اب بھی نہ سنبھلے تو بڑی دیر ہوجائے گی

0 83

 

نقاش نائطی
+967504960485

*اس دیش کے تعلیم یافتہ،بدھی جیوی،دیش واسیوں نے، کسی نہ کسی بہانے، ہمیں اپنی اوقات بتاجاتے ہیں کہ ہم ہی ہیں جو ان سیاسی لیڈروں کے بہکاوے میں آکر، مذہب کہ بنیاد پر، انہیں ووٹ دیتے ہوئے ، نہ صرف آپس میں ہم مذہبی نفرت بڑھارہے ہیں بلکہ اس ھندو مسلم نفرت کی آگ میں،ہزاروں سالہ گنگا جمنی مختلف المذہبی، سیکولر اثاث کو بھی ختم کرتے ہوئے ، چمنستان بھارت کا مستقبل بھی بگاڑ رہے ہیں۔*
*سوچئے اکیسویں صدی کی ابتدا میں دنیا کے ارتھ شاشتریوں نے، 2030 تک صاحب امریکہ کے زوال پذیر ہونے کے بعد، عالم کی رہبری کے لئے، چائنا کے ساتھ بھارت کا نام بھی لیا تھا ۔ یہ اس لئے تھا کہ اس وقت معشیتی طور چائینا اور بھارت ایک ہی مقام پر تھے ۔ بھارت بھی، کانگریسی پرائم منسٹرمن موہن کی سربراہی میں عالمی سطح چائینا کی طرح تیز تر نہ صحیح،ایک حد تک نہایت تیز رفتاری سے، ترقی پذیر تھا۔ لیکن اسے عالم کی سربراہی کی پٹری سے اتار باہر پھینکنے کے لئے ہی، ہمیں 2014 عام انتخاب میں، مذہبی بنیاد پر، ووٹ دیتے،اپنے لئے آن سنگھی لیڈروں کو منتخب کرنے مجبور کیا گیا تھا اور ان چھ سالوں میں ہم نے دیکھا کہ،مہان بھارت 2014 تک جس تیزی سے ارتھ ویستھا طور مضبوط ہورہا تھا،آج اتنی ہی تیزی سے،ترقیات کے ہر منزل و مقام پر، بھارت تنزلی کا شکار ہوتے ہوئے معاشی طور پچھڑ ہی رہا ہے۔ 2014 سے پہلے کے گیس سلنڈر ،پیٹرول، ڈالر اور دیگر ضروریات زندگی کی چیزوں کی بڑھی ہوئی قیمتوں کا تقابل کریں تو ہمیں احساس ہوسکتا ہے کہ ہم نے اپنی ناعاقبت اندیشی سے 2014میں اپنے اور اپنے مہان ماتر بھومی بھارت کے لئے، مذہب کی بنیاد پر جو ھندو شدت پسند لیڈر اپنے لئے منتخب کئے تھے وہ ہمارے لئے اور ہمارے بھارت کے لئے، وناش کاری فیصلہ تھے*

*آج ان بیس سالوں بعد ہم اپنے بھارت کو اور چائینا کو عالمی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کے اعتبار سے تقابل کر دیکھتے ہیں تو آج چائینا عالم کی سربراہی میں نہ صرف ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے بلکہ وہ سوپر پاور صاحب امریکہ کو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کھلا چیلنج بھی دے رہا ہے۔ اب تو صاحب امریکہ کے اتحادی یوروپی ممالک بھی،کھل کر اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ صاحب امریکہ،عالم کا سربراہ باقی نہ رہا بلکہ چائینا،نہ صرف معشیتی طور، بلکہ دفاعی حربی طور بھی امریکہ کو پچھاڑتے ہوئے، چائینا عالمی طور سوپر پاور بن چکا ہے*

*بھارت جہاں فرنگی تسلط سے 1947 میں آزاد ہوا تھا، چائینا بھی 1949میں ایک اشتراکی ملک کے اعتبار سے آزاد ملک ڈکلیر ہوا تھا۔ان ستر بہتر سالوں میں، اونچ نیچ ذات برادری کے بھید بھاؤکے چلتے، ہم چائینا کے مقابلہ، اس تیز گتی سے ترقی نہ کر پائے تھے۔اوپر سے2014 انتخاب بعد، ھندو مسلم منافرت میں، نہ صرف ہم چائینا کے مقابلہ بلکہ کئی ایک پڑوسی ملکوں کے مقابلہ بھی ،عالمی سطح پر،اتنے پچھڑچکے ہیں کہ، ہمیں سنبھلتے سنبھلتے، ترقیاتی طور مظبوط بنتے، چائینا کے مقابلہ آگے آنے میں بہت عرصہ لگے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب ہم،!اب تو، ھندو مسلم ذات برادری سے اوپر اٹھ کر، اپنے دیش کو عالمی سطح پر، اوپر اور اوپر ترقیات کے معراج پر بٹھانے،ہم ھندو،مسلمان، سکھ، عیسائی، برہمن، دلت، شیخ، سید، مل کر بھارت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے پائے جائیں گے*
*آج جب یوروپین ممالک کو بھی اس بات کا ادراک ہوچلا ہے کہ اگلے کچھ سالوں بعد، عالم پر مغرب کی بالادستی ختم ہو جائیگی اور عالم کی سربراہی کی دوڑ میں چائینا، روس، ترکیہ، انڈونیشیا، انڈیا، ایران، پاکستان آگے ہونگے۔ صاحب امریکہ اپنے فیڈرل حیثیت بچانے میں کامیاب رہا تو ہوسکتا ہے معیشیت میں عالمی سطح پر دوسرے مقام پر رہے، ورنہ عالمی سطح کے ترقی پذیر ممالک کے ابتدائی دس ملکوں میں کم از کم پانچ چھ ممالک مشرق یا وسط مشرق ہی سے ہونگے۔ اور ان مشرقی ملکوں کی معاشی ترقیات میں،ون بیلٹ ون روڈ، مشرق کومغرب سے زمینی راستہ سے ملانے والا، سی پیک روڈ ہوگا ۔جو روس ،چائینا پی اوکے،پاکستان،گلگت بلتستان، افغانستان، ایران، ترکیہ ہوتے ہوئے یورپ امریکہ تک جائیگا۔ چائینا نے شروع میں، اپنے اس وقت کے دوست مودی جی سے اس عالمی تجارتی شاہراہ میں شراکت داری کا آفر دیا تھا لیکن ہمارے 56″سینے والے مہان شکتی سالی مودی جی نے،اپنےامریکی دوست کی دوستی کے زعم میں اور پاکستان دشمنی کے چلتے، اس تجارتی شاہراہ کی شراکت سے منھ موڑ لیا تھا۔ اب مستقبل کے ایام ہی ثابت کریں گے کہ مہان مودی کا چائینا کی دوستی کے مقابلہ، امریکہ دوستی، اسکے اپنے نوٹ بندی،جی ایس ٹی جیسے ناعاقبت اندیش فیصلوں کی طرح، پہلے سے بھارت چین سرحد پر کھوئی اپنی زمین کے ساتھ ہی ساتھ، امریکہ چائینا دشمنی کے درمیان پستے ایک اور وبھاجن ہوتے، کمزور ملک بھارت ہوکر رہ جائیگا؟ وما علینا الا البلاغ*

Leave A Reply

Your email address will not be published.