واٹس اپ، یوٹیوب آپ کے سب سے بڑے

0 55

ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدر سوشیو ریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد
9642571721

پہلے کمانڈمنٹ میں آپ نے پڑھا کہ ”چاہئے، چاہئے“ کو بند کیجئے یعنی علما کو یہ کرنا ”چاہئے“، عوام کو وہ کرنا ”چاہئے“۔ آپ کیا کرسکتے ہیں وہ آج شروع کیجئے ورنہ مشورے مت دیجئے اور نہ تبصرے کیجئے۔ دوسرے کمانڈمنٹ میں آپ نے پڑھا کہ ”میں، میں، میں“ کو دفن کیجئے۔تیسرا کمانڈمنٹ وہ ہے  جس کا  قیامت کے روزسب سے پہلے سوال ہوگا۔ اور اس کا جواب دیئے بغیر کوئی شخص اپنے رب کے سامنے سے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکے گا(چاہے اس کے ساتھ عبادتوں کے پہاڑ کیوں نہ ہوں)۔ یعنی ”وقت کہاں اور کیسے گزارا۔ عمر کہاں لگائی اور جوانی کی صلاحتیں، طاقت اور پُھرتیاں کہاں صرف کیں“۔ ”لاتزول ابن آدم یوم القیامہ من عند ربہ حتیٰ یُسأل عن خمسۃ، عن عمرہ فیما افناہ  و عن شبابہ فیما ابلاہ۔۔۔  (ترمذی  34595,2416)۔
آج امت ہر محاذ پر جس شکست، ذلت اور رسوائی کا شکار ہے اس سے ساری قوم واقف ہے۔ اس بدحالی سے باہر نکالنے کے لئے نہ کسی کے پاس ہتہیار ہے، نہ دولت نہ پاور۔ لیکن مایوسی کی بات اب بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں ایک نعمت عطا کی ہے وہ ہے ”وقت“۔ یہ سب سے بڑا ہتہیار ہے بشرطیکہ  ہم اس کا صحیح استعمال کرلیں۔ اور اگر نہ کریں تو اس کی بہت سخت پوچھ ہے۔ نمازیں، روزے، تلاوتیں، زکوٰۃ و خیرات سب کا حساب  بعد میں ہوگا، سب سے پہلے جس چیز کاحساب ہوگا وہ ہے ”وقت“۔ اس دنیا میں بھی وقت کی اہمیت کا احساس بچپن سے دلایا جاتا ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر جب کلاسس سجائی جاتی تھیں تو ہم سے یہ پوسٹر دیوروں پر چسپاں کروائے جاتے تھے ”“ یعنی ”وقت دولت ہے“۔ چونکہ ہم کمانڈمنٹس آف لیڈرشپ کی بات کررہے ہیں، اس لئے ہم دیکھیں گے کہ ہم لوگ جن کاموں میں اپنا وقت خرچ کررہے ہیں کیا وہ کام ہمیں لیڈرشپ بخش سکتے ہیں یا مزید کاہل اور بے مقصد انسان بناتے ہیں؟حضرت علیؓ نے فرمایاتھا کہ ”وقت ایک تلوار ہے، اگر تم اس سے نہیں کاٹو گے تو یہ تمہیں کاٹ دے گی“۔ پہلے ہم یہ دیکھیں کہ ہم کس طرح اس  وقت کے ہتہیار کو ناکارہ بنارہے ہیں، پھر آخر میں یہ دیکھیں گے ہم اس کو دوبارہ کیسے استعمال کے قابل بنا سکتے ہیں۔ جس طرح کسی شرابی کو یا کسی  جوّے باز یا چرسی کو یہ اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ خود کو اور پورے معاشرے کو کیسے برباد کررہا ہے اسی طرح جو لوگ آج ٹی وی، واٹس اپ، فیس بک  یا یوٹیوب پر مصروف رہتے ہیں انہیں یہ بالکل اندازہ نہیں ہے کہ وہ خود بھی کس طرح برباد ہورہے ہیں اور معاشرے کو کس طرح برباد کررہے ہیں۔ صبح اٹھتے ہی کئی واٹس اپ  اور فیس بک پوسٹ ہمارے منتظر رہتے ہیں،بھیجنے والے وہ  لوگ ہیں جن کے پاس فالتو وقت بہت ہوتا ہے۔ ان میں عورتیں اور مرد دونوں شامل ہیں۔ ٹوئٹر پر دیکھئے تو لوگ بڑے سیاستدانوں اور مشہور شخصیات کی نقل کرتے ہوئے دو دو چار  چار سطر کے پیغامات بھیجنے میں لگے ہیں۔ چاہے پڑھنے والوں کی تعداد دو چار سے زیادہ نہ ہو۔  انسٹاگرام  یا ٹک ٹاک اس جیسی چھچھوری سائٹس پر پوری نوجوان نسل دیوانی ہورہی ہے۔ اور ایسے ایسے واہیات پوسٹ ہوتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ نئی نسل کیا اس قدر بدذوق ہوسکتی ہے؟
سب سے زیادہ وقت کی بربادی واٹس اپ پر ہوتی ہے۔ جتنے میسیجس ہم روزانہ وصول کرتے ہیں اور فارورڈ کرتے ہیں، اپنے آپ سے سوال کریں کہ کیا ہم کو اتنی انفارمیشن کی واقعی ضرورت ہے؟ اس واٹس اپ سے پہلے بھی ہم زندہ تھے، کیا اس وقت زندگی میں کوئی کمی تھی؟ یا واٹس اپ آجانے کے بعد زندگی میں کوئی بہتری آگئی ہے؟ محلے میں کتنے گھر لٹ رہے ہیں ہم کو اس کی خبر نہیں ہے لیکن چین کے بارڈر پر کیا ہورہا ہے اس کی پل پل کی خبر ایک دوسرے کو فارورڈ کررہے ہیں۔ آپ کے خاندان والوں کو آپ کی ضرورت ہے لیکن آپ دنیا میں کرونا سے کہاں کتنے مررہے ہیں یہ فارورڈ کرتے بیٹھے ہیں۔ چونکہ زندگی میں کوئی بھی مقصد نہیں ہے، وقت بہت ہے  کہاں صرف کرنا ہے اس کا شعور نہیں ہے اس لئے بچوں کی طرح یہ سوشیل میڈیا پر فارورڈ فارورڈ کا کھیل کھیل  رہے ہیں۔
کچھ لوگ تھوڑے زیادہ سمجھ دار ہیں، وہ فارورڈ فارورڈ تو نہیں کھیلتے لیکن خود لکھ لکھ کر یا تو شائع کرواتے رہتے ہیں یا فارورڈ کرتے ہیں کہ مودی نے یہ کرڈالا، ٹرمپ کو وہ نہیں کرنا چاہئے تھا اور عمران خان کیا کررہے ہیں۔ لکھنے کا انداز ایسا ہوتا ہے گویا مودی اور ٹرمپ سامنے شرمندگی سے سر جھکائے کھڑے  ہیں اور آپ ان کے کان مروڑ کرآپ پوچھ رہے ہیں۔ ان کا لکھا ہوا خود ان کے بیٹے یا داماد نہیں پڑھتے  تو بھلا کوئی دوسرا کیا پڑھے گا۔ کیا اس دور میں مسلمان سوائے ساٹھ ستر سال کے بوڑھوں کے، کوئی سنجیدہ چیز پڑھتاہے؟آپ گھنٹوں اپنا وقت کیوں ضائع کررہے ہیں؟ پھر لکھنے کے بعد سب سے پوچھتے بھی ہیں کہ ”کیسا لکھا؟“۔ اور لوگ بغیر پڑھے تعریف بھی کرڈالتے ہیں کوئی لائک کلک کردیتا ہے کوئی انگوٹھا لہرادیتا ہے۔ اگر آپ کو کسی اخبار سے دو چار سو روپئے مل جاتے ہیں تو یہ پھر بھی ٹھیک ہے۔ لیکن ڈاکٹر، وکیل، کنسلٹنٹ وغیرہ اپنے وقت کے پیسے لیتے ہیں، لیکن آپ کو کیا ملتا ہے؟ پھر اپنا وقت کسی مثبت عملی کام میں کیوں نہیں لگاتے؟صحافی ہیں کہ مودی، امیت شاہ کو کسی بیوا کی طرح کوسنے میں لگے ہیں، علما حضرات ہیں کہ ایسے ایسے مسائل پر لکھے جارہے ہیں جن کی آج ضرورت نہیں ہے۔ ایک صاحب تشہد میں انگلی اٹھانے کے احکام لکھ رہے ہیں، کوئی مولانا چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے یا نہیں لکھ رہے ہیں، آج مسلمانوں کے اصل  مسائل کیا ہیں اور یہ حضرات کس قسم کے مسائل پر لکھ رہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ عورتیں ہیں کہ فیشن، زیور، یا پھر فضول چیزیں فارورڈ کرنے میں لگی ہیں۔ دینی مزاج کے لوگ ہیں کہ ہر وقت اختلافی مسائل پر ساری دنیا کے عقائد درست کرنے کی جنگ میں لگے ہوئے ہیں۔ دین قائم ہوتا ہے  یا نہیں یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے، بس ان کا مسلک قائم رہے، یہی ان کی جستجو ہے۔

واٹس اپ پر جو وقت کی تباہی ہے لوگ اس کا اندازہ نہیں کرتے۔ جب کسی میسیج کے آنے کی Bell سنائی دیتی ہے، ہم اس امید میں میسیج کھولتے ہیں کہ شائد کوئی اہم کام کی بات ہو۔ لیکن میسیج میں ہوتا ہے ”السلام علیکم، جمعہ مبارک، محرم کا چاند مبارک، بواسیر کا بہترین علاج، مودی کی تازہ تقریر، ایک فلم اسٹار نے پھانسی لگالی، مسلمان لڑکی بھاگ گئی“ وغیرہ۔ بے کار اور بے مقصد لوگوں کے لئے ایسے میسیج  تو وقت کو گزارنے کے لئے بہترین غذا ہیں، لیکن ایک مقصدی زندگی رکھنے والے مصروف لوگوں کے ساتھ یہ ظلم ہے۔ جو دو چار منٹ ان کے میسیج کھول کر کوفت اٹھانے میں ضائع ہوجاتے ہیں وہ کتنے قیمتی منٹ تھے اس کا بھیجنے والے بے وقوف کو اندازہ نہیں ہوتا۔ ہاں اگر لوگ ایسے بے مقصد میسیج اپنے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کو بھیجیں جو انہیں جانتے ہیں، اور جن کو ایسے میسیجس کی ضرورت ہے تو ان کو فارورڈ کرنا تو  ٹھیک ہے۔ لیکن بروڈکاسٹ گروپ بناکر ہر ایک کو بھیجنے کی عادت ڈال لینا نہ کوئی ثواب کا کام ہے نہ جہاد بلکہ دوسروں کا بھی وقت برباد کرنے والی حرکت ہے۔ تاوقتکہ کوئی میسیج ہر ایک کے لئے انتہائی اہم میسیج نہ ہو، ہرگز فارورڈ نہیں کرنا چاہئے۔
ویڈیوز فارورڈ کرنے والے تو اور بھی زیادہ وقت برباد کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اپنے وقت کو برباد کرنے کا قیامت میں حساب تو دیں گے ہی دیں گے، دوسروں کا وقت برباد کرنے کا بھی انہیں حساب دینا ہوگا۔ ویڈیو کیا ہے یہ لکھتے بھی نہیں تاکہ دیکھنے والے کو یہ اندازہ لگ جائے کہ یہ اس کے کام کی ہے یا نہیں۔ لیکن دیکھنے والے بھی اتنے سمجھدار نہیں ہوتے، جس طرح جانور ہر چیز کو  کھانے سے پہلے منہ لگا کر یا سونگھ کر ضرور دیکھتا ہے کہ کھانے کی چیز ہے یا نہیں،  یہ لوگ بھی  میسیج کھول کر  ضرور دیکھتے ہیں،  دو تین منٹ ضائع کرتے ہیں اور خود ہی کہتے ہیں کہ ”یار، بے کار چیزواٹس اپ بھیج کر ہمارا وقت برباد کردیا“۔ اگر ان لوگوں کو وقت کے اہم ہونے کا ذرا سا بھی شعور ہوتا تو وہ سب سے پہلے ان تمام کے نمبر کو بلاک کردیتے جو ایسے بے مقصد ویڈیو بھیج کر وقت ضائع کرتے ہیں۔
سوشیل میڈیا پر وقت برباد کے بدترین نقصانات:-۱۔ آپ جتنی ویڈیوز فارورڈ کرتے ہیں، کیا آپ کو یہ علم ہے کہ ان ویڈیوز کی وجہ سے ویڈیوز بنانے والوں کی ہر ویڈیو پر لاکھوں کی کمائی ہوتی ہے۔ کسی نے مسلمانوں کے خلاف خوب زہر اگلا یا کسی ہندو نے مسلمانوں کی تائید میں جواب دے کر فاشسٹوں کو ذلیل کردیا، کسی مسلمان کی پِٹائی کی جارہی ہے یا کوئی مسلمان کہیں پیٹ رہا ہے۔ آپ جیسے لوگ ہی جذباتی ہو کر یہ ویڈیوز ایک جہاد سمجھ کر فوری فارورڈ کرتے ہیں، اس پر ان کے مناظر بڑھتے ہیں، جس پر ان کو یوٹیوب سے پیسہ ملتا ہے۔ پھر جتنے زیادہ لوگ یہ ویڈیوز دیکھیں گے اتنے زیادہ اس ویڈیو بنانے والوں کو اشتہارملیں گے جس سے ان کی آمدنی دوگنی اور تِگنی ہوجائیگی۔ اس لئے ویڈیوز بنانے والے اتنے چالاک ہوتے ہیں کہ ایسی ویڈیو بناتے ہیں جس سے ہندو مسلمان سبھی جذباتی اور مشتعل ہوجائیں  اور اہم کام چھوڑ کر پہلے یہ ویڈیوز دیکھیں۔ یہ سارا ایک فِسکڈ میچ ہوتا ہے اور آپ کو بے وقوف بناکر کمایا جاتا ہے۔ یہ ساری ویڈیوز بنانے والی کمپیناں انہی فرقہ پرستوں کی  ہوتی ہیں جو کبھی مسلمانوں کے خلاف کبھی خود اپنے خلاف پروپیگنڈا کروا کر کماتی ہیں۔ ان کی آمدنی تو کروڑوں میں ہوتی ہے لیکن ان ویڈیوز کو فارورڈ کرکے آپ کو کیا ملتا ہے؟
۲۔ دوسرا بدترین نقصان یہ ہے کہ آپ جتنے واٹس اپ یا فیس بک پر میسیجس فارورڈ کرتے ہیں، ان میں سے آدھے سے زیادہ جھوٹے جعلی ہوتے ہیں۔ کوئی بھی خبر فارورڈ کرنے سے پہلے قرآن کے اس حکم کو زہن میں رکھیئے کہ ”یاایھالذین آمنوا اِن جاء کم فاسق بنباِِ فتبینوا اِن تصیبوا قوماّ بجھالۃ فتصبحوا علی مافعلتم نادمین“۔ (حجرات 6)۔ یعنی ائے ایمان والو جب کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو پہلے اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ جہالت میں کسی بِھڑ جاو اور تم کو پھر اپنے کئے پر شرمندہ ہونا پڑے۔ ایک حدیث میں یہی بات اور زیادہ واضح اور تنبیہ کے ساتھ آئی ہے کہ ”کفیٰ بالمرءِ کذباّ ان یحدث بکل ما سمع“ یعنی ایک شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا بھی کافی ہے کہ اس کے پاس جو بھی خبر آئے وہ بغیر تحقیق کے دوسروں کو سنا دے۔
۳۔ دشمن کا سب سے بڑا ہتہیار یہ ہوتا ہے کہ وہ آپ کو خوف میں مبتلا رکھے۔ یہ سائیکالوجیکل وارہے جو فیلڈ وار یعنی میدانی جنگ یا فسادات سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کے ذریعے آپ کے حوصلے کو ختم کیا جاتا ہے یعنی آپ کی ہمت اور ایمان کو کمزور کردیا جاتاہے۔ اسی لئے قرآن نے کہا کہ اور تم کو ضرور آزمایا جائیگا کئی چیزوں سے جن میں سب سے پہلے خوف ہے۔ ”ولنبلونکم بشئی من الخوف۔۔۔۔۔ یہ جو لنچنگ، یا اکیلے مسلمانوں کو گلیوں یا کھیتوں میں مارے جانے کے، مسجدیں گرانے کے ویڈیوز ہوتے ہیں یہ صرف اسلئے پھیلائے جاتے ہیں کہ مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلا کر ان کے ذہنوں کو شکست خوردہ کردیا جائے۔ ان کے ذہن میں بیٹھ جائے کہ وہ اب فرقہ پرستوں کے آگے جھک کر رہیں۔ آپ ایسی ویڈیوز کو دیکھ کر غصے میں یا غیرتِ جذبات میں مشتعل ہوکر جتنی جگہ فارورڈ کرتے ہیں آپ انہی فرقہ پرستوں کی مدد کررہے ہیں جو اس خوف کو گھر گھر پہنچانا چاہتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک غنڈہ بھی آپ کی بستی میں آکر کسی معصوم پر ظلم کرے تو بجائے پولیس یا قانون کی مدد لینے کے، بجائے گھر سے باہر نکل کر مقابلہ کرنے کے،  آپ ڈر جاتے ہیں اور دروازے بند کرلیتے ہیں۔ یاد ہے جب حافظ جنید شہید، ایک نوجوان جو مدرسے کی چھٹیوں میں ٹرین میں گھر جارہا تھا تو اسے ٹرین سے اتار کر پلیٹ فارم پر خنجروں سے شہید  کردیا گیا۔ کئی لوگ جو دیکھ رہے تھے ان میں  خود اس نوجوان کے مدرسے کے ساتھی بھی تھے، جو ڈر کر اس کو بچانے نہیں آئے، جنید شہید  چیخ چیخ کر مدد کے لئے پکار  رہا تھا۔ اس شہید کی ماں کے الفاظ کو یاد کیجئے کہ ”اگر دو چار دوست بھی اس کی مدد کے لئے آجاتے تو میرا بیٹا بچ سکتا تھا“۔ فرقہ پرست یہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنے آپ کو سپرد کردیں اور دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح اس ملک میں ڈرے سہمے رہیں۔ آپ ایسی ویڈیوز کو فارورڈ کرکے دشمنوں کے کام کو آسان کررہے ہیں۔ اپنی قوم کی شکست اور ذلت کا اانتقام لینے کے بجائے دوسروں کو بھی بزدل اور کمزور بنارہے ہیں۔
۴۔ آپ ایسی ویڈیوز پھیلا کر خود بھی اور دوسروں کو بھی شوگر، بی پی، ٹنشن، ڈپریشن اور خوف کا شکار کرتے ہیں۔ کیونکہ جب مسلسل یہی خوف و ہراس کی چیزیں دیکھتے رہیں گے،  مقابلے کی کوئی صورت نہیں پائیں گے تو آپ کو خوف کی وجہ سے یہ ساری بیماریاں لگتی جائیں گی۔ اورجو  دوسری ویڈیوز اس سے ہٹ کر ہیں جو صرف وقت گزاری کے لئے ہیں جیسے فلمیں، ڈرامے،  جنرل نالج وغیرہ۔ ان کو دیکھ دیکھ کر آپ صرف تھکیں گے، اور آپ میں کاہلی، سستی اور فضول وقت گزاری کی عادت پختہ ہوتی جائے گی۔
۵۔ کئی فالتو میسیجس کو پڑھنے کے چکر میں آپ میں یہ اضطراب یا بے چینی پیدا ہوجاتی ہے کہ آپ ہر میسیج کو ایک منٹ میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ کوئی پوسٹ ذرا سی بھی لمبی ہو تو آپ اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ بامقصد سنجیدہ پوسٹ سے محروم ہوجاتے ہیں اور لچّر میسجس جن میں لطیفے، گانے یا فضول خبریں ہوتی ہیں ان کو ایک دومنٹ میں دیکھ دیکھ کر غیر سنجیدہ ہوجاتے ہیں۔ ہم کو اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہماری کمانڈمنٹس والی ویڈیوز ہیں یا جہیز کے خلاف ورکشاپ ہیں یا دوسری اہم موضوعات پر تقریریں ہیں، ان کو مختضر کرکے چار پانچ منٹ میں لائیں۔ کیوں کہ لوگ ان کو بھی لطیفوں اور گانوں کے میسیجس کی طرح جلدی جلدی دیکھنا چاہتے ہیں۔ فالتو چیزیں دیکھنے کے ان کے پاس ٹائم ہے لیکن دس فالتو چیزوں کو ڈیلیٹ کرکے ایک سنجیدہ چیز دیکھنے کا ٹائم نہیں ہے۔ ہم ان لوگوں کو یہی جواب دیتے ہیں کہ ہمارے ویڈیوز یا مضامین آپ نہ ہی دیکھیں تو بہتر ہے۔ کیونکہ غیرسنجیدہ لوگ تو ویسے بھی قوم کے کسی کام کے لائق نہیں۔ ان کے لئے لطیفے ہی بہتر ہیں۔ یہ اچھی طرح یاد رکھیں کے اگر آپ کو واقعی کوئی سنجیدہ کام کرنا ہے تو آپ کو پوری توجہ کے ساتھ ویڈیوز یا آڈیوز کو دیکھنے یا سننے کی عادت ڈالنی پڑے گی۔ مختصر کرو کہنا ایک جہالت ہے۔
۶۔ آپ انجانے میں ایک اور بھیانک غلطی کررہے ہیں۔ فرض کرلیں کہ X  پارٹی مسلمانوں کی دشمن ہے۔ آپ اس کے خلاف جو بھی واٹس اپ آئے اس کو فارورڈ کرنا فرض سمجھتے ہیں۔  کیا آپ کو علم ہے کہ آپ X  پارٹی سے نفرت کو عام کرکے کس پارٹی کی غیر ارادی طور پر تشہیر کررہے ہیں؟ لوگ الکشن میں آپ کی بات مان کر بجائے X  کو ووٹ دینے کے Y  کو، یا Z پارٹی ووٹ دیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا Y   یا  Z  مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے والے ہیں؟ اب تو حالت یہ ہے کہ خود مسلمان پارٹیاں مسلمانوں کی غفلت اور بے بسی کا فائدہ اٹھا کر بِک رہی ہیں، دلال بنی ہوئی ہیں۔ جس طرح بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں اٹھا رہی ہیں اور وقف کی زمینیں بِکوا کر، مسجدوں کو منہدم کرواکر، معصوم لڑکوں کو دہشت گردی میں پھنسا کر اپنا فائدہ کررہی ہیں، تو سوال یہی ہے کہ آپ  X سے بدلہ لینے کے چکر میں کس کا فائدہ کررہے ہیں؟  بہتر یہ ہے  کہ اسی کا فائدہ ہونے دیجئے جو کھلا دشمن ہے۔ کھلا دشمن، چھپے ہوئے منافقوں سے بہتر ہوتا ہے۔
وقت کا صحیح استعمال کیسے کیا جائے۔آپ اپنی زندگی کا ایک مقصد طئے کیجئے۔ بیک وقت آپ سیاست، مذہب، سماجی خدمت، ادب، کرونا وغیرہ کے فرنٹس پر کام نہیں کرسکتے۔ ورنہ آپ کِرانے  کی دوکان بن جائیں گے جس پر بے شمار چیزیں ملتی ہیں لیکن آپ ایک گلی کے ہی ہوکر رہ جاتے ہیں۔  یعنی ہر کام میں ٹانگ اڑا تے ضرور ہیں لیکن کام کسی فیلڈ میں بھی نہیں کرسکتے۔ ہر معاملے میں صرف تبصرے اور مشورے یا تنقید کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہر موضوع پر بک بک تو کرسکتے ہیں لیکن مثبت کام کسی موضوع پر نہیں کرسکتے۔ ہر آدمی دانشور بن جاتا ہے، مشوروں کے انبار جیبوں میں لے کر گھومتا رہتا ہے۔
کوئی ایک جماعت منتخب کیجئے۔ یا تو سوشیوریفارمس سوسائٹی کا ساتھ دیجئے، یا دوسری بہت ساری جماعتیں ہیں جو قوم کے سیاسی، معاشرتی، اکنامک محاذوں پر کام کررہی ہیں۔ اگر آپ کی انا بہت زیادہ  بڑی ہے اور آپ کسی کے والنٹیئر بن کر کام کرنا نہیں چاہتے، اپنے لیڈر آپ بن کر رہنا چاہتے ہیں تو کوئی بھی ایک کام منتخب کیجئے جس کا تعلق تعلیم، سوشیل ویلفیر، شعور  بیداری یا ادب وغیرہ سے ہو، اپنی تمام صلاحتیں اور اپنا وقت پورا اس کام کی تکمیل میں صرف کیجئے۔ سوشیل میڈیا پر صرف اپنے کام سے تعلق رکھنے والی چیزوں کو جاری رکھئے، جو تعلق نہیں رکھتیں انہیں فوری حذف کیا کیجئے اور ایسے بے مقصد لوگوں کو بلاک کرنا شروع کردیجئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.