جذبہ قربانی سے عاری ہماری کی ہوئی جانوروں کی قربانی

0 77

نقاش نائطی
+966504960485

*ایک رئیس نے خواب میں، جنت کی باغوں میں، جہاں ہزاروں، لاکھوں بکرے بھیڑ گائے بیل بھینسے، اچھل کود کھیل میں مشغول پائے، اپنے کچھ مہینے پہلے اللہ کی راہ میں قربان کئے،پانچ بکروں کو،باغ کے ایک کونے میں، سر جھکائے افسردہ کھڑے پایا۔نیند کھلنے پر پریشان وہ مسجد کے مولوی کے پاس اپنا خواب بتاتے ہوئے،ان سے اس خواب کا مطلب جاننا چاہا، تو مولوی صاحب سے چونکہ ان سے اچھے تعلقات رکھتے تھے، نہایت رازداری سے ان سے پوچھا، کیوں حضرت 5 بکرے جو آپ نے اللہ کی راہ قربان کئے تھے؟کیا غرباء ومساکین میں تقسیم کئے بھی تھے؟ یا فریچ میں رکھ کر مہینوں خود کھاگئے؟ رئیس نے تعجب سے پوچھا کہ آپ کوکیسے پتاچلا؟ مہنگائی کا زمانہ ہے نا! اسی لئے کچھ مہینے ہم نے ہی وہ پورا گوشت کھالیا تھا۔تب مولوی صاحب نے کہا آپ کی قربانی اللہ کے یہاں قبول تو ہوگئی تھی، لیکن چونکہ آپ نے غرباء و مساکین کا حق ادا نہیں کیا تھا اس لئے جنت کے باغ میں وہ تمام بکرے، قربان ہوئے جانوروں کے ساتھ کھیل کود نہیں کرپارہے تھے۔*
*پھر مولوی صاحب کہنے لگے، گلی کے نکڑ پر وہ جو فلاں صاحب ہیں نا؟ کچھ دن پہلے وہ بھی ایسا ہی خواب لے کر مطلب پوچھنے آئے تھے۔ انہوں نے تو اپنے خوبصورت بکرے کو 3 رانوں کے ساتھ جنت کے باغ میں ایک جگہ کھڑے پایا تھا ۔جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اس بکرے کا گوشت ابھی فریچ میں رکھا ہوا ہے یا تمام گوشت ختم ہوگیا ہے،تب پھر انہوں نے بتایا کہ نہیں، اس بکرے کی ایک ران تو ابھی فریچ میں ہی پڑی ہوئی ہے۔تب پھر مولوی صاحب نے اس شخص سے پوچھا؟ پھر کیسے جنت میں آپ کا بکرا 4 پاؤں پر کھڑا پایا جائیگا*
*آج کل اس مہنگائی کے دور میں ہر سو نفسا نفسی کا عالم ہے، لوگ دکھاوے اور نام نمود کے لئے بڑے بڑے عمدہ جانوروں کی قربانیاں کرتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اللہ کو خوش کرنے قربانی تو کرلیتے ہیں لیکن رشتہ داروں اور غرباء و مساکین کا حق مارتے ہوئے، قربانی کے بکروں کا گوشت فریزر میں سنبھال کر رکھتے ہوئے،مہینوں خود اس کا تمام گوشت کھا جاتے ہیں*
*اللہ ہی ہمیں قربانی کے حقیقی جذبے کے تحت صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے، حسب استطاعت قربانی کرنے کی توفیق بخشے*

*ہمیں یاد پڑتا ہے دس، بیس،چالیس سال قبل،باد بہاراں پیٹرو ڈالر عرب ممالک کے شروع ہونے سے قبل، ہم مسلمانوں کی اکثریت خط غربت کے آس پاس ہی رہا کرتی تھی۔ استطاعت کی کمی کے باوجود رب دو جہاں کی خوشنودی کے لئے، لوگ سال بھر بچت کرکے عید قربان پر حسب استطاعت، گائے بل کی قربانی کرلیا کرتے تھے۔ گوشت کٹ کر تیار ہوتا تو سب سے پہلے گوشت کے تین حصے کئے جاتے تھے، ایک حصہ مساکین و فقراء کا، اسی وقت تقسیم کردیا جاتا تھا باقی دو حصے ملاکر اس دن مہمانوں کے لئے کچھ گوشت پکاتے ہوئے، بقیہ گوشت اعزہ اقارب میں تقسیم ہوجاتا تھا۔ سر شام کسی رشتہ دار خو گوشت دینا رہ جاتا تو دیگر رشتہ داروں سے آئے ہوئے گوشت ہی میں سے، انہیں گوشت پہنچایا جاتا تھا۔مسلمانوں میں تنگ دستی بھلے ہی عام تھی، لیکن لوگوں کے دل غنی و دیالو ہوتے تھے۔ آپنے مستقبل کی فکروں پر، آج حال کی فکرغالب ہوا کرتی تھیں۔ اور بعد الموت والے مستقبل ہی کی فکرین عموما غالب رہا کرتی تھیں، اسلئے ہر چیزمیں برکت محسوس ہوتی تھی۔باوجود غربت کے، بھوگ فاقہ معاشرے میں مفقود تھا۔ گھر میں کی گئی، بڑے کے قربانی کا گوشت گھر والوں کو دوسرے دن پکانے کے لئے نہیں بچتا تھا، لیکن دیگر اعزہ اقارب سے قربانی کا گوشت اتنا جمع ہوجاتا تھا، کہ فریزر مخزن سے ماورا، ان ایام میں نمک پاشی سے گوشت سکھا کر، مسقبل کے استعمال کے لئے محفوظ رکھاجاتا تھا، جو بعد قربانی مہینوں بھون کے، یا مصالحہ دار تل کر کھایا جاتا تھا۔ آج فریزر مخازن کے باوجود، سنگھی منافرتی ماحول میں، بجلی محکمہ کے شر پسند عناصر کی دانستہ شرارت کے باعث، دو دو دن مسلم معاشروں کو بجلی سے محروم رکھنے کی سازشوں کے چلتے ،مہک زد گوشت خود زبردستی کھانا پڑتا ہے یا کوڑے دان کی نظر ہوجاتا ہے۔ایسے ہی کوڑے دان میں پڑے، ڈھیر سارے مہک زد گوشت کچرے کے ڈھیر پر دیکھ کر، کچرا جمع کرنے والے غریب بچوں کی آہ نکلتی ہے کہ کاش ان روساء نے بعد قربانی ہم مساکین کا حق نہ مارا ہوتا تو معاشرے میں سبھی مسلمان ان قربانی گوشت سے مستفید ہوسکتے تھے۔کسی مسکین کے گھر،لمبی وقفہ باوجود عید قربان پر بھی گوشت نہ کھانے ملنے پر روتے بلکتےبچوں کو، جھوٹی تسلی ان کے والدین کو دینا نہ پڑتی! وما علیناالا البلاغ*

Leave A Reply

Your email address will not be published.