کورونا سے تباہ ہوتا طلبہ و طالبات اور تعلیمی اداروں کامستقل

0 48
کامران غنی صباؔ، شعبۂ اردو، نتیشور کالج، مظفرپو
عالمی وبا ’’کورونا‘‘ نے جہاں زندگی کے تقریباً تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے وہیں درس و تدریس کا شعبہ بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے۔ بلکہ سچ پوچھیے تو یہ شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ سرکاری دفاتر کے بیشتر کام کسی نہ کسی طرح ہو ہی رہے ہیں، بازار بھی شرائط و ضوابط کے ساتھ کھل ہی رہے ہیں۔ پابندیوں کے باوجود آمد و رفت کی صورتیں بھی نکالی ہی جا رہی ہیں۔لاک ڈائون کی وجہ سے جن لوگوں کے روزگار اور ذریعۂ آمدنی پر اس کا اثر پڑا ہے وہ بھی کسی نہ کسی طریقے سے اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بس ایک تعلیمی ادارے ہیں جو مارچ سے مکمل طور پر بند ہیں۔ کہنے کو آن لائن کلاسز کا سلسلہ چل رہا ہے لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں عام حالات میں طلبہ و طالبات کو کتابیں تک دستیاب نہیں ہو پاتیں،ان کے لیے آن لائن کلاسز سے استفادے کا تصور بھی محال ہے۔ لاک ڈائون نے بے شمار والدین اور گارجین کی معاشی حالت اتنی خراب کر دی ہے کہ فی الحال وہ اپنے بچوں کی اسکول فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔حکومت اور عدلیہ کی طرف سے اسکول انتظامیہ کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ جبراً فیس وصولی نہ کی جائے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کچھ گارجین نے تو اپنی معاشی حالت کے پیش نظر پہلے ہی گھٹنے ٹیک دئیے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو کم از کم اس تعلیمی سیشن میں نہیں پڑھا سکتے،وہ گارجین جو کسی طرح بچوں کا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی ہمت کیے ہوئے تھے، حکومت اور عدلیہ کی ہدایت کے بعد ان کا بھی رویہ بدل گیا۔ نتیجتاً تعلیمی ادارے ز بردست مالی بحران کا شکار ہونے لگے۔جو تعلیمی ادارے کرائے کی عمارتوں میں چلتے ہیں ان کے سامنے دو بڑے مسئلے کھڑے ہو گئے۔ ایک توکرائے کی ادائیگی کا مسئلہ، دوسرا اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہ کا مسئلہ۔مالی بحران کی وجہ سے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہیں بند کر دی گئیں جس کی وجہ سے اساتذہ اور ملازمین بھی اپنی خدمات پیش کرنے سے پیچھے ہٹنے لگے۔ دوسری طرف بہت سارے تعلیمی اداروں پر مالکان کی طرف سے کرائے کی ادائیگی کا دبائو بنایا جانے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چھوٹے موٹے بہت سارے تعلیمی ادارے بند ہونے شروع ہو گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
اب ایسے حالات میں تعلیمی اداروں کے ذمہ داران، والدین ، گارجین ،طلبہ و طالبات اور ہم سب کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے۔اگر لاک ڈائون کا سلسلہ دراز ہوا تو ہم کس طرح طلبہ و طالبات اور تعلیمی اداروں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں؟ تعلیمی اعتبار سے تو ہم پہلے سے ہی پسماندہ ہیں۔ تعلیم ہمارے منصوبوں میں نچلے پائدان پر بھی نہیں ہوتی۔ ہم مکان بنانے ، شادی بیاہ کرنے، گھر بسانے یہاں تک کہ مرنے کے بعد تک کے منصوبے تیار کرتے ہیں اور اسی کے مطابق کام بھی کرتے ہیں لیکن بچوں کی تعلیم و تربیت کا منصوبہ شاید ہی ہماری ’لسٹ‘ میں کہیں جگہ حاصل کر پاتا ہے۔ ہم خدانخواستہ بیمار پڑ جائیں تو علاج کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ شادی بیاہ کے مواقع پر معمولی سے معمولی انسان اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے کے لیے تیار رہتا ہے ۔ شادی وغیرہ کے موقع پرجو لوگ مقروض ہو جاتے ہیں وہ کبھی کبھی زندگی بھر قرض ادا کرتے رہ جاتے ہیں۔ تعلیم و تربیت کے تعلق سے یہ فکر اور جذبہ بہت کم گھروں میں ہی نظر آتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس مزاج کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ابھی لاک ڈائون کے دوران جو والدین اور سرپرست بچوں کی اسکول فیس کی ادائیگی کرنے کے کچھ بھی اہل ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اسکول انتظامیہ کی مجبوریوں کو بھی سمجھیں۔ ایسے حالات میں اہل ثروت حضرات کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔جس طرح ہم اپنے سامنے کسی کو مرتے ہوئے دیکھنا گوارا نہیں کرتے اور اس کی زندگی بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اُسی طرح جو بچے معاشی بحران کی وجہ سے اپنا تعلیمی سفر بیچ میں ہی چھوڑ دینے پر مجبور ہیں وہ بھی ہماری توجہ کے مستحق ہیں ،کیوں کہ تعلیم کے بغیر قومیں زندہ نہیں رہتیں۔اگر اللہ نے ہمیں معاشی اعتبار سے مضبوط بنایا ہے تو ہمارا مذہبی، سماجی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ ہم کم از کم اپنے آس پاس کے بچوںکے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچائیں۔ اسی طرح جو تعلیمی ادارے لاک ڈائون کی وجہ سے بند ہونے کی نوبت تک پہنچ چکے ہیں ان کے وجود کو بچانا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے کیوں کہ جب ہمارے پاس اچھے تعلیمی ادارے ہی نہیں ہوں گے تو ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل کیسا ہوگا؟

(مضمون نگار شعبۂ اردو، نتیشور کالج، مظفرپور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.