بھارتیہ اوقاف ملکیت اور ہم مفلس مسلمان

0 209
        نقاش نائطی
            +966504960485
اوقاف کے نام موجود 31 ارب کروڑ کی ہم مسلمانوں کی پراپرٹی سے، 30 کروڑ ہم بھارتیہ مسلمان استفادہ سے محروم کیوں ہیں؟
جسٹس سکسینہ  کی رپورٹ مطابق دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت اور دنیا کی سب سے بڑی دوسری ریلوے کمپنی بھارت ریلوے اور دنیا کی تیسری دفاعی طاقت بھارتیہ ڈیفنس فورسز کے پاس، جتنی املاک ہیں اس کے بعد تیسرا بھارت کا سب سے زیادہ ملکیت رکھنے والا کوئی شعبہ بھارت میں ہے تو وہ ہے بھارتیہ مسلم اوقاف،  ایک اندازے کے مطابق بھارت میں کم و بیش  137 کروڑ بھارت واسیوں میں 30 کروڑ مسلمان بھارت میں بستے ہیں۔ جسٹس سکسینہ کے مطابق بھارت مسلم اوقاف کے نام سے  مختلف سابقہ امراء کی وقف کی ہوئی املاک جو ہیں اس کا تخمینہ اگر روپئوں میں لگایا جائے تو ہر بھارتیہ مسلمان تیس سے پینتیس لاکھ روپیہ کا مالک بن سکتا ہے۔ ہمارے جد امجد   مسلمانوں نے یہ بیش بہا اربوں کھربوں کی املاک، بھارت کے مسلمانوں کے بہتر معاشی مستقبل، انکی تعلیمی تربیت ہی کے لئے اپنی گاڑھی کمائی سے مختلف املاک  اوقافی اداروں کو  وقف کی تھیں۔ گویا ان اربوں کھربوں کی اوقاف پراپرٹی کے مالک ہم تیس کروڑ مسلمان ہی ھیں۔ اس حساب سے 31 ارب کروڑ ملکیت والی مسلمانوں کی پراپرٹی اوقاف کی ملکیت میں ہے
آزاد بھارت کے ان پینسٹھ سالوں میں تو آل انڈیا کانگریس نے مسلمانوں کی مدد بھلائی کے نام ہی سے چند مسلم خاندانوں کو آگے کر نہ صرف ان پینسٹھ سالوں تک بھارت کے ہم مسلمانوں کا سیاسی سماجی و معاشی استحصال کیا ہے، بلکہ ان چند مسلم خاندانوں کو ان اربوں کھربوں کی اوقاف املاک کا مالک غیر شریک بناکر، ان کے واسطے سے، ان املاک کو خوب لوٹا ہے یہاں تک کہ ان چند خاندانوں کو اپنی عیش و عشرت کے لئے ان اوقاف املاک کو خوب لٹوانے کا انتظام بھی کیا ہے۔ اس کہ ایک مثال مہاراشٹرا کانگریس کے پٹھو رہے دلوائی خاندان کو مہاراشٹرا اوفاف کے مسند تمکنت پر براجمان کر، مہاراشٹرا اوقاف کے اربوں کھربوں کی وسط شہر کافی بڑی زمیں کو کوڑیوں کے دام، آج کے بھارت کے سب سے بڑے پونجی پتی امبانی پریوار کے نام منتقل کروائی ہے جہاں آج دنیا کا سب سے بڑا اور مہنگا ترین ایک فردی مکیش امبانی کا عشرت کدہ،ہم بھارتیہ مسلمانوں کی بے بسی و بے کسی اور کانگریسی سیکیولر حکمرانوں کے, دلوائی نہاد مسلم خاندان کو استعمال کر لوٹی ہوئی اوقاف زمین کے لئے،ہم بھارتیہ مسلمانوں کو چڑاتے، ہمیں موضوع مذاق بناتے، ہماری تضحیک کرتے،ہمیں خجل ہونے پر  مجبور کرتا ہے۔دنیا کے تین چار بڑے امراء میں سے ایک بھارت کے سب سے بڑے برہمن گجراتی سنگھی پونجی پتی مکیش امبانی کو اپنا محل نما گھر تعمیر کرنے پورے مہاراشٹرا میں، کیا صرف مسلم اوقاف ہی کی زمین ملی تھی جس اوقاف پر بٹھائے گئے ان کے بے جان لولے لنگڑے، بہرے اندھے، مسلم لیڈروں کے توسط سے، نہایت بیش قیمتی اربوں روپئوں کی مسلم اوقاف زمین، کوڑیوں کے دام مکیش امبانی کے نام منتقل کروائی گئی تھی۔
دہلی لکھنو بھوپال  ممبئی حیدر آباد گلبرگہ بنگلور چینائی بھارت کا وہ کونسا شہر گاؤں دیہات ایسا ہے جہاں کروڑوں مالیت کی اوقاف ملکیت زمینیں بے کار پڑی ہوئی نہیں ہیں۔ یا تو ان بیش بہا اوقاف املاک کو حکومتی استعمال میں لاتے ہوئے، وہ اربوں روپئیے مالیت کی املاک اب پوری طرح حکومتی قبضہ میں چلی گئی ہیں  یا ان اوقافی جائیداد کے خاندانی ٹرسٹیان کے تصرف میں ہزاروں کروڑ کی اوقافی املاک بیکار پڑی ہیں۔
ھندو مندروں کے نام موجود ہزاروں کروڑ کی ھندو اوقافی جائیداد کو تو ان منادر ٹرسٹ نے بڑے بڑے ایجوکیشنل ٹرسٹ بناتے ہوئے، اپنی قوم کے بچوں کو اعلی تعلیم دلواتے ہوئے ،آج ان مندر ٹرسٹ تعلیم پائی نئی نسل ریاستی و مرکزی حکومتوں پر بیٹھی، اپنی اپنی قوم کی ترقی کی ضامن بنی ہوئی ہیں۔ کاش کہ بھارت بھر کے متعدد درگاہ ٹرسٹ، اعلی ایجوکیشنل  درسگاہیں تعمیر کر، بھارت کے غریب اور پس ماندہ ہم مسلمانوں کو، عصری تعلیم  دلواتے  ہوئے اور اقوام کے ساتھ، مسلم نوجوان نسل کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کئے ہوتے۔ لیکن ہم بھارت واسی مسلمان اپنی اپنی آل اولاد کی پرورش میں اتنے منہمک  ہیں کہ ہمارے اپنے ہردلعزیز سیاسی سماجی رہنما اعظم خان نے آزادی ھند کے ھیرو  مولانا محمد علی جوھر کے نام نامی سے، ہم مسلمانوں کے لئے اعلی عصری تعلیمی یونیورسٹی کیا قائم کی؟ اس کی سزا کے طور، سابقہ 6 سالوں سے دیش پر حکومت کررہی سنگھی مودی یوگی حکومت نے، محمد علی جوھر یونیورسٹی تعمیر بے ضابطگیوں کا بہانہ بناتے ہوئے، مرکزی سطح کے بڑے قومی رہنما اعظم خان، انکی زوجہ محترمہ اور فرزند کوجیل کی کال کوٹھڑی میں بند کررکھا ہے۔ ہم میں سے کوئی  بھی بھارت واسی، اپنے لئے ایک معمولی گھر تعمیر کرتا ہے تو ہم سے تعمیر رہائشی گھر کے سلسلے میں کتی حکومتی بے ضابطگیاں ہوجاتی ہیں، حکومتی آفیسران بھی ہم سے ہوئی تعمیری بے ضابطگیوں کو نظر کر صرف نظر کرلیا کرتے ہیں، لیکن قوم و ملت کو اعلی تعلیمی زیور سے آراستہ کرنے عالمی سطح کی اتنی  بڑی عالی شان محمد علی جوھر یونیورسٹی کی تعمیری بے ضابطگیوں  کو بہانہ بنا کر، اعظم خان کو کال کوٹھڑی میں بند کرنا، دراصل مسلم امہ کو اعلی تعلیم حاصل کروانے کی اعظم خان کی سعی ناتمام کےلئے انہیں سزا دینا مقصود ہے۔ ایسے میں چاہئیے تو یہ تھا کہ اولا ہم مسلمانان ھند، خصوصا یوپی کے مسلمان،  اعظم خان کی رہائی کے لئے احتجاجی تحریک شروع کرتے جیل بھرو احتجاج تک اسے لے جاتے، ثانیا  مسلمانوں کو اعلی تعلیم سے ماورا رکھنے کے سنگھی حکومتی سعی ناتمام کو ناکام بنانے اپنے پیٹ کاٹ کاٹ دیش کے ہر کونے میں، عصری تعلیم گاہیں قائم کرتے ہوئے ، قوم و ملت کی نوجوان نسل کو، اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کرنے کی کوشش کرتے پائے جاتے، لیکن  ہم اب بھی ان سنگھیوں  کی سازشوں کے طشت از بام ہونے کے باوجود، صرف اپنے اور آپنی آل ہی کی فکر میں غرق قوم و ملت کی ترقی کی فکر سے ماورا اپنے رہنماؤں کے پاؤں کھیچنے ہی میں مست مگن ہم پائے جاتے ہیں۔
اس نوع سے گر دیکھا جائے تو سابقہ 6 سالوں سے اچھے دن آنے والے ہیں، دل لبھاونے نعروں کے ساتھ بھارت پر حکومت کررہی یہ مودی یوگی سنگھی حکومت، حکومت چلانے کے فن سے ناآشنا، سونے کی چڑیا بھارت کو لوٹ لوٹ  کر، اور 137 کروڑ دیش واسیوں  کی اولاد نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے محروم رکھتے ہوئے، کئی کروڑ پہلے سے روزگار پر رہے بھارت واسیوں کو دانستہ بیروزگار کرتے ہوئے، اپنے اور اپنی آل کے لئے دو وقت کی روٹی کے حصول  ہی کی  فکر میں سرگرداں،قوم و ملت و بھارت دیش کی فکر سے آزاد،  دیش کی 137 کروڑ عام جنتا کو ان برہمنوں کی غلامی میں ہمیشہ رکھنے کی ان گجراتی برہمن  سنگھی پونجی پتیوں کی گہری سازش لگتی ہے۔ ایسے میں کیا نہیں لگتا ہے کہ اس بھارت دیش میں ہم مسلمانوں کی تعلیمی معاشرتی و معشیتی پس ماندگی کے لئے ان سنگھی و کانگریس حکمرانوں سے زیادہ، ہم 30 کروڑ بھارت کے مسلمان ہی ذمہ دار ہیں۔ ہم مسلمانوں کے پاس اب بھی اربوں کھربوں کی اوقاف جائیدادیں ہیں۔ ہمیں ان اوقافی جائیدادوں پر زہریلے سانپوں کی طرح کنڈلی مارے بیٹھے اوقاف ٹرسٹیان میں سے ایک آدھ مخلص ٹرسٹیان کو چھوڑ کر باقی ٹرسٹیان کے خلاف سینہ سپرد ہوتے،انہیں ان اوقافی املاک سے بے دخل کرتے ہوئے، ان کی جگہ پر نوجوان تعلیم نسل کو لاکر ،ان اوقافی جائیداد آمدنی میں سے ایک کثیر رقم بھارتیہ مسلمانوں کی نوجوان نسل کو، اعلی عصری تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جانا چاہئیے۔ اور بھیک میں دئیے چندے کے بجائے  سلمان خان کی فلم میں بتائے جیسا، ہر غریب کو اگر اواقاف رقوم سے اعلی تعلیم دلوائی جارہی ہوتو،اس کے تعلیم حاصل کرلینے کے بعد، اسکی معاشی زندگی کے ابتدائی پانچ پانچ سالوں میں کم از کم ایک غریب کی تعلیمی کفالت کا وعدہ لے کر، اپنی زندگی کےابتدائی 15 سالوں میں، کم از کم تین غریب طلباء کی تعلیمی کفالت کا اسے پابند بنایا جائے نیز  کم از کم اتنے معیار کی تعلیمی کفالت کا بوجھ اس پر ڈالا جائے جس معیار کی تعلیم مفت اسے حاصل کروائی گئی ہو۔ ایسے تسلسل والے چین سسٹم سے، ایک کا تین ، تیس کے نوے غریب نادار مسلم بچے تعلیم حاصل کرتے ہوئے یقینا مختصر عرصہ میں بھارتیہ مسلم معاشرے میں وہ تعلیمی انقلاب رونما ہوسکتا ہے کہ دنیا دیکھتی ہی رہ جائیگی۔
اس ضمن میں ہمیں ماضی کاایک واقعہ یاد پڑتا ہے،اپنے زمانہ تلمیذی بعد،ریگزار پیٹرو ڈالر والی سرزمین عرب آنے سے پہلے کے وقفہ میں، اسی کے دہائی کے ان غیر مصروف اوقات کو ہم نے اپنے قومی سیاسی لیڈر المحترم ایس ایم یحیی مرحوم سابق وزیر تعلیم،وزیر صنعت و وزیر خزانہ کرناٹک کے ساتھ کافی وقت بتایا تھا۔ ان کے ساتھ ایسے ہی ایک سفر میں بحیثیت وزیر صنعت  وہ حکومتی منصب پر فائز تھے کرناٹک کے مشہور صنعتی شہر ڈانڈیلی کے متصل مسلم اکثریتی گاؤں ہلیال کے ہائی اسکول سالانہ گیدرنک مہمان خصوصی کے طور یحیی صاحب مدعو تھے اور دانڈیلی پیپر مل کے جنرل مینیجر کوئی سردارجی بھی اس اجلاس میں مہمان اعزازی مدعو تھے۔ ظاہر یے ایسے مواقع پر وزرا کو استعمال کر صنعتی کمپنیوں سے  اقلیتی ادارے کے اسکول تعمیراتی فنڈ میں گرانقدر  وصولیابی مقصود ہوا کرتی تھی۔ جس کا اشارہ وزیر صنعت یحیی صاحب کے کرنے سے پہلے ہی، دانڈیلی پیپر مل کے اسوقت کے جنرل مینیجر  نے اپنی تقریر میں ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعد آزادی ھند، ابتدائی دنوں میں، دہلی حکومتی سکریٹریٹ میں، کسی پچھڑی ذات برادری کا اکلوتا تعلیم یافتہ جو وہ تھے، انہوں نے اپنی ذات برادری کو اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کرنے کا جو عجیب و غریب طریقہ اپنایا تھا وہ یہ تھا کہ جو کوئی بھی ان سے کوئی بھی حکومتی کام لینے آتا تو، رشوت رقم طلب کرنے کے بجائے، کام کی نسبت کے اعتبار سے دس بیس طلباء کی اعلی تعلیم کے اسپانسرشپ  اخراجات، اس کام کے بدلے میں بخوشی دینے پر اسے قائل کراتے اور یوں دس بارہ سال کے مختصر عرصہ ہی میں، اپنی ملازمت ٹینیئور ہی کے دوران، مرکزی و مختلف ریاستی سکریٹریٹ میں بیس فیصد سے زیادہ اپنی ذات برادری  کے اعلی تعلیم یافتگان کو سرکاری اہم مناصب پر براجمان کروانے میں وہ کامیاب ہوچکے تھے(اس وقت  مرکزی سیکریٹری کا اور اس کی برادری کا نام   اس جی ایم نے بتایا تھا لیکن احقر اسے یاد رکھ نہ پایا) اس واقعہ کو بتا کر اس جی ایم ڈانڈیلی  پیپر مل نے یحیی صاحب مرحوم سے اس وقت مخاطب ہوکر کر یہ کہا تھا کہ اگر یحیی صاحب اشارہ بھی کرتے ہیں تو ہم اپنی پیپر مل امدادی فنڈ سے اس اسکول کی زیر تعمیر پوری عمارت بھی تعمیر کر،دے سکتے ہیں۔لیکن اسکول عمارت تعمیر کرواتے ہوئے،  بغیر طلبہ اسے کھنڈر کی طرح خالی رکھنے کے بجائے، غریب دس بیس تیس ذہین بچوں کا انتخاب کر، ان کی اعلی تعلیم اسپانسرشپ کروانے کو اگر یحیی صاحب کہیں گے تو نہ صرف انہیں ان غریب بچوں کی اسپانشرشب کر، انہیں اعلی تعلیم دلوانے میں،انہیں خوشی محسوس ہوگی بلکہ امید ہے چند سالوں میں اس غریب مسلم بستی سے ہزاروں بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتے ہوئے، پورے مسلم معاشرے کو تعلیم یافتہ کرنے کا بیڑہ وہ مستقبل میں خود اٹھاتے پائے جائینگے
ہم مسلمان اپنے اپنے ماحول خود مسجد کا امام بننے کے چکر میں، ہر گلی محلے ڈیڑھ انچ کی مسجد مانند  تعلیمی ادارے بناتے پائے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ تعلیمی ادارے آپسی مسابقت سے اچھے اور معیاری تعلیم دینے کے اعتبار سے تو اچھے ہوتے ہیں،لیکن تعلیمی اداروں کی تعمیر بے جا کی بنسبت، معاشرے کے ذہین غریب بچوں کی نوی دسویں میں ہی نشاندہی کرواتے ہوئے، ان بچوں کی  مکمل نگرانی کر،گیارویں  بارھویں تعلیم انہیں دلواتے ہوئے،اچھے رزلٹ ان سے حاصل کروا، انہیں اعلی عصری تعلیم دلوانے کی کامیاب کوشش کی جاسکتی ہے۔بھارت بھرکے ہر گلی محلہ ہی سے، ایک دو غریب بچوں کی کفالت  کروا ،انہیں اعلی عصری تعلیم دلوائی جائے تو بھارت بھر سے ہر سال، ہزاروں لاکھوں غریب بچے اعلی تعلیم حاصل کرتے ہوئے، بھارت کے مسلم معاشرہ میں صحیح معنوں ایک تعلیمی انقلاب رونما کرسکتے ہیں۔بہار رہبر فاونڈیشن کی اس سمت طلبہ اسپانشرشب  اسکیموں کی کامیاب حکمت عملی سے، نئی نسل مسلم پیڑھی میں تعلیمی رغبت کے فرق کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرز،میں الدین چشتی اجمیر  درگاہ، دہلی حضرت نظام الدین درگاہ، سمیت دیش بھر کے چھوٹے بڑے درگاہ ٹرسٹ کے ماتحت تعلیمی کمیٹیاں قائم کرتے ہوئے، اس اقسام کی اعلی تعلیم  طلباء اسپانسرشپ اسکیم روبہ عمل لاتے ہوئے،  دیش بھر پھیلے ان اوقافی جائیداد آمدنی کو بھی، استعمال کر مسلم معاشرے کو اعلی تعلیم زیور سے آراستہ کئے جاسکتے ہیں۔واللہ الموفق  بالتوفیق الا باللہ

Leave A Reply

Your email address will not be published.