اعلی تعلیم یافتہ لٹیرے قابل مواخذہ ہیں کہ نہیں؟  

0 17
            نقاش نائطی
      +966504960485
فی زمانہ پیشہ طب خدمت خلق کے بجائے دولت بٹورنے کا ذریعہ معاش بن چکا ہے، اپنے مالی منفعت کے لئے جب ڈاکٹر اپنے مریضوں کا غیر ضروری  استحصال کر، مختلف  ٹیسٹ کے بہانے مختلف الزاویاتی طریقہ سے، اپنے مریضوں کو لوٹا کرتے ہیں، ایسے میں ان کی دانستہ کہ غیر دانستہ لغزش، علاج معالجہ دوران مریض کو جسمانی کوئی شدید نقصان ہوجاتا ہے یا بعض وقت جان بھی، جانے کا خدشہ رہتا ہے ایسے میں قانون خدا وندی کے وہ مرتکب و مسئول ہونگے ہی، لیکن قانون ارضی و ملکی کے اعتبار سے انہیں قابل جرم قرار دینا اور تاوان لغزش حاصل کرنا، اصول انسانیت کے عین مطابق ہے کہ نہیں؟
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی ڈاکٹر دانستہ اپنے مریض کو کوئی نقصان پہنچانا نہیں چاہتا،اور نہ ہی جان سے مارنے کا مکلف ہوتا ہے، لیکن اپنے مریضوں سے مال دولت بٹورنے میں، اپنے مریض کے ساتھ انصاف بھی تو وہ نہیں کیا کرتے، صرف اپنی زائد آمدنی کے لئے یا دوائی ساز کمپنیوں کے کمیشن کے حصول ہی کے لئے،  انسانی اجسام کے لئے مہلک ترین، غیر ضروری قیمتی دوائیاں لکھ کر دینے سے احتراز نہیں کرتے، ایک ماہر ڈاکٹر ہوتے ہوئے، خود مرض کی تفتیش کر،اسے شفایاب کرنے،مناسب دوا تجویز کرنے کے  بجائے، صرف اپنے کمیشن کے حصول کے لئے، غیر ضروری خون و بول، کا ٹیسٹ کرواتے،و برقی شعاؤں(X-Ray) سے گزارتے غیر ضروری اخراجات کا بوجھ مریض پر ڈال، شفایابی سے قبل، مریض کو قبل از وقت مارنے سے، جن کو کوئی حجاب و لیل ولعل نہیں ہوتا ان پر صلہ رحمی چہ معنی؟ہاں البتہ پیشہ طب سے منسلک کوئی اللہ کابندہ چاہے وہ کسی بھی دھرم ذات سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو،اپنے حسن اخلاق و صلہ رحمی سے ہر جگہ معروف و مقبول ہواکرتا ہے،ایسے خدا ترس ڈاکٹر سے عموما ایسی لغزش بہت کم ہوا کرتی ہے، پھر بھی حضرت انسان مرکب الخطا، اس کے ہاتھوں ایسی لغزش غیر دانستہ ہوجاتی ہے تو پھر رفع و درگزر سے کام لینا وقت کا تقاضہ ہوا کرتا ہے
ایسے ڈاکٹروں سے دانستہ کہ غیر دانستہ لغزشوں کے سبب،دنیا بھر میں ایسے ہزاروں مریض وقت سے پہلے موت کو گلے لگانے پر مجبور ہوجاتے ہیں (اسلامی اقدار کے خلاف)، یا ایسے ان گنت مریض کے پیٹ میں آلات جراحی کا کوئی اوزار،وقت جراحت  دکتور کی لغزش سے مریض کے شکم میں نہ صرف رہ جاتا ہے،بلکہ بعد  تکلیف بے جا اسے ہوتے ہوئے، دوسرے جراحت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔اگر ڈاکٹر کی صریح لغزش سے مریض کو ہوئی تکلیف یا موت سے دوچار ہونے والی لغزش پر، کوئی قانون ملک کے دائرے میں رہتے ، قانونی چارہ جوئی کرتا ہے یا تاوان   وصول کرتا ہے تو ایسے میں، مریضوں کو لوٹتے، دولت  بٹورتے ان ڈاکٹر کو سبق سکھاتے، اپنے پیشہ کی حد تک امین و وفادار رہنے کا سبق سکھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سعودی عرب کے اس بچہ کی زندگی سے کھیلنے والے ڈاکٹر کو اس بچے کے والدین کی طرف سے قانونی چارہ جوئی، کیا صحیح اور بروقت عمل نہیں ہے۔ سرے پر روئی لگے، عموما پلاسٹک کے بنے اسٹک سے ،بچے کے ناک سے، بلغمی ذرات لیتے وقت ایسی کیا بد احتیاطی برتی گئی کہ وہ روٹی اسٹک کا سرا ناک کے اندر ٹوٹ کر پھنس گیا اور باوجود، بعد جراحت اسے نکالنے کے، بچہ سانس لینے میں تکلیف کے باعث انتقال کرگیا۔ کیا ایسے لغزشی عمل پر بھی جرح نہیں ہونی چاہئیے۔
عام طور پر معاشرے میں دکتور کو خدائی اوتار کے روپ میں دیکھا جاتا ہے اور ان کی طرف سے ہوئی بھیانک سے بھیانک لغزش بعد،مریض کے لقمہ اجل بننے پر بھی، عضو و درگزر  سے کام لیا جاتا ہے ۔ ہم عام انسانوں کے عفو و درگزر کرنے ہی کے سبب یہ بھگوان نما لٹیرے ڈاکٹر، اتنے لاپرواہ ہوجاتے ہیں کہ، انہیں ہونے والی اپنی کچھ ہزار کی رقم کے سامنے، مریضوں  کی جان بے معنی اور بے وقعت  لگنے لگتی ہے۔ایسے میں کسی بھی ایسی لغزش پر ڈاکٹروں کے خلاف ملکی قانون تک چارہ جوئی کرتے ہوئے تاوان حاصل کرنا وقت کا تقاضہ ہے
ڈاکٹر کی لاپرواہی  سعودی بچے کی موت
بچے کو بخار ہوا تھا اور اسے اس کے والدین نے وسطی سعودی عرب کے شقرہ جنرل اسپتال لے کر گئے تھے۔ طبی عملے نے اس لڑکے کا ٹیسٹ کیا کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ اس کا زیادہ درجہ حرارت COVID-19 کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.