سقم کورونا،عالمی سازش ایک حد تک کامیاب

0 163
                 نقاش نائطی
             +966504960484
وہ ہمیں پاگل بنارہے تھے اور ہم پاگلوں کی طرح ان کے اشاروں پر ناچتے ہوئے، انہیں خوش کررہے تھے۔کل انہوں نے کہا کہ کورونا خطرناک متعدی مرض ہے اس سے بچنے کےلئے انسانوں کو آپس میں سوشل ڈسٹینسنگ قائم کرنا ضروری ہے، ہم نے اپنوں سے بھی نہ صرف ناطہ توڑ لیا بلکہ اپنے پیدا کرنے والے پروردگار کا شکر بجا لانے اور اس کی عبادت کرنے تک سے پہلو تہی اختیار کرلی۔ پہلے انہوں نے کہا یہ سقم کورونا گرمی کی شدت سے ختم ہوجائے گا ہم نے اسے وقتی سقم سمجھ کر ہر طرح کی پابندیوں سے جوجنے کی صلاحیت اپنے میں پیدا کرلی ۔اب وہی عالمی ادارہ صحت کے ذمہ دار کہہ رہے ہیں کہ یہ سقم لمبے عرصہ تک رہنے والا ہے اس لئے ہمیں کورونا کو ساتھ لئے، جینے کی عادت ڈالنی پڑیگی۔ اور ہم ان کے اشاروں پر،اس کورونا سقم کو، دیگر اس جیسے ڈینگو،ملیریا، فلو انفلویبزا، کی طرح اپنی روز مرہ زندگی میں ساتھ لئے جینے کی کوشش میں لگے ہوئے   ہیں۔ پہلے کہا گیا کہ کویڈ19 مہلوکین کو بغیر غسل، بغیر تجہز تکفین کے زمین میں دبا دیا جانا چاہئیے۔ دنیا نے دیکھا امریکہ جیسا سوپر پاور ملک بھی اپنے مردوں کے کوفنس کو اجتماعی طور حوالہ زمین کررہا ہے۔اور پورا عالم حتی کے بہت سے عرب ممالک بھی کویڈ 19 اپنے مردوں کو ہاسپٹل کے ملبوسات میں پلاسٹک تھیلیوں میں مہر بند عام قبرستانوں سے پرے انجان قبرستان میں حوالہ تراب کررہے ہیں۔     اب وہی عالمی ادارہ صحت کہہ رہا ہے کہ مرنے کے کچھ گھنٹوں بعد مردہ پر، موجود کورونا وائرس بھی مر جاتے ہیں اس لئے میت سے کوئی  خطرہ باقی نہیں رہتا۔ پھر کویڈ 19 متاثرین کے جس خاکی کو آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے، انکے لواحقین کے حوالےکیوں نہیں کیا جارہا ہے؟
پہلے  کی، ان ہی کی ہدایات  کے برخلاف اب عالمی ادارہ صحت کہہ رہا ہے کہ یہ سقم کورونا متعدی مرض نہیں ہے اس لئے سوشل ڈسٹینسنگ کی ضرورت نہیں ہے۔یہ اب ہمیں بی طہ کرنا ہے کہ ہم میں سے پاگل کون ہے؟ وہ جو ہمیں ہر دن ایک نئی بات کہتے ہوئے اپنی باتوں سے تگڑی کا ناچ نچا رہا ہے؟  یا ہم خود پاگل ہیں جو ان پاگلوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں؟ کیا یہی وہ ورلڈ آرڈر ہے؟ جو اسلامی ملکوں تک کو وحدہ لا شریک سے ڈرنے اور اسکی امان میں پناہ ڈھونڈنے کے بجائے، ہزار دلیلوں ہزار تاویلات سے، صاحب امریکہ یا عالمی ادارہ صحت کے اشاروں پر، اپنے ناچنے کی تاویلات  ہم دئیے جارہے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت 137 کروڑ بھارت واسیوں کو،کم وبیش تیس ریاستی،چار پانچ سو کمشنروں کے ذریعہ سے، ایک چاء والے کے اشاروں پر نچایا جارہا ہے؟۔  دنیا کے بڑے تونگروں، پڑھے لکھے  اہل علم اہل دانشور ہزاروں شہریوں کے سامنے، ان کی کیا اوقات؟ جو وہ  خود اپنے سے بڑوں کے سامنے سربسجود ہوتے اقدار کے رہتے ، پوری انسانیت کو اپنے اشاروں پر نچا رہے ہیں۔
جب بھارت ہی میں نہیں پورے عالم میں کورونا پھیل رہا تھا ہمارے 56″ سینے والے مہا شکتی سالی مودی جی نے، نہ صرف بھارتی ہوائی حدود عالم والوں کے لئے، بھارت میں کورونا پھیلانے، کھلی رکھی ہوئی تھیں۔  بلکہ اپنے ساتھ بھارت کی خارجہ پالیسیز کو پوری طرح صاحب امریکہ کی گود میں بٹھائے رکھنے کے لئے، نمستے ٹرمپ کے بہانے اسکے ہزاروں سیکیورٹی کارڈس کو احمد آباد گجرات آگرہ دہلی سرکاری زیر انتظام سیر کرواتے ہوئے اور گجرات احمد آباد موٹورا اسٹیڈیم میں، دیش بھر سے لاکھوں گجراتیوں کو جمع کرواتے ہوئے، پورے سرکاری نظم و ضبط کے ساتھ ملک بھر میں کورونا پھیلنے کا بندو بست کیا گیا تھا۔مدھیہ پردیش عوامی ووٹوں سے جیت کر آئی کانگریسی سرکار کو، اپنے کنول آپریش سے گراتے ہوئے، شیوراج سنگھ چوہان کی سنگھی حکومت قائم ہوتے تک، لاک ڈاؤن سے احتراز کر،دیش بھر میں کورونا پھیلنے دیا گیا تھا اور پھر اچانک دیش بھر کا کرفیو طرز لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے، کویڈ 19کے علاج یا اس سے بچاؤکے لئے مناسب تدابیر اختیار کروانے کے بجائے، دیش میں وقتی کورونا  پھیلاؤ سے روکا گیا تھا ۔حکومت کی انہی غلط پالیسیوں کے نتائج ہیں کہ دیش بھر میں تین ماہ کے لاک ڈاؤن سے دیش کی معیشت، پوری طرح برباد کرنے کے بعد، جب لاک ڈاون سے دیش کوایک حد تک نجات ملی تو، کویڈ 19 نے پورے دیش  کو اپنی ہلاکت خیزی میں لینا شروع کردیا ہے۔یہ اب ھند واسیوں کی ستم ظریفی ہے کہ مہان مودی   کی سرپرستی میں بھارت، عالم کے مقابلہ، ہر منفی ریکارڈ حاصل کرنے میں اور دیش سے آگے، بہت آگے نکلتا جارہا ہے۔  اب دیکھیئے کویڈ 19 متاثرین میں بھی بھارت عالم کے تیسرے مقام تک، نہ صرف پہنچ چکا ہے بلکہ مودی  جی کو اس کویڈ19 تباہی کی دوڑ میں بھی، اپنے آقا،صاحب امریکہ سے بالکل پیچھے دوسرے نمبر پر پہنچنے کی ہوڑ گویا  لگی ہوئی ہے۔اسی لئے مہان مودی جی  کی کرپا سے، آج کل 25 ہزار کویڈ 19 متاثرہ کیسز روزانہ کی بنیاد پر دیش بھر میں سامنے آرہے ہیں
کورونا پر لکھے اور اپریل میں طبع ہمارے مضمون میں، ہم نے صاف لکھا تھا کہ فلو انفلوئنزا، ڈینگو، ملیریا ٹائیفائیڈ  جیسی ہی یہ کورونا وائرل متعدی بیماری ہے۔ یہ عموما دو تہائی علاقے کے لوگوں کو متاثر کریگی اور ہمارے جسمانی خود مدافعتی نظام استطاعت کے سبب، ہم خود بخود اچھے اور صحت یاب بھی ہوجائیں گے،  ہاں یہ سقم کورونا، ہمارے درمیان موجود معمر انسانیت کے لئے، ذرا خطرناک اس لئے ہے کہ ان میں عمر کے لحاظ سے ڈائیبٹئس، گردے فیلور ،جگر کہ خرابی، بلڈپریشر،گیسٹرو  ٹرایٹس، دل کی شریانوں کا چربی سے بند ہونا اور آلات تنفس پھیپڑے کی بیماریاں دمہ وغیرہ رہنے کی وجہ سے، پہلے ہی سے ان کا خود مدافعتی نظام متاثر رہتا ہے، ایسے میں اگر انہیں کورونا مرض لاحق ہو جائے تو ان میں موجود دوسرے سقم کنٹرول سے باہر ہوتے ہوئے، موت سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے۔
مختلف اخبارات میں چھپے وقفے وقفے سے سامنے آتے رہنے والے متعدد ارباب حل و عقل کے مضامین و سائبر میڈیا پر گھومتی خبروں کےمطابق یہ سقم کورونا عالمی دوا ساز مافیا کے ایک منظم سازش کے تحت، کھیلے گئے کھیل، نیو ورلڈ آرڈر یعنی ایک شخصی آمرانہ راج قائم کرنے کے تجربہ کے طور بھی دیکھا جارہاہے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے کل 36 صوبے اور یونین ٹیرٹریس کے 720 ڈسٹرکٹ کے کمشنر یا دیپیوٹی کمشنر کے ذریعہ سے 56″سینے والے ایک شخص نے، تقریبا 137 کروڑ والے دیش کو، پورے چار مہینے سے، ایسے تگڑی کا ناچ نچانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے کہ جہاں کی مذہبی قیادت ، سیاسی قیادت، اور دیگر سماجی قیادت ان حکومتی کمشنروں کے سامنے بے دست و پا ہو کر رہ گئی ہے۔علاقے کا بڑے سے بڑا سیاسی و مذہبی لیڈر بھی ان کمشنروں کی سامنے بھیگی بلی بنا، ان کے حکم کا غلام سا ہوکر رہ گیا تھا۔ تمثیلا ہم نے دیکھا کرناٹک راجیہ کا سنگھی چیف منسٹر، جون کی ابتداء میں شہر بنگلور میں پھنسے پرواسی مزدوروں کو حکومتی خرچ پر حکومتی بسوں میں بٹھا کر،  اپنے اپنے وطن گاؤں دیہات بھیجتا ہے اور جب یہ بسز کئی گھنٹوں کے سفر بعد، اپنے اپنے علاقے کے ڈسٹرکٹ بارڈر پر پہنچتی ہیں تو ،علاقے کے ڈی سی کو یہ ہمت میسر ہوتی ہے کہ اسٹیٹ چیف منسٹر کی طرف سے بھیجی ہوئی، تمام تر کاغذات رکھنے والی بسز کو ،تمام مسافروں کے ساتھ ڈسٹرکٹ بارڈر پر گھنٹوں جنگلوں میں انتظار کرواتا ہے اور انہیں انکے گاؤں دیہات خیریت سے بھیجنے کے بجائے، اپنے نازی طرز حکم سے، پڑوس گاؤں کے، بغیر سہولیات والے اسکولوں میں انہیں 14 دن کورنٹائین رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کیا سقم کورونا کے بہانے یہی ڈر و خوف اور ایک آمر کی حکمرانی کی عادت ڈالی جارہی ہے
یہ کیسا نازی طرز حکومت ہے،اسی دیش کے ایک صوبہ کے مختلف ڈسٹرکٹ کمشنر کے حکم نامہ مطابق مختلف ڈسٹرکٹ میں،ہم انسانوں کے لئے بھی قانون جدا جدا ہیں۔ مختلف اسقام اپنے میں پالے،نہایت خوش حالی سے جی رہے عمر رسیدہ   معمر مرد و زن، کھانسی سردی زکام  جیسے موسمی  مرض کے شکار ہونے کے باوجود، اپنے فیملی ڈاکٹر سے بھی رجوع کرتے خوف و ڈر محسوس کررہے ہیں۔ کیونکہ، انہوں نے اپنے اطراف کے ان جیسے معمر افراد کو سردی زکام فلو انفلوئنزا  کے اثرات سے متاثر بن  وقتی راحت کے لئے   مقامی ڈاکٹروں سے رجوع جب کرتے دیکھا، ان میں سے اکثریت کے لعاب دہن یا ناک کے بلغمی اثرات کو تفتیش کرنے پر، انہیں کویڈ 19 سقم کا شکار پاتے، انہیں بہتر علاج کے لئے داخل شفا خانہ جب  کیا گیا تو پتہ نہیں کیوں،  دنیا میں ان کے لئے ان کی زندگی کے دن ختم ہوجاتے ہیں۔ جس شفا خانہ سے انہیں شفا یاب ہونے کی توقعات کے ساتھ، اپنے پاؤں پر چل کر جاتے تو اکثر لوگ، کئی مریضوں کو دیکھتے ہیں لیکن انکے بے جان جسد خاکی کو ،خود ان کے اپنے گاؤں قریہ سے دور پردیش کے انجان قبرستانوں میں بغیر غسل ،کفن  پلاسٹک کی تھیلیوں میں مہر بند سپرد خاک کئے  جانے کی خبرین ان تک پہنچتی ہیں تو انہیں انکے جسم میں ایک سرد جھرجھری سے وہ محسوس کرتے ہیں
 ہم اپنے ہم عصر ہمارے اسکول کے ساتھی مکمل صحت مند احمد کی کسم  و پرسی کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ایام  شباب کچھ ان کی بد پرہیزی و ہمہ وقت مرغن مغلائی آغذیہ خوری اور اوپر سے مغرب کا "ھدیہ مہلک” سوفٹ ڈرنک ہمہ وقت پیتے  ڈکار لینے کی عادت نے،انہیں ایام شباب سے ڈھلتی عمر تک قدم رکھتے رکھتے، خون و بول میں مٹھاس کی شدت کا مریض بنادیاتھا۔ اور رفتہ رفتہ ڈائیبٹئس کے مرض متکبرانہ نے، انکے گردوں کے ناکارہ  ہونے کی نوید ڈھلتی عمر کے ساتھ انہیں سنادی تھی۔ لیکن ایام شباب کا کسرتی بدن اوپر سے، اب تک اچھی، خالص اور مرغن غذا کے مسلسل استعمال نے، گردوں کے ناکارہ ہونے کی وجہ،ہمہ وقت ڈائیلیسز کا مریض بننے کے باوجود،  ظاہری طور صحت مند لوگوں کی طرح درشانے کے لئے،اس کا کسرتی بند اس کے لئے کافی تھا۔ اب تو اسے وقفہ وقفہ کےساتھ ہاسپٹل پہنچ ڈائیلیسز کرنےکی عادت سی ہوگئی تھی۔  ڈاکٹر سے وقت متعین کر وہ خود چل کر حسب معمول ڈائیلیسز کے لئے مقامی ہاسپٹل آئے تھے۔ اسے کیا پتہ تھا اس دنیا میں اس کا وقت ختم ہوچکا تھا۔ وہ تو مکمل صحت یاب تھے ڈاکٹر سے مذاق بھی کرلیا کرتے تھے۔ وہی ہمیشہ کا ڈاکٹر، لیکن آج پتہ نہیں، کویڈ 19 سقم متعدی تناظر کے سبب یا مریضوں میں ڈر اور خوف بٹھانے کی  عالمی ڈرگ مافیا کی،  حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے، ہمیشہ کے اسی پرانے ڈاکٹر کو،سر تاپیر ایک عجیب الخلقت ڈھیلے ڈھالے  پلاسٹک ڈریس پی پی ای میں دیکھ کر، پتہ نہیں کیوں اس نے اس ڈاکٹر میں ملک الموت کی شبہہ کو پایا کہ ڈر اور خوف کا اس پر ایسا غلبہ سوار ہوا کہ، اسے اپنے سینے میں عجیب بوجھ اور درد محسوس تو ہوا اس کے بعد اسے کیا ہوا اسے پتہ تو چل رہا تھا لیکن اظہار کرنے سے قاصر تھا۔ڈاکٹر نے اسے سیویر ہارٹ اٹیک قراردے مردہ ڈکلیر کردیا۔  کچھ گھنٹوں بعد پلاسٹک کی تھیلیوں میں، مہر بند جب اس کا جسد خاکی ہاسپٹل سے گھر لیجانے باہر لایا گیا تو مقامی ایڈمنسٹریشن کے حکم نامہ، مطابق جو رشتہ دار اسے گھر لیجانے ہاسپٹل پہنچے تھےان سےوہیں حکومتی ہاسپٹل کے باہر برآمدے میں، نماز جنازہ پڑھتے ہوئےاسے سیدھاقبرستان لیجا سپرد خاک کرنے کا حکم سنا دیا گیا۔کس کی کیا مجال  جو اس 56″سینے والے ہٹلر نما سنگھی حکومت میں، سنگھی  حکومتی ایڈمنسٹریشن کے خلاف، اور وہ بھی کوئی مسلمان،کیوں اور کیسے چوں و چرا کرپائے؟  مقامی مسلم این جی اوز، اور ان این جی اوز میں مصروف خدمت، خدام قوم  سے مال  و زر و خدمات رضاکارانہ حاصل کرتے تک تو مقامی ایڈمنسٹریشن کو ان کی خدمات درکار ہوتی ہیں، لیکن ان سے صلاح مشورہ کے نام سے اپنے نازی حکم نامہ پر عمل درآمد ہی متوقع  ہوتی ہے۔ بہتر علاج معالجہ کے لئے،اسی ڈسٹرکٹ کےپڑوسی شہر لیجائے گئے مریض کی کویڈ19 موت پر تو جسد خاکی پورے ڈسٹرکٹ کے کسی بھی حصہ سے کسی بھی حصہ میں لیجانے پر جہاں کوئی پابندی نہیں ہوتی ہے، وہیں پر پڑوسی ڈسٹرکٹ کے قریبی شہر لیجائے گئے مریضوں کی موت پر کویڈ19کا بہانہ بنا کر اسے انجان شہر، انجان لوگوں کے قبرستان میں دفن کرنے پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے؟ اس جمہوری نظام والے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں،آخر یہ کس اقسام کا ڈکٹیٹرانہ قانون نافذ العمل ہے کہ زندگی بھر ساتھ رہے ساتھ  جئےجیسے اپنے اپنوں کو بھی، دیدار آخری سے محروم، اپنے گاؤں وطن سے دور، انجان قبرستان میں سپرد خاک کرنے کیوں مجبور کیا جاتا ہے؟ ممبئی گجرات جیسے شہروں میں کویڈ 19 متاثر اموات بعد بھی، سقم کورونا سے عالمی سازش کے تحت ڈرائے گئے پس منظر میں، انکے اپنے رشتہ دار واعزہ کرام کی غیر موجودگی میں بھی، تغسیل تکفین و تدفین کی آخری رسوم ادا کرنے، جسد خاکی رضاکار این جی اوز کے سپرد کیا جاتا ہے تو بعض مسلم اقلیتی شہروں گاؤں میں،بعد موت کویڈ 19 جسد خاکی کوآخری رسومات ادا کرنے، ان کے لواحقین کے حوالے کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ آخر یہ سب کیا ورلڈ آرڈر عالمی سازش پر عمل پیرا رہنے کی کوشش کے حصہ کے طور دانستا کیا جارہا ہے؟ وما علینا  الا البلاغ

Leave A Reply

Your email address will not be published.