کورونا وائرس:ہوا کے ذریعہ پھیلنے کے امکانات پر سائنس دانوں کے نظریات

0 97

 

تحریر :انیس اقبال
رابطہ: 9304438970

پہلی مرتبہ کورونا وائرس کے انکشاف کے سات ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی سائنس داں اور طبی ماہرین اب تک یہ جاننے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ آخر کووڈ۔19 پھیلتا کیسے ہےاور اس کو روکا کیسے جائے۔
عالمی تنظیم صحت کے مطابق کورونا وائرس ایک فرد سےدوسرے فرد کو’’ انتقال قطرات‘‘ کے ذریعہ پھیلتا ہے جس میں ایک فردکاوائر س سے متاثر شخص کے براہ راست رابطے میں آنا اورآلودہ سطحوں کو چھونا شامل ہے۔ جب وائرس سے متاثر کوئی شخص کھانستا ہے یا چھینکتا ہے تو کھانستے یا چھینکتے وقت اس کے منہ یا ناک سے جو آبی قطرات یا ذرات نکلتے ہیں وہ قریب میں موجود شخص کوانفیکٹ کردیتے ہیں اور سطح آلودہ ہوجاتی ہے۔کیوں کہ ان قطرات یا ذرات میں وائرس موجود ہوتا ہے۔
اب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق کورونا وائرس صرف فرد سے فرد یا سطح سے فرد کو نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے علاوہ ہوا کے ذریعہ پھیلنے کا بھی امکان موجود ہے، لیکن اس کے اثرات اور خطرات پر سائنس دانوں کے درمیان بحث جاری ہے۔
’فضائی منتقلی‘کیا ہے؟
عالمی تنظیم صحت نے بہت پہلے کہا تھا کہ نیا کورونا وائرس بنیادی طورپرمتاثرہ شخص کے منہ اور ناک سے نکلنے والے چھوٹے قطروں کے ذریعہ پھیلتا ہے جو کچھ لمحے کے لیے فضا میں موجود رہتا ہے۔
لیکن کچھ سائنس دانوں اور محققین ایسے شواہد کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ وائرس چھوٹے ذروں سے بھی پھیل سکتاہے جس کو ’’فضا میں معلق ذرات‘‘ کہاجاتاہے۔ یہ ذرات اس وقت معرض وجود میں آتے ہیں جب لوگ چیختے اور گاتے ہیں۔ یہ زیادہ دیر تک کے لیے فضا معلق رہ جاتے ہیں اور ادھر ادھر جابھی سکتا ہے۔
چھینکنے یا کھانسنے سے نکلنے والےقطرات کا حجم پانچ سے دس مائکرو میٹر ہوتا ہے اور ایک سے دو میٹر (تین سے چھ فٹ) دور تک پھیل سکتا ہے۔جب کہ’ فضا میں معلق ذرات‘ حجم میں پانچ مائکرو میٹر سے کم ہوتے ہیں اورمتاثرہ شخص سے دو میٹر سے بھی زیادہ دور تک جاسکتے ہیں۔
نیا کورونا وائرس تجرباتی حالات میں’ قطرات‘ اور’ ذرات‘ دونوں صورتوں میں تین گھنٹوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ تاہم درجہ حرارت اور رطوبت، بالائے بنفشی شعاعیں اور فضا میں موجود دیگر غیر مرئی ذرات کی نوعیت کے سبب نتائج مختلف ہوسکتے ہیں۔
کووڈ -19 ہوا کے ذریعہ کیسے پھیل رہاہے؟
’قطراتی منتقلی‘ کے برعکس ’فضا میں معلق ذرات ‘متعدد طریقوں سے پھیل سکتی ہیں جن میں کھانسنے اور چھینکنے کے علاوہ سانس لینا، بات کرنا، ہنسنا، گانا اور چیخنا بھی شامل ہے۔
تنفس کےبرعکس چیخنے چلانے، گانے، کھانسنے اور چھینکنے سے منہ اور ناک سے نکلنے آبی ذرات ہوا کے ذریعہ مختلف رفتار سے سفر کرسکتے ہیں۔
لہٰذا اگر کسی شخص کےمنہ یا ناک سے نکلے آبی ذرات میں اُتنی تعداد میں وائرس نہ بھی ہوں جن سے دوسرے شخص کو انفیکشن ہوسکتا ہے تب بھی اگر آپ ان آبی ذرات کے حدود میںدیر تک سانس لیتے ہیںتو پھر آپ کے منہ ، ناک اور سانس کی نالی میں اتنے وائرس جمع ہوسکتے ہیںجن سے انفیکشن کا آغاز ہوسکتا ہے۔
’فضائی منتقلی‘ طبی علاج ومعالجہ کے دوران بھی ہوسکتی ہے۔ کورنا کے مریض کےمنہ و ناک سےنکلے وائرس آلود آبی ذرات ڈاکٹروں اور طبی اہلکاروںکی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
کورونا وائرس ’’ہوا میں معلق آبی ذرات ‘‘ کے ذریعہ مخصوص حالات میں بھی پھیل سکتے ہیں۔ جیسے اگر آپ علاج کے دوران نیبولائزر، برون کوسوپی، انٹیوبیشن اور دیگر زبانی طریقہ کار کا استعمال کرتے ہیں تو خاص طورپر محتاط رہیں۔ اس طرح کے کام طبی اہلکاروں کے لیے بہت ہی خطرناک ہیں۔ اس طرح کا کو بھی کام شروع کرنے سے پہلے اپنی حفاظت کو یقین بنائیں اور اچھی طرح پرسنل پروٹیکٹیو ایکیوپمنٹ (پی پی ای) اور این95 ماسک لازمی طورپر پہنیں۔
آپ خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟
ہر وقت اچھی طرح ماسک پہنے رہیں اور جسمانی دوری کا لازمی طورپر خیال رکھیں۔
ماہرین کے مطابق بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانے سے گریز کرنا چاہئے ، خصوصاً پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی عمارتوں سے دور رہنا چاہئے۔
اسکولوں، کالجوں،دفاتر اور اسپتالوں کی کھڑکیوں کو کھول کر ہوا دار بنانا چاہئے۔ ایسا کرکے انفیکشن کے خطرہ کو کم کیا جاسکتاہے۔
جن جگہوں کو ہوادار بنانا ممکن نہ ہو وہاںقابل نقل وحمل(پورٹیبل) اعلیٰ معیار کا ایئر فلٹراور ایئر کلینر (HEPA) اور اگر ممن ہوتو الٹرا وائلٹ(UV) جراثیم کش لائٹ کااستعمال انتہائی ضرورت کی حالت میں کیا جاسکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.