۔میڈیا کی زہر افشانی اور غیر جانبدار میڈیا کا قیام : ایک تجزیہ

0 34

 

 

 

صدیقی محمد اویس، میراروڈ، ممبئی

کیا موجودہ دور میں ہندوستانی میڈیا مکمل طور پر آزاد ہے ؟

کیا میڈیا پوری آزادی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہا ہے ؟

کیا میڈیا عوام کے مسائل کو راست طور پر حکومت تک پہنچا رہا ہے ؟

نہیں !!!!

ہرگز نہیں !!!!

گزشتہ چند برسوں سے ہندوستانی میڈیا کا رویہ کافی حد تک بدل چکا ہے ۔ میڈیا کی آزادی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں ۔ اور یہاں تک کہ میڈیا نے عوام کے مابین اعتماد کھویا دیا ہے ۔

سماجی سائنس اور صحافت کے طلباء کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ میڈیا جمہوریت کا چوتھا اور اہم ترین ستون ہے۔ جو کہ کسی بھی ملک میں اور خصوصا جمہوری ملک میں غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن پچھلے کچھ برسوں سے ہمارے ملک میں میڈیا کی حالت کافی تشویشناک ہے۔ اور یہ کوئی لفاظی نہیں ہے بلکہ….. PFI ( Press Freedom Index ) ہر سال ایک سروے کرتا ہے جس میں دنیا بھر کے ۱۸۰ ممالک شامل ہیں، PFI سروے کرکے ایک رپورٹ پیش کرتا ہے جس میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس ملک میں میڈیا کو کتنی آزادی حاصل ہے ۔ ۲۰۱۶ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان ۱۸۰ ممالک میں سے ۱۳۳ ویں مقام پر تھا اور پھر یہ اعداد و شمار سال بہ سال حد درجہ گرتے چلے گئے جو کہ ۲۰۱۷ میں ۱۳۶ واں مقام، ۲۰۱۸ میں ۱۳۸ واں مقام ۲۰۱۹ میں ۱۴۰ واں مقام اور ۲۰۲۰ میں گھٹ کر ۱۴۲ ویں مقام پر آ پہنچا ہے ۔ جو کہ بہت ہی شرمناک بات ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلائے جانے والے ہندوستان میں میڈیا کو اپنی بات اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور اپنے فرائض انجام دینے کی مکمل آزادی نہیں حاصل ہے ۔

ایسا اسی لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ میڈیا کبھی کسی کی پیروی یا طرف داری نہیں کیا کرتا تھا۔  لیکن کچھ عرصے سے تقریباً تمام ہی میڈیا چینلز کا رویہ تبدیل ہو چکا ہے سوائے کچھ کے ۔ میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ ملک کی عوام کی تکالیف و مسائل کو اٹھائے اور عوام کی آواز بنے، میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ حکومت جب بھی کوئی ایسا قانون یا پالیسی بنائے جس سے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہو تو اسکے خلاف آواز اٹھائے اپنے چینلز کے ذریعے ۔ میڈیا عوام اور حکومت کے درمیان ایک  کڑی ہے ۔ جس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو مسلسل اٹھائے اور جب تک ان مسائل کو حکومت کی جانب سے حل نہ کیا جائے تب تک اپنے محاذ پر ڈٹی رہے ۔

میڈیا رائے عامہ بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے، چھوٹے چھوٹے مسئلے کو اٹھانا اور پھر اسکو ایشو بنانا میڈیا کے ذمہ ہے۔ بشرطیکہ کہ میڈیا اصل مسائل کو اٹھائے۔

اور میڈیا کو اس بات کا پورا اختیار ہے کہ وہ حکومت سے سوال کرے اور جواب طلب کرے ۔

لیکن کیا آج ایسا ہو رہا ہے ؟

آج تو بعض میڈیا چینلز کسی مسئلے کے ضمن میں اپنے چینلز پر ایسی خبریں چلاتے ہیں کہ جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہوں یا کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی خاص نظریے کو فروغ دے رہے ہوں وغیرہ ۔ چاہے وہ تبلیغی جماعت کا معاملہ ہو یا پھر پالگھر لینچنگ کی کہانی ہو تمام معاملات میڈیا نے مسلمانوں کے خلاف اس طرح ہوّا کھڑا کیا گویا ایسا معلوم ہو رہا ہو کہ میڈیا بھی اسلاموفوبیا کا شکار ہو چکا ہے۔ اور تو اور گزشتہ دنوں ایک ٹی وی اینکر امیش دیوگن نے خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ  کی شان میں گستاخی کی جس کو لے کر سوشل میڈیا پر ان کی گرفتاری کے مطالبے ہونے لگے اور کئی مقامات پر ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ حالانکہ انہوں نے اگلے ہی دن ایک ویڈیو جاری کر معافی مانگ لی لیکن یہ معافی بھی ان کی ہی طرح فرضی محسوس ہو رہی تھی۔ بہرحال یہ ایک منظر کشی تھی ہمارے میڈیا کی ۔ ہمارے میڈیا نے سچائی اور سماجی مسائل سے بھی کہیں نہ کہیں کنارہ کشی کر رکھی ہے ۔ عصر حاضر میں میڈیا حکومت سے سوال پوچھنے کے بجائے حکومت کی طرفداری کرتا نظر آتا ہے ۔ جو میڈیا پہلے کبھی حق و انصاف اور سچائی کا علمبردار ہوا کرتا تھا وہ آج بے ایمانی، جھوٹ، نفرت اور بہت حد تک بکاؤ صحافت کا باعث بن چکا ہے !

آج کل بعض میڈیا چینلز بے مطلب کے مسائل پر بحث کر رہے ہیں تو کئی نیوز اینکر ایسے ہیں جنہیں اپنے ملک سے زیادہ دیگر ممالک کے مسائل میں دلچسپی ہے ۔ ان تمام چیزوں سے ہٹ کر کچھ چینلز اور کچھ صحافی ہیں جو اصل مسئلوں پر بات کرتے ہیں اور حکومت کی غلط پالیسیوں وغیرہ کے خلاف لکھتے ہیں آواز بلند کرتے ہیں تو انہیں دبایا جاتا ہے جیسا کہ گوری لنکیش کے ساتھ ہوا جو کہ ایک اعلی پائے کی صحافی تھیں ۔

علاوہ ازیں ملک بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس کے چلتے مکمل لاک ڈاؤن نافظ کیا گیا تھا ۔ جو کہ ایک غیر منصوبہ بند عمل ہے جس میں غریب اور مزدوروں کا بالکل خیال نہ کیا گیا ۔ ایسے حالات کے چلتے جو غریبوں اور مزدوروں کا گزارا بے حد مشکل ہوگیا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزانہ کما کر بھی بہت مشکل سے اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرتے تھے ۔ لیکن اب معاملہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے پاس اناج اور دوسرے ضرورت کی اشیاء مہیا نہیں ہے۔ تو ایسے میں میڈیا کو چاہئے کہ وہ ان غریبوں کی پریشانیوں کو حکومت تک پہنچائیں اور حکومت سے جواب طلب کریں کی آخر کب تک غریب عوام کو بھوک مری جیسے مسائل سے دوچار ہونا ہوگا ؟ لیکن میڈیا نے تبلیغی جماعت اور نظام الدین مرکز کو زیادہ ضروری سمجھا بہ نسبت غریبوں اور مزدوروں کے مسائل کے !

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہندوستانی میڈیا زیادہ تر  معاملے کو اسلاموفوبک، مسلم مخالف، فرقہ وارانہ اور مذہبی رخ دینے کا کام کر رہا ہے ۔ یہ ایک شرمناک عمل ہے جو ہندوستانی میڈیا کے معیار کو سرے سے گرا رہا ہے ۔ اپنی ان تمام حرکتوں سے میڈیا آج عوام کے مابین اعتماد کھو چکا ہے ۔

یہ تو رہا ہندوستانی میڈیا کا حال۔۔۔ اب اس کے مقابل اگر ہم امریکی میڈیا پر نظر ڈالیں تو ہندوستانی میڈیا سے برعکس پائیں گے ۔ کافی وقت پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی تھی، جس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں دے خطاب فرما رہے ہیں کہ بیچ سے ایک صحافی اٹھتا ہے اور کسی مسئلے کے تعلق سے ان سے سوال پوچھتا ہے۔ یہاں یہ بات بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ جیسے ملک کے صدر کو بھی صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے ہوتے ہیں۔

بہرحال تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ میڈیا کی آزادی پوری طرح خطرے میں ہے کیونکہ اب بھی کئی چینلز اور کئی صحافی ہیں جو پوری آزادی کے ساتھ اپنے کاموں کو انجام دے رہے ہیں۔ اور بے باک صحافت کی مثال قائم کر رہے ہیں۔ لیکن چند صحافیوں و چینلوں سے کام نہیں چلتا۔۔۔ بلکہ ایک بہترین بےباک میڈیا ہاؤس کا قیام وقت کا تقاضا ہے۔

اسلاموفوبیا، مسلم مخالف پروپیگنڈے، اقلیتوں پر زیادتی، غریب مزدوروں کے مسائل وغیرہ پر قابو پانے کے لئے ایک غیر جانبدار اور حق کا طرف دار  میڈیا ہاؤس کا قیام اب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ایک ایسا میڈیا ہاؤس جو عوام کا میڈیا کہا جائے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ ان تمام دبے کچلے طبقات کے مسائل کو حکومت تک پہنچانے والا میڈیا، جیسا کہ مندرجہ بالا بیان کیا گیا ہے ۔

ہر مسئلہ کا ایک متبادل ضرور ہوتا ہے، بالکل اسی طرح ہم کب تک ان مسائل کا رونا رویئنگے آخر ! وقت ہے کہ ہمیں آگے بڑھ کر، اپنے کمفرٹ زون سے نکل کر ایک متبادل بن کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں مسلمانوں کی تمام بڑی تنظیموں کو چاہیئے کہ اس اہم کاز کے لئے منظم و مشترکہ طور پر کام انجام دیں ۔ میڈیا ہاؤس کا قیام کوئی چھوٹا کام نہیں ہے ۔ اس کے لئے کافی وقت درکار ہے، با صلاحیت افراد اور کثیر تعداد میں فنڈ کی ضرورت درکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیا ہاؤس کا قیام بھرے سمندر میں غوطہ لگانے کے مانند ہے۔ اب ہمیں چاہیئے کہ ہم جانباز غوطہ خور افراد کو تلاش کر کام پر لگایئں۔

اس ضمن مندرجہ ذیل کچھ نکات پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے۔۔۔

۱) سب سے پہلے اہل قلم، اہل بصیرت حضرات، مضامین، آرٹیکلز اور رپورٹس لکھنے والے حضرات کو یکجا کیا جائے ۔
۲) کچھ اعلی پائے کے صحافیوں سے رہنمائی لی جائے ۔
۳) فنڈ کے لئے عام مسلمانوں سے اپیل کی جائے ۔
۴) سوشل میڈیا کو کم نہ سمجھیں !
سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک رسائی کی جائے ۔ واہٹس ایپ، فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، ٹیلی گرام، یوٹیوب وغیرہ کے ذریعے سماجی مسائل، معاشی مسائل، سیاسی مسائل وغیرہ پر ویڈیوز، مضامین، تجزیے وغیرہ پوسٹ کئے جایئں اور انکی اچھی طرح تشہیر کی جائے ۔
۵) اس کے علاوہ ملت کے نوجوانوں کو بھی جرنلزم اور  صحافت کے شعبوں سے روشناس کرانا چاہیے ۔ اور اچھا لکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی و صحیح رہنمائی کرنی چاہئے ۔

ان تمام کے علاوہ اور بھی کئی باتیں ہوسکتی ہیں جن کو عمل میں لایا جائے ۔

اور آخر میں اللہ پر توکل اور اللہ سے دعا بہت ضروری ہے۔۔۔۔
چاہے ہم کتنے ہی منصوبے بنالیں لیکن جب تک کسی کام میں اللہ کی مدد شامل نہ ہو تو ہرگز کامیابی نہیں حاصل ہوگی ۔ اس لئے تمام چیزوں پر عمل اور محنت کے ساتھ ساتھ اللہ پر اعتماد ضروری ہے ۔ ہمیں اللہ پر مکمل اعتماد رکھنا چاہیے اور پوری یکسوئی کے ساتھ ہر کام انجام دینا چاہئے ۔

‘ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے  ۔  ( القرآن 5 : 50 ) ‘

_جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتیں ہیں زنجیریں۔_

Contact no
9653231654

[email protected]

Leave A Reply

Your email address will not be published.