غزل

0

 

حرکتِ قلب کے رکنے سے جو مر جاتے ہیں
دل میں جو لوگ بھی رہتے ہیں کدھر جاتے ہیں
کیا پتا کس کے بچھڑنے کی خبر پھر ہوگی
ہم تو اخبار کے پڑھنے سے بھی ڈر جاتے ہیں
وہ جو جینے کا سکھاتے تھے سلیقہ سب کو
ایسا کیوں ہوتا ہے وہ لوگ بھی مرجاتے ہیں
زندگی تجھ میں سوا ہجر کے ملتا کیا ہے
تو کسی سے تو کوئی تجھ سے بچھڑ جاتے ہیں
یہ کرامت کے ہواؤں پہ سحر کرتا ہے
وہ جدھر جائے سبھی لوگ ادھر جاتے ہیں
اس طرح سے ہے اجالوں کو عداوت مجھ سے
شب کے ہر خواب مرے صبح بکھر جاتے ہیں
زندگی تیرے مصائب کا اٹھائے ہوئے بوجھ
اتنا چلتے ہیں کسی روز کہ مر جاتے ہیں

حسان جاذب

Leave A Reply

Your email address will not be published.