حق وباطل کے درمیان فکری و تہذیبی تصادم

0 136

مولانا محمد احسان اشاعتی
آپسی جنگ و تصادم کی مختلف نوعیتیں اور متعدد صورتیں چلی آرہی ہیں عسکری جنگ، اقتصادی، میڈیائی اور صحافتی جنگ؛اسی طرح نفسیاتی اور فکری و تہذیبی جنگ؛ لیکن ان تمام میں سب سے اہم اور مہلک جنگ، فکری و تہذیبی جنگ ہے، سب سے زود اثر اور دیر پا فکری و نظریاتی معرکہ آرائی ہے؛ باطل برستوں نے اہل حق کے ساتھ بہر نوع جنگ کے پینترے اپنائے اور ہر طرح کی جنگی شکلوں میں طبع آزمائی کی اور حتمی طور پر یہ نتیجہ اخذکیا کہ عسکری تصادم او ر میدانی جنگ بے پناہ مضرات و نقصانات، بے انتہا جانی و مالی ہلاکتوں کے باوجود بہت زیادہ سود مند نہیں ہوتی۔ اور ایسا بھی نہیں کہ ہمیشہ فتحیابی و کامیابی حاصل ہوتی ہو او راگر ہو بھی جائے تو ہزیمت خوردہ مد مقابل کے، بوجہ احساس شکست، منظم انداز میں صف آرا ہونے اور از سر نو اپنے آپ کو مقابلے کے لیے تیار کرکے حملہ آور ہونے کی داعی ہوتی ہے۔
لہذا باطل نے اپنی اساسی توجہ،فکری و تہذیبی معرکہ آرائی پر مرکوزکرنے کا فیصلہ کیا؛ البتہ اس کے علاو ہ دیگر طریقہ کا ر سے بھی مکمل طور پر اعراض نہیں کیا بلکہ جب چاہا کسی کمزور قوم یا کسی بے یارو مددگار ملک کو اقتصادی طور پر دیوالیہ بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھا، مگر ان سب کے باوجود اپنی اصل صلاحیتیں فکری جنگ میں جھونکی جاتی رہی ہیں۔
حق و باطل کا تصادم،خیر و شر اور ہدایت و گمراہی کی یہ جھڑپیں دور حاضر اور عصر موجود کی پیداوار نہیں ہے بلکہ ان کی باہمی دست و گریبانی روز اول سے ہی رہی ہے۔ او راگریہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ تخلیق آدم کے بعدسے ہی یہ جنگ شروع ہو گئی تھی چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کو راندہ درگاہ مردود ابلیس کے بہکانے کا وہ خاص طریقہ بایں طور کہ اس کا اپنے آپ کو ان کا خیر خواہ ظاہر کرنا اور اللہ رب العزت کے سامنے اولاد آدم کو راہ راست سے گمراہ کرنے کا عزم و قسم، اسی غزوہ فکری کا نقطء آغاز تھا۔
فرمابرداران رحمن اور گروہ شیطان کی یہ آویزش اسی وقت سے جاری ہے۔ فرعون جو انا ربکم الاعلی کا دعویدار تھا اور وقت کا کافر اعظم تھا اس نے نبی وقت حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں لوگوں کو اپنے دام فریب میں پھانستے ہوئے یہ کہا تھا : انی اخاف ان یبدل دینکم او ان یظھر فی الارض الفساد کہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارے دین دھرم کو بدل دے گا اور روئے زمین میں فساد برپا کرے گا؛ حالانکہ اس نے خود ہی دین حق میں تبدیلی اور روئے زمین میں فساد مچا رکھا تھا اور اس کا مورد الزام حضرت موسی کو قرار دے دیا یہ ذہنی تخریب کاری اور خرد کو جنوں اور جنوں کو خرد قرار دینے کی تھیوری اسی فکری جنگ کا حصہ ہے۔
فریق مخالف کے افکار ونظریات سے آگہی اور ان ہی کے معتقدات و نظریات سے ہم آہنگ طرز کلام کے ساتھ اپنے اغراض فاسدہ او ر مقاصد باطلہ کی تتمیم راہ عمل کی وہ پگڈنڈی ہے جس پر چل کر ابلیس نے حضرت آدم کے ساتھ تلبیس کا معاملہ کیا تھا اور اسی پر ہمیشہ سے باطل اور شیطان کے ہم نوا چلتے رہے ہیں۔
زمانہ نبوت میں کفار مکہ کا آپ ﷺ کو ساحر، کاہن، مجنون اور شاعر کہنا؛ اور اسی طرح ان کا لوگوں کو آپ کی باتوں اور راتوں کو آپ کی تلاوت قرآن کی سماعت سے دور رکھنا اسی زاویہ ء نظر سے دیکھا جا سکتا ہے، ایسے ہی منافقین کی خفیہ طور پر آپ کے خلاف مختلف الانواع دسیسہ کاریاں اسی قبیل سے ہیں۔
کبھی باطل نے حق کا لبادہ اوڑھ کر بھی حق کی بیخ کنی کی کوششیں کی ہیں مثلا جنگ صفین کے موقع پر جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ ؓ دو جلیل القدر کی تحکیم کے مسئلے میں حضرت علی ؓ کے باغی گروہ خوارج نے آگے آکر کہا تھاکہ ان الحکم الا للہ فیصلہ تو فقط اللہ کا مانا جائے گا اور حضرت علیؓ انسانوں کے فیصلے پر راضی ہوگئے یہ کفر ہے؛ آیت کی سطحی تفسیر کرتے ہوئے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، حضرت عبد اللہ ابن عباس نے اس موقع سے ان خوارج کے فساد نیت کی پول کھول دی یہ کہہ کر اللہ نے خود شوہر اور زوجہ کے مابین نا اتفاقی کی صورت میں باہمی مصالحت کی خاطر انسانوں کی تحکیم کا حکم دیا ہے۔
غرضیکہ حق و باطل، صحیح اور غلط، سفید وسیاہ کے درمیان تلبیس کا عمل باطل طاقتوں کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے دور موجود میں بھی یہ مشغلہ بدستور جاری ہے بلکہ اس کے وسائل و ذرائع میں اضافہ ہوا ہے؛ حق پرست اہل اسلام کے تعلق سے تمام ملل اور ثقافتوں کی ملمع سازیاں اور فریب کاریاں دیدنی ہیں،اسلام دشمنی میں ان کا اتحاد اور یگانگت (ان کے تمام ترآپسی اختلافات کے باوجود) مظہر تعجب بھی ہے اور ہمارے لیے لمحہ ء فکریہ بھی؛ صرف ہندستان ہی نہیں پوری دنیا میں مسلمانوں کی ایسی شبیہہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے،مسلم ممالک کو عاجز و بے بس بنانے کی ہر جبری، فکری، اور مادی و اقتصادی تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں صیہونی ممالک جو آبادی اور رقبے کے اعتبار سے کتنے ہی مختصر اور چھوٹے کیوں نہ ہوں، ان کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی بنانے کی خاطر ساری طاقتیں بروئے کار لائی جارہی ہیں، اسرائیل فلسطین پر قہر برپا کرتا ہے اور وہاں کے نہتھے مسلمانوں کے ساتھ قتل و غارت گری کا خونی کھیل کھیلتا ہے اور دنیابھر کی بقائے امن و انصاف کے نا م پر قائم شدہ تنظیمیں خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں اور اپنی خاموشی سے گویا یہ باورکراتی ہیں کہ یہ مسلمان اسی قابل ہیں جن پر رحم و کرم اورمعاملہ انسانیت کی چنداں ضرورت نہیں، مسلمانوں کو اس خارش زدہ اونٹ کی طرح کنارہ کش کر دینا چاہتے ہیں، جس کو عام تندرست اونٹوں سے علحدہ کردیا جاتا ہے۔
مسلم ممالک میں جو خود حفاظتی وسائل سے لیس ہیں، اپنے ملک اور رعایا کے تحفظ کے لحاظ سے مضبوط اور مستحکم ہیں ان کی طاقت و قوت کو سلب کر لینے کے حربے اختیار کیے جارہے ہیں اور ان کے حفاظتی سرمایہ پر ناروا ڈھنگ سے حملے کیے جارہے ہیں
ایک طرف پوری دنیا میں اہل اسلام کوبدنام کیا جاتا ہے تو دوسری طرف ان کو معاشی، معاشرتی اور اقتصادی، حفاظتی ہر اعتبار سے کمزور بنانے کی کاوشیں کی جاتی ہیں؛ ہر ناگہانی یہاں تک کہ آسمانی وقدرتی آفتوں کو بھی مسلمانوں کے ساتھ جوڑا جا تا ہے اور کسی بھی طرح مجرم ٹھہرانے کی بھر پور سعی کی جاتی ہے۔
ان تمام پر اگر غائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ اہل اسلام جس نے پوری دنیا میں اپنی تہذیب و ثقافت، اپنے اخلاق و کردار، اپنے مذہبی و دینی اقدار اور اپنے علم و فن کا لوہا منوایا تھا؛ در اصل ان کے سامنے خود سپردگی کے خوف سے اور اپنی تہذیبی و مذہبی سبکی سے بچنے کے لیے ان اہل اسلام سے ان کا مذہبی تشخص اور اسلام کی روح سلب کرلینا چاہتے ہیں۔
اور جیسا کہ تجربات و مشاہدات بتاتے ہیں کہ باطل طاقتیں اپنے ذہنی فتور اور فکری کجی کی وجہ سے ملک ہندستان میں بھی مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہیں، ان کو دوم درجے کا شہری قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے اور خود مسلمانوں کو بھی اس بات کا احساس دلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ تم یہاں کے صف اول کے شہری ہر گز نہیں بن سکتے؛ نت نئے قوانین اور مسلمانوں کے ساتھ نا گفتہ بہ برتاؤچیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ تمہیں یہا ں رہنا ہے تو سر جھکا کر رہنا ہوگا، اس ملک کی باشندگی کے لیے تہذیبی، فکری اور نظریاتی غلامی اختیار کرنی ہوگی، ورنہ یا تو کسی اور ملک کی رہائش اختیار کر لو یا پھر تمہیں اپنے ہی وطن میں کبھی بھی اور کہیں بھی دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے، کسی بھی معقول و غیر معقول وجہ سے دیش دروہی (غدار وطن) ثابت کیاجا سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ڈاکٹر کفیل کا معاملہ اسی حالت زار اور مسلمانوں کے تئیں پھیلائی جانے والی ملمع سازیوں کوطشت از بام کر رہا ہے کہ کس طرح ایک نیک نیت، انسانیت کابہی خواہ ڈاکٹر محض عربی اور اسلامی نام سے موسوم ہونے کی قیمت چکارہاہے۔
علانیہ طور پر اس طرح کا رویہ فقط اس لیے ہے تاکہ یہ جتلا دیا جائے کہ تم اور تمہاری قوم یہاں سربلندی، عزت و وقار کی مستحق نہیں، صفحہء فکر وخیال سے یہ محو کر دو کہ تم ہمارے مساوی ہوسکتے ہو۔
در اصل اس تعلق سے منصوبہ بند طریقے پر استمرارا بتدریج محنت ہوتی رہی ہے، چاہے وہ ذرائع ابلاغ میڈیا کے حوالے سے ہو کہ ان کو موٹی رقم دے کر اور کچھ کو کسی با ت کا خوف دلا کراس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ خبروں کے ساتھ جھوٹ اور فریب کا ایسا تڑکا لگا کر پیش کیا جائے کہ دنیا مسلمانوں کوہی مجرم اور گنہگار گردانے؛ ٹی وی شوز اور فلم انڈسٹری نے بھی مسلمانوں کی شبیہ بگاڑنے میں بڑا اہم رول نبھایا ہے، دہشت گردوں کے کردار کے لیے اسلامی ناموں اور حلیے کا انتخاب اسلام اور اہل اسلام کے تئیں لوگوں کے ذہن و دماغ میں نفرت اور غصہ پیدا کرتا ہے اور خود مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا کرتاہے۔ جب بھی موقع ہاتھ لگا مسلمانوں کی اصلی شکل وشباہت پر پردہ ڈال کر ظالمانہ و دقیانوسی تصور کی تشہیر و تعمیم کی جاتی رہی ہے۔
یہ فکری کش مکش اورنظریاتی رسہ کشی تا ہنوز بطریقہ تسلسل قائم ہے اور اس کے لیے وہ الگ الگ محاذوں پر بر سر پیکار ہیں؛ اسلام کی مخالفت میں تمام اقوام عالم کا اتحاد الکفر ملۃ واحدۃ کی سچی تصویر کشی کر رہا ہے۔
لہذا آج اور جب کبھی بھی ایسے حالات سے امت دو چار ہو، اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہئے اور اپنے خالق حقیقی کی طرف رجوع اور انابت کی ضرورت ہے اور اس ذات حکیم نے جس کو وسیلہء سرفرازی و سربلندی قرار دیا اس کو اپنانے کی حاجت ہے اور ساتھ میں اپنی کمزوریوں اور مضبوط پہلوؤ ں کا موازنہ کیا جائے؛ ظاہر ہے کہ خامیاں زیادہ ہیں:تعلیم، صحت، معیشت اور سیاسی میدان میں ہم کس درجہ پچھڑے ہوئے ہیں اور ان میں کس قدر محنت اور کام کی ضرورت ہے؛ اورمثبت پہلو یہ ہے کہ ہم اہل حق ہیں، معبود حقیقی کے پرستار ہیں لہذا اگر ہم خلوص کے ساتھ حکم خداوندی کے مطابق اور منشاء نبوت کے تطابق کے ساتھ نقل وحرکت کرتے رہے تو بالیقین وہ ذلت و رسوائی کے بجائے عزت و وقار اور امن و سکون کی زندگی سے سر فراز فرمائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.