واقعہ کربلا کا درس۔۔۔۔ نظامِ مصطفےﷺ

0 17
ندیم عبدالقدیر ،
)(فیچر ایڈیٹر روزنامہ اردو ٹائمز ، ممبئی )
واقعہ کربلا پر بہت کچھ لکھا ، پڑھا اور کہا جاتا ہے لیکن افسوس کہ  اس تاریخی واقعہ کے حقیقی درس پر بلا کی خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔  بڑی اکثریت اس بات کا خاص خیال رکھتی ہے کہ کہیں اس واقعہ کا اصل درس مسلمانوں کو نہ پہنچ جائے ۔سانحہ کربلا کا بیان کرتے ہوئے اس  کے  جذبہ قربانی، شوقِ شہادت اور جوشِ جانثاری پر تو لمبی تقریر ہوجاتی ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ مقصد کیا  ہےجس کیلئے جذبہ قربانی، شوقِ شہادت اور جوشِ جانثاری کا مظاہرہ کیا جائے؟   یہ نہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ کونسی تاریخی تبدیلی ہونے جارہی تھی ، سانحہ کربلا جس کی علامت بن گیا۔  یہ نہیں بتایا جاتاہے کہ کس طرح طرزِ اسلامی خلافت ، کیسروقصریٰ کی طرح طرزِ بادشاہت میں تبدیل ہو نےجارہاتھا ۔اللہ کی زمین پر بادشاہوں کی حکومت کا رواج پروان پڑھنے جارہا تھا۔ یہ نہیں بتایا جاتا ہےکہ  وہ کیا وجہ تھی  کہ امام حسینؓ نے جام شہادت نوش کرنا گوارا کیا لیکن یزید کی بیعت کرنا گوارا نہیں کیا  ؟ معاذاللہ، کیا امام حسین خود کی بادشاہت چاہتے تھے؟ کیا آپﷺ اس دنیا میں اپنے خاندان کی بادشاہی قائم کرنے کے مقصد سے  تشریف لائے تھے؟ جی نہیں۔
اسلامی ریاست میں خلیفہ منتخب کیا جاتا ہے ۔ اسلامی خلافت، کسی بادشاہت کی طرح نہیں ہوتی ہے کہ بادشاہ کے بعد اُس کا بیٹا ہی بادشاہ ہوگااور اُس کے بعد اُس کا بیٹا ۔ جی نہیں!اسلامی طرز حکومت میں سربراہِ سلطنت وہ   بنے گاجس پر ملک کے مسلمان راضی ہونگےاور جس کیلئے بیعت کریں گے۔  خلیفہ سلطنت کا مالک نہیں ہوتا ہے ۔ وہ صرف اس کا داروغہ ہوتا ہے۔ اسلامی ریاست میں خزانہ کسی ایک فرد یا کسی ایک خاندان کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ اللہ کی ملکیت ہوتی ہے جو عوامی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۔خلیفہ کو بیت المال سے وظیفہ  ملتا ہے۔  بادشاہت اورخلافت دو مختلف چیزیں ہیں۔ یزید کے دورِ حکومت میں یہی نظامِ خلافت اپنا وجود کھوکرنظامِ  بادشاہت میںتبدیل ہورہا تھا۔ جب حکومت کا خزانہ بادشاہ کی جاگیر بننے جارہا تھا اور زمین بادشاہ کی ملکیت بننے جارہی تھی۔ تاریخ کا یہی وہ موڑ تھا جسے حضرت امام حسین ؓ اور دیگر بہت سے صحابہؓ نے محسوس کرلیا تھا ۔ حضرت حسینؓ نے اس موقع پرخاموشی سے یہ سب دیکھنا پسند نہیں کیا اور اس کے خلاف علم بلندکرلیا۔ وہ چاہتے   تومصلحت پسندی کی قبا اوڑھے مدینہ میں سکون کی زندگی گزارسکتے تھےاوربھاری بھرکم وظیفے اور نذرانے بھی وصول کرسکتے تھے لیکن حق اور باطل کے درمیان رسہ کشی کے موقع پر غیر جانبداررہ کر باطل کی مدد کرنے کا سبق اُن کے ناناجان نے اُنہیں نہیں پڑھایا تھا ۔ وہ خلافت کو خاموشی کے ساتھ بادشاہت میں بدلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ اسلامی طرزِ خلافت کی سربلندی اور اسلامی نظامِ حکومت کی بالادستی کیلئے انہوں تلوار اٹھائی اور جام شہادت نوش کیا۔یاد رہے !یزید مسلمان تھا ، اور آج کے مسلمانوں سے شاید زیادہ بہتر مسلمان تھا ۔ اس کے دورِ حکمرانی میں بھی بہت سے اسلامی قوانین رائج تھے۔ اس نے اسلامی قوانین میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں کی تھی ۔ شراب تب بھی حرام تھی ، سودی کاروبار تب تھی ممنوع تھا، قانون کے طور پر اسلامی حدود کا رواج تب  بھی تھا ۔ آج کے دور سے اگر ہم اُس دور کا موازنہ کریں  تو وہ  دور پھر بھی بہت بہتر نظر آتا ہے ۔ اس کے ذریعہ قائم کی گئی ملوکیت میں   اسلامی لشکروں نے فتوحات کے زبردستجھنڈے بھی گاڑھے۔ ان سب کے باوجود اس کی حکومت اسلامی خلافت بہر حال نہیں تھی۔  سوال یہ ہے کہ کیا ہم بہ حیثیت امت مسلمہ عالم اسلام میں کہیں بھی خلافت جیسےکسی طرز ِ حکومت کو دیکھ رہے ہیں۔ کیا ہمیں کہیں بھی وہ نظامِ مصطفیٰﷺ نظر آرہا ہے جس کیلئے امام حسینؓ جانثاروں کے ساتھ شہید ہوگئے۔ ہم تو آج یزید جیسی حکومت سے بھی محروم ہیں۔  یہ موقع محاسبے کا ہے کہ ہم اپنی منزل سے کس قدر دور بھٹک کر رہ گئے ۔ ہماری منزل نظامِ مصطفیٰ تھی لیکن ہم کس طرح کبھی سوشلزم، کبھی کمیونزم اورکبھی سرمایہ دارانہ نظام میں الجھ کر رہ گئے ۔ کیاعالمی سطح پر امت مسلمہ کو بہ حیثیت ایک قوم اپنی  گمشدہ پونجی کی تلاش نہیں کرنی چاہئے؟ ایک انتہا یہ ہے کہ ہماری اکثریت نے اقامت دین کو سرے سے اپنے خواب و خیال سے بھی فراموش کردیا ، تو دوسری انتہا یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے دورِ حیات میں ہی شریعتِ محمدی ﷺ کے نفاذ کیلئے  ہر جائز و ناجائز طریقے اپنا لئے ،اور یہ طریقہ انہیں عوامی مقامات پر خونریزی حتیٰ کہ مسجدوں میں بم دھماکوں کی راہ پر لے کر چلا گیا۔ یہ دونوں ہی غلط ہیں۔ اقامت دین ہونا چاہئے لیکن اس کےلئے بے قصور عوام کی خونریزی کی اجازت قطعی نہیں دی جاسکتی ہے ۔ اس کیلئے امت مسلمہ میں طویل بیداری کی ضرورت ہےکہ آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں لیکن ہمارے او رہماری آنے والی نسلوں  کے ذہنوں سے کم از کم یہ مقصد تو کبھی فراموش نہیں ہوپائے کہ ہماری منزل ’نظامِ مصطفیٰﷺ‘ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.