں،اس وقت کوئی رجب طیب صدر نہیں تھے،اس وقت کے سیکولربلکہ لادین اور ملحدترکی کا خمیر یہودیت پسندی سے اٹھایا گیا تھا، جب صدر رجب اردوغان حکومت میں آئے، توترکی کی پوزیشن بہت کمزور تھی، اس لیے اگر وہ اچانک ترکی اور اسرائیل کے سابقہ معاہدات پر خط تنسیخ پھیرتے، تو یہ ممکن تھا؛ لیکن اس کا انجام صدرترکی کی خدانخواستہ معزولی یا قتل کی صورت میں ظاہر ہوتا، اس سے پہلے ’’عدنان مندریس‘‘کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔
ترکی نے اسرائیل سے اپنے تعلقات کو بتدریج کم کرنے کے لیے پہلے ترکی اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مشقوں کا سلسلہ ختم کیا، جب امریکہ نے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ڈیکلیر کیا، تو ترکی نے اسرائیل کے سفیر کو بھگایا، جو آج تک راندۂ درگاہ ہے، اور آج تک ترکی ’’القدس‘‘کو فلسطین کا کیپٹل قرار دینے کا سب سے بڑا علمبردار ہے،ترکی اور اسرائیل کے فوجی تعلقات کا گراف صفر پر ہے ،ڈیپلومیٹک تعلقات تاریخ کے سب سے نچلے لیول پر آگئے ہیں،اب ترکی اور اسرائیل کے درمیان صرف تجارتی اور اقتصادی قسم کے تعلقات رہ گئے ہیں؛ لیکن ترکی نے آخری آپشن کے طور پر ان تعلقات کو باقی رکھا ہے،اور وہ اس طرح کہ اگر ترکی یہ تعلقات بھی ختم کرلے تو ترکی کی طرف سے فلسطین کی ساحلی پٹی اور غزہ امدادی سامان نہیں جاسکے گا؛ اس لیے کہ یہ سامان اسرائیلی طیران گاہوں کے ذریعہ ہی جاتا ہے۔
کاش مسلم ممالک اسرائیل کو ماننے سے نہ صرف انکار کرتے بلکہ اسرائیل نواز طرز فکر کی کھل کر تردید کرتے، مفتیٔ عمان شیخ احمد بن احمد خلیلی نے اپنے ٹوئٹر پیج پہ دوٹوک الفاظ میں لکھا ہے:’’مسجد اقصی اور اس کے گردوپیش کی اراضی کو کسی بھی ناجائز قبضہ سے آزاد کرانا پوری امت کا مقدس فریضہ اورافراد امت کی گردنوں پر قرض ہے جس کا پورا کرنا لازم ہے،اگر حالات ان کے لیے سازگار نہ ہوں اور قسمت وفا نہ کرے تواور بات ہے؛لیکن کسی بھی حال میں اس پر بھاؤتاؤاور سودے بازی کا عمل جائز نہ ہوگا، ان پر لازم ہے کہ اس کومرضیٔ مولی پر چھوڑدیں،اللہ جسے چاہے گا اس شرف عظیم کے لیے منتخب فرمائے گا‘‘،دار الافتاء،لیبیا اور کچھ اور جہتوں سے کچھ مذمتی فتاوے آئے؛لیکن بالعموم اس مسئلہ پر خاموشی رہی،ستم یہ ہے کہ اس کی سب سے پہلی تائید متحدہ عرب امارات کے سرکاری مرکزِ فتوی مجلس الامارات للافتاء کی جانب سے آئی،افسوس کہ عالم اسلام کے مشہورموریتانی نژاد فقیہ شیخ عبد اللہ بن بیّہ صدر مجلس افتاء، امارات نے حیرت انگیز طور پر یہ فتوی صادر کردیا کہ حاکم وقت اس نوع کے بین الاقوامی تعلقات کے سلسلہ میں فیصلہ کرنے کامجاز ہے،خیر یہ وظیفہ خوار فتوی نویسوں کا کام ہے،حق تو یہی ہے کہ امارات کا اسرائیل سے ہاتھ ملانا خیانت ہے،اور ایسے مجرمانہ معاہدے خواہ صحن کعبہ میں طے ہوں اور دیوار کعبہ پر آویزاں کردئیے جائیں، ہمیشہ امت کے قدموں تلے روندے جائیں گے،اورہر انصاف پسند مسلمان یہ اعلان کرے گا:
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

Leave A Reply

Your email address will not be published.