معاشرے میں بڑھتی شرح طلاق کے سد باب کا آسان حل

0 51
                    نقاش نائطی
          +966504960485
آج مسلم معاشرے میں  ہر سو طلاق کی شرح اتنی بڑھ گئی ہے کہ مسلم علماء  کرام اور ارباب مسلم معاشرہ طلاق کی شرح کو کیسے کم کریں اس پر فکر مند نظر آتے ہیں۔ آج سے دو تین دیے تک مہر فاطمی 19 وھرا کے عوض، فی زمانہ رقم مہر فاطمی کے طور دی جاتی تھی لیکن الحمد خلیج کے پیٹرو ڈالر باد بہاراں نے، مہر کی رقم کو بڑھا کر پچیس پچاس  ہزار یا 7 گرام پر مشتمل ایک گنی سونا یا دس بیس گرام سونا مہر معجل کے طور دینے کا رواج عام کیا ہے۔مسلمانوں کا ایک طبقہ اپنی استطاعت سے بہت بڑی رقم مہر موخر لکھواکر،ایک مرتبہ  شادی کرلیتا ہے اور بعد شادی بیوی سے مہر معاف کروالیتا ہے
عموما مسلم معاشرہ میں، شادی میں مہر کم از اتنی مقرر ہو کہ ہر شادی شدہ مرد آہن کو لگے کہ مہر دے رہا ہے۔ اور اگر میاں بیوی میں  اختلاف بڑھتے نوبت طلاق تک  پہنچے تو، مہر کی رقم ادا کرنا اس کے لئے گراں مخصوص ہو۔اور صلح کرنے ہی کو بہتر تصور کرے۔
خاتم الانبیاء سرور کونین محمد مصطفی ﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹی فاطمہ رض کا نکاح اپنے لے پالک بیٹے حضرت علی رض سے کر رہے تھے۔ گھر ہی کا معاملہ تھا لیکن  پھر بھی آپﷺ نے حضرت علی رض سے پوچھا، علی رض میری بیٹی فاطمہ کو مہر میں کیا دوگے؟ حضرت علی رض نے کہا آپ ﷺ بے شک جانتے ہیں میرے پاس مہر میں دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ آپﷺ حضرت علی رض کی معشیت کے بارے میں سب کچھ جانتے تھے، پھر بھی آپ ﷺ نے کہا، علی رض کیا تمہارے پاس گھوڑے کی زین نہیں ہے اسے ہی بیچ کر گھر والی ضروریات زندگی کی کچھ چیزیں خرید لاؤ اور مہر کے عوض دے دو تاکہ تمہارے اور فاطمہ کے لئے کام آسکے۔یوں اس وقت حضرت علی رض نے اپنے پاس موجود کل اثاثہ ملکیت بیچ کر، گھر کرہستن ضروریات زندگی کی کچھ چیزیں خرید کر،  حضرت فاطمہ رض کو مہر کی صورت عطا کی تھیں۔ اس وقت حضرت علی رض نے حضرت فاطمہ رض کو مہر میں جو چیزیں دی تھیں۔اس کی اس وقت کی اجمالی قیمت کو، اس وقت چاندی کے وزن 19وھرا (مخصوص مقدار وزن)، مسلم علماء کرام نے  فی زمانہ اتنے وزن چاندی کی قیمت حساب سے مجموعی رقم کو، آج سنت "مہر فاطمی’ قرار دیا ہے۔ جبکہ اللہ کے رسولﷺ کے حکم سے،حضرت علی رض نے، اس وقت ان کے پاس موجود کل اثاثہ ملکیت، گھوڑے کی زین کو بیج کر مہر فاطمی عطا کیا تھا۔ اس وقت حضرت علی رض، وقت کے تونگر  ہوتے توشاید مہرلاکھوں میں دیتے۔ اس لئے وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم مسلمان  بوقت شادی اپنے کل اثاثہ ملکیت کے ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصہ ہی کو مہر کے عوض اپنی رخ ثانی یا اردھانجلی یا شریک حیات کو دینے کا عہد کریں تاکہ کل شادی شدہ زندگی میں، کبھی ناچاقی اتنی  بڑھ جائے کہ نوبت طلاق تک پہنچے تو، مہر دینا گراں گزرتے، میاں بیوی ایک دوسرے سے معاملہ فہمی اختیار کر، صلح کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس سے مسلم معاشرے میں طلاق کی شرح یقینا کم ہوجائیگی۔آنا علینا الا البلاغ

Leave A Reply

Your email address will not be published.