مولانا وصی احمد قاسمی:شخصیت کے چند نقوش

0 16

نور السلام ندوی
جمالپور،دربھنگہ(بہار)

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقائے دوام لاساقی
آہ مخدوم و محترم حضرت مولانا وصی احمد صدیقی قاسمی بھی سفر آخرت پر روانہ ہوگئے،بلاشبہ موت کا ایک دن معین ہے، اور ہر شخص کو اس راہ کا راہی ہونا ہے،لیکن سال رواں باالخصوص اس دو مہینے میں جس کثرت کے ساتھ علماء وصلحا اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں،اس سے ایسا لگتا ہے یہ سال ملت کے لئے عام الحزن ہے،اور قیامت بہت نزدیک آگیا ہے، اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی ایک علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ قرب قیامت کے وقت علم اٹھا لے گا، یعنی اس دنیا سے علماء اور اہل علم رخصت ہو جائیں گے،آج یکے بعد دیگرے نامورعلماء ہمارے درمیان سے اٹھتے جا رہے ہیں،ابھی مولانا متین الحق اسامہ قاسمی کے سانخہ ارتحال کا زخم مندمل بھی نہیں ہوا تھا کہ مولانا محمد سلمان صاحب ناظم مظاہر علوم سہارن پور داغ مفارقت دے گئے اس صدمہ سے ابھر بھی نہیں پائے تھے کہ اچانک حضرت مولانا وصی احمد قاسمی مہتمم مدرسہ چشمہ فیض ململ اور بانی وسرپرست جامعہ فاطمہ الزہراء ململ راہی عدم ہو گئے،یہ اطلاع پاکر دل صدمہ سے چور ہے،اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر و استقامت عطا فرمائے، آمین، وصی احمد قاسمی ان شخصیات میں تھے جو دیر تک یاد کئے جاتے رہیں گے،ان کے کارنامے،سرگرمیاں،جہد مسلسل سے عبارت زندگی،تعلیمی وتحریکی فعالیت،سماجی و فلاحی خدمات،ملت کی فکر مندی،قوم کی دردمندی،طلبہ کے ساتھ ہمدردی، اساتذہ کے ساتھ نرمی، انسانیت نوازی،مہمان نوازی، بلند اخلاق، اعلی کردار یہ وہ اوصاف تھے جو ان کو زندہ جاوید رکھیں گے،
سال 1998 کا موسم گرما تھا ، دن اور تاریخ یاد نہیں ،جب عم محترم حضرت مولانا ہارون الرشید صاحب مجھے اور اپنے فرزند ارجمند حافظ سفیان احمد کو لے کر مدرسہ چشمہ ململ داخلہ کے لئے حاضر ہوئے تھے ۔ دوپہر کا وقت تھا ،سخت دھوپ اور گرمی تھی ، مدرسہ کے اساتذہ اور طلبہ کھانا اور نماز ظہر سے فراغت کے بعد آرام کر رہے تھے ،ہم لوگ بھی تھکے ماندہ تھے ، آرام کی ضرورت تھی ،وہاں موجود شعبہ حفظ کے ایک استاذ نے ضیافت کے بعد ہمیں آرام کرنے کا مشورہ دیا ،تھوڑی دیر آرام کیا، عصر کی نماز ادا کی ،بعد نماز عصر مدرسہ کے صحن میں، گھنے خوبصورت تینوکے درخت کے سایہ میں اساتذہ کرام کی مجلس جمی تھی ، ایک میانہ قد عالم دین، بھاری بھرکم جسم ، سفید کرتا پائجامہ، سر پر دوپلی ٹوپی اور عربی رومال ، آنکھوں میں بڑے فریم کا چشمہ ، سفید اور گھنی ڈارھی ، چمکتی پیشانی ، روشن آنکھیں ، مسکراتا چہرہ اور حسن و جمال کا پیکر، اساتذہ کے درمیان توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا ۔ معلوم ہو اکہ یہ مدرسہ کے ناظم و سرپرست حضرت مولانا وصی احمد قاسمی صاحب مدظلہ العالی ہیں۔ جن کا ذکر خیر حضرت مولانا ہارون الرشید صاحب سے پہلے ہی سن چکا تھا ،بڑھکر مصافحہ کیا ،انہوں نے نام پوچھا اور خیریت دریافت کی ۔ گرچہ داخلہ کا وقت کافی پہلے ہی نکل چکا تھا ، تاہم مولانا ہارون الرشید صاحب ناظم صاحب سے اس سلسلے میں پہلے ہی بات کر چکے تھے ، دونوں ایک دوسرے کا بہت احترام کیا کرتے تھے، دوسرے دن صبح داخلہ کی کاروائی ہوئی اور اس طرح تعلیمی سلسلہ مدرسہ چشمہ فیض ململ میں شروع ہو گیا ۔
مدرسہ چشمئہ فیض تعمیر کے لحاظ سے اس وقت کوئی خاص نہیں تھا، تاہم تعلیم کے لحاظ سے بہت پر کشش اور متاثر کن تھا ، اساتذہ محنتی اور مخلص ، کم تنخواہ اور کم سہولیات پر قناعت کرنے والے ، طلبہ نظام الاوقات کے پابند اور مدرسہ کے نظم و ضبط کا خیال رکھنے والے ، مدرسہ کی دو منزلہ عمارت میں کل ملا کر دس کمرے سے زائد نہ رہے ہونگے، مدرسہ کا ایک چھوٹا سا صحن، ایک گھنا اور سایہ دار تینو کا درخت ، مدرسہ سے متصل ہی ایک بڑی مسجد، مسجد کے سامنے بڑا اور مچھلیوں سے بھرپور تالاب ، ان ماحول اور درودیوار کو دل و نگاہ کا عادی بنانے کی کوشش کرتا رہا،کیونکہ آئندہ کئی برسوں تک یہیں رہ کر تعلیم حاصل کرنی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دن گذرتے وقت نہیں لگتا، دیکھتے ہی دیکھتے طالبعلمانہ زندگی کی پانچ بہاریں یہاں گذار دیں۔
گذارے ہیں خوشی کے چند لمحے
انہیں کی یاد، اپنی زندگی ہے
اس دوران حضرت مولانا وصی احمد قاسمی صاحب کی پر کشش شخصیت کی صحبت حاصل رہی اور حتی المقدور استفادہ بھی کرتا رہا ، حضرت ناظم صاحب با وقار عالم دین ، اخلاقی اقدار کے حامل ، پرانی قدروں کے پاسدار ، تہذیب کے نمونہ، شرافت و شائستگی کی تصویر اور وضع داری اور رکھ رکھاؤ میں اپنی مثال آپ تھے قدیم و جدید کا حسین امتزاج آپ کی زندگی میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کا مسلک قدیم صالح اور جدید نافع پر ہے ، ناظم صاحب نے مدرسہ چشمئہ فیض ململ کو نہ صرف یہ کہ اس مسلک کا ترجمان بنایا بلکہ خود اس کی عملی تصویر بن کر سامنے آئے ،آج کے سائنٹفک دور میں کسی بھی چیز کی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے اسے پریکٹیکل میں لانا بے حد ضروری ہے ، اسی طرح کسی بھی فکر کو پروان چڑھانے کے لئے اس فکر کو اپنی زندگی اور عمل میں ڈھالنا ضروری ہوتا ہے ۔ ایسا کرنے سے خود بخود Followers(فلوورس)بنتے چلے جاتے ہیں ۔اور واقعہ یہ ہے کہ نہ صرف مدھوبنی ، دربھنگہ اور سیتامڑھی کے طلبہ کا یہ امید کا مرکز بنا ،بلکہ پورے اتر بہار کے طلبہ یہاں کشاں کشاں آتے تھے اور علمی تشنگی بچھا کر جاتے تھے ، اور الحمد اللہ آج بھی یہ ادارہ اسی طرح اپنا فیض لٹا رہا ہے ۔اور زبان حال سے یہ پیغام دے رہا ہے:
میری آرزو یہی ہے کہ ہر اک کو فیض پہنچے
میں چراغ رہ گذر ہوں،مجھے شوق سے جلاو
حضرت مولانا وصی احمد قاسمی صاحب سے متعلق چند تاثراتی سطر یں سپرد قلم کر رہا ہوں ،اس لئے سردست صرف انہیں باتوں کا ذکر کروں گا جو میرے ذاتی احساسات و تاثرات اور تجربات پر مبنی ہیں۔ مدرسہ کے طالب علمی کے دور سے لے کر اب تک جو میں نے محسوس کیا وہ یہ کہ ناظم صاحب بڑے متواضع اور دردمندانسان تھے، ٹوٹ کر محبت کرنے والے اور چاہنے والے ،درد مندی ایسی کہ معمولی ناخوشگوار واقعہ پر بھی آپ کی آنکھیں ڈبڈبا جاتیں ،یہ اللہ والے کی پہچان ہے اور دل بیناو دل سوز کی علامت ہے ۔ مدرسہ کے طلبہ کو ہمیشہ اپنے گھر اور خاندان کے بچے سمجھتے رہے ، پیار، شفقت اور محبت لٹاتے رہے ،حسب ضرورت ڈانٹ پھٹکار بھی لگاتے، مگر آپ زیادہ تر جزر و توبیخ کے قائل نہیں تھے۔ جس وقت میں وہاں تعلیم حاصل کر رہا تھا دو چیزوں کا عمدہ انتظام نہیں تھا،ایک قیام اور دوسری طعام،مالی حیثیت سے بھی ادارہ کمزور تھا،لیکن ناظم صاحب کو دیکھتے ہمیشہ مسکرا رہے ہیں، طلبہ سے مل رہے ہیں، چہرہ پر مسکراہٹ ہے ،اساتذہ سے باتیں کر رہے ہیں، ہنس رہے ہیں ،لیکن ان کا دل اندر ہی اندرطلبہ کی پریشانیوں سے پریشان رہتا ، دل سوچ رہا ہوتا ، دماغ پلاننگ کر رہا ہوتا ، کیا کرنا ہے ، کیسے ادارہ کو ترقی دینا ہے ، تعلیمی میعار کو کیسے اونچا کرنا ہے ، وغیرہ ۔ ناظم صاحب طلبہ کے آرام وراحت کے خاطر بیشتر اسفا رمیں ہی رہا کرتے ، اس دوران نائب مہتمم حضرت مولانا مکین احمد صاحب رحمانی سے مدرسہ کی پل پل کر خبر لیتے رہتے ۔ ناظم صاحب کے غائبانہ میں مولانا مکین احمد مدرسہ کے انتظامی امور میں اسی طرح فکر مندی، دل سوزی اور دلچسپی لیتے جس طرح ناظم صاحب ۔۔۔۔۔۔۔ دونوں کی فکر ی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کی باتوں کو مان کر چلنے کے جذبہ نے ادارہ کو بلا شبہ ترقی دی ،اور ہنگامی حالات میں بھی ادارہ مامون و محفوظ رہا ۔اور اس شعر کی عملی تصویر پیش کرتا رہا:
سلگنا اور شئی ہے جل کر مرجانے سے کیا ہوگا
جو ہم سے ہو رہا ہے کام پر وانے سے کیا ہوگا
ناظم صاحب انتظامی امور میں بڑے ماہر تھے ، افراد کو جوڑنا اور جوڑکر رکھناانہیں خوب آتا تھا ، اساتذہ اور طلبہ سے اکثر روبرو ہوتے ،خاص طور پر جب کسی سفر سے واپس آتے تو بعد نماز عشا مسجد میں طلبہ کو وعظ و نصیحت فرماتے، سفر کے تجربات بیان کرتے ، طلبہ کے تئیں اپنی فکر مندی اور درد مندی کا اظہار کرتے ۔ اس کا دو فائدہ تو کم از کم میں نے ضرور محسوس کیا ،ایک تو یہ کہ تجربات ومشاہدات کی روشنی میں وہ جو کچھ فرماتے اس میں ہم طلبہ کے لئے بڑی نصیحتیں اور سبق آموز باتیں ہوتیں ، جس کا فائدہ اس وقت کم اور عملی زندگی میں زیادہ ہوا، دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ ان سےطلبہ کو بڑی تحریک اور تقویت ملتی ۔ وہ چھوٹی چھوٹی اور معمولی معمولی باتوں کی طرف بھی ہم طلبہ کی توجہ مبذول کراتے، وہی چھوٹی اور معمولی باتیں انسان کو بڑا بناتی ہیں،ماہ وسال کی گردش سے آج جس مقام پر بھی ہوں اور جیسا بھی ہوں ان میں مادر علمی اور ناطم صاحب کی ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا بڑا حصہ ہے۔ آپ بڑے مہمان نواز اور خلیق انسان تھے ، اکرام ضیوف آپ کی شخصیت کا نمایاں حصہ ہے ،مدرسہ میں ایک دودنوں بعد مہمانوں کی آمد ہوتی رہتی تھی ،زندگی کے مختلف شعبہ سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات کی تشریف آوری ہوتی رہتیں ،ناظم صاحب ان کے کھانے پینے کا انتظام اپنے گھر سے کرتے اور پر تکلف دعوت کرتے۔
آپ بڑے حوصلوں اور جذبوں کے ساتھ کام کرتے تھے ،ویسے بھی کوئی ادارہ چلانا معمولی بات نہیں ہے ،کم ہمت اور بے لوث آدمی اس میدان میں منزل نا آشنا ہوجاتا ہے ،ناظم صاحب نے حوصلوں کو زندہ رکھا اور جذبوں کو پروان چڑھایا ۔پیرانہ سالی میں جب کہ عمر ۷۰ سے تجاوز کر چکی تھی ،عزم جواں اور عمل پیہم کا پیکر معلوم ہوتے تھے۔ آپ کی شخصیت کا یہ پہلو بھی قابل رشک ہے کہ آپ نرے عالم نہیں تھے ، بلکہ علاقائی اور قومی سیاسیات اور حالات حاضرہ سے باخبر رہتے ، مقامی سیاست میں دلچسپی لیتے، علاقائی جھگڑوں اور پنچایتوں میں مقدمے کے فیصلے کے لئے بلائے جاتے،یہ آپ کی مقبولیت کی دلیل تھی، لوگوں کی نگاہ میں آپ باکار بھی تھے اور باوقار بھی-
آپ کی پیدائش 1945 کوعلمی اور تہذیبی سرزمین ململ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی، پھر جامعہ رحمانی مو نگیر تشریف لے گئے، اس وقت مدرسہ امداد یہ لہریاسرا ئے دربھنگہ کا بڑا نام تھا، چنانچہ یہاں بھی علمی تشنگی بجھائی اور اس وقت کے ماہر فن اساتذہ سے کسب فیض کیا،بعد ازاں دارالعلوم دیوبند گئے اور یہاں سے سند فضیلت حاصل کی،فراغت کے بعد 1975میں مدرسہ چشمہ فیض ململ کی ذمہ داری آپ کو سپرد کی گئی،اس وقت یہ ادارہ مکتب کی شکل میں تھا، انہوں نے اپنی محنت، صلاحیت اور صالحیت سے اسے سینچا، پروان چڑھا یا اور ایک بڑے ادارہ کی شکل دی، 1992 میں اس کا الحاق دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے کروایا، اسی سال اُنہوں نے تعلیم نسواں کے فروغ کے لیے جامعہ فاطمہ الزہراء ململ کی بنیاد رکھی،جو شمالی بہار میں لڑکیوں کا پہلا ادارہ ہے، اس ادارہ میں لائق وفائق اساتذہ اور ماہر معلمات کی نگرانی میں دورہ حدیث شریف تک کی تعلیم ہوتی ہے،
ناظم صاحب میدان عمل کے آدمی تھے، ان کا جوش عمل کبھی بھی خموش نہیں ہوا، پیرانہ سالی ا ور ضعف وکمزوری ان کے عزائم کو مضمحل نہ کر سکا،مصائب ومشکلات ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے، آپ نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو کی مثال بنے رہے، اور اس شعر کے مصداق رہے:
ہر گام حادثوں سے تعارف ہوا مگر
ہم مسکرا کے حسب روایت گزر گئے

Leave A Reply

Your email address will not be published.