یادوں کے جھروکے اور وہ انمنٹ منظر

0 417

 

نقاش نائطی
+966504960485

*ساٹھ ستر دیے کا درمیانی کوئی سال، زمانہ طفل مکتب،جنوب بھارت سے شمال بھارت لکھنو، اسلامی تعلیم حصول کے لئے، بھٹکل سے بذریعہ پانی جہاز بمئی جاتے تھے اور وہاں سے دہلی یا لکھنو ریل سفر ہوتا تھا ۔جس دن بمبئی سے کوئی رشتہ دار پانی کے جہاز سے آنے والا ہوتا تو، تمام رشتہ دار توشئہ طعام لئے، کچھ گھنٹہ قبل ساحل سمندر پہنچ جایا کرتے تھے۔ جس سے آنے والے کو خوش آمدید کہنے کے بہانے انکے پورے آل کی تفریح طبع کا سامان بھی ہو جاتا تھا۔ وہ ایک سہانی شام تھی لڑکپن کے ان ایام میں،ہم ساحل سمندر پر گئے تو نہ تھے لیکن سنا تھا آدھا گاؤں انکے استقبال کے لئے ساحل سمندر پہنچ چکا تھا ۔چونکہ انکا گھر ہمارے محلہ ہماری گلی کے نکڑ پر تھا گاؤں کے رواج مطابق شادی والے گھر نوشاہ کا استقبال جن، الا اللہ کے فلک شگاف لوک گیت سے ہوتا تھا جوان سال مولانا اقبال ملا کو بھی کسی نوشاہ کی طرح جاسمین کی خوشبودار پھول کلیوں سے بنے، بے تحاشہ ہار پہنائے، الا اللہ کے گیت گاتے لایا جارہا تھا۔ سر پر عمامہ باندھے و ہ کسی نئے نویلے دولہا لگ رہے تھے۔ہر کسی کی زبان زد عام تھا لکھنو سے عالمیئت کی ڈگری لئے گویا، پیٹھا باندھے وہ پہلی مرتبہ وطن آرہے تھے وہ دو تھے مولوی صادق اکرمی مدظلہ اور مولانا اقبال ملا صاحب مدظلہ، یہ دونوں سند یافتہ عالموں نے، گاؤں ہی کے دینی تعلیمی مدرسے جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں تدریسی ذمہ داری سنبھالی اور مسجد کی امامت کرتے ہوئے،محلہ و گاؤں والوں کی دینی نہج، تربیت کا بیڑہ اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔ گو بھٹکل ان ایام میں بھی دینی ماحول سے مزین تھا لیکن سات آٹھ سو سالہ مغل حکمرانی والی شیعیت یا بریلوئیت کے رسوم، گھر گھر عام تھے۔ان دو عالموں کی نصف صد سالہ ان تھک کوششیں تھیں کہ آج پورا علاقہ، بھارت کے دیگرعلاقوں کی بنسبت، شرک و بدعات سے ایک حد تک پاک و صاف ہے۔آج پورے علاقہ کی وحدانیت والی تربیت ابتدائی دوخلفاءراشدین بوبکر و عمر والی صفات لئے، صادق و اقبال کے سر جاتی ہے۔ اللہ تعالی انہیں مکمل صحت کے ساتھ قوم و ملت پر سلامت رکھے اور ان سے قوم و ملت کے نونہالوں کو صحیح معنوں تربیت پانے کی توفیق عطا کرے۔اس احقر کو ان دونوں بزرگوں سے براہ راست علم دین حاصل کرنے کا نہ صرف شرف حاصل ہے، بلکہ ابھی تک دونوں سے قلبی تعلق باقی رہتے ان سے براہ راست فیض و برکات سمیٹتے رہنے کا موقع بدستور قائم ہے*

*مولانا صادق جہاں اپنی بردبارئیت سے معاشرے میں اپنا ایک الگ مقام بنائے ہوئے تھے وہیں پر، مولانا اقبال اپنی جلالیت فاروقی کی وجہ سے نوجوان نسل میں معروف تھے۔ہمیں لڑکپن کا وہ واقعہ بھی یاد ہے ہم سے چند کلاس آگے پڑھنے والا، انہی کا کوئی رشتہ دار طالب العلم،ایک دن انکی جلائیت کی زد میں آکر،ان کی بیت کنی کا شکار بنتے ہوئے، کسی سونار کے ہاتھوں تپتے شعلوں اور ہلکے ہتھوڑے کی مار کھاتے کھاتےکندن بن، خوبصورت زیور کی شکل اختیار کر جاتا ہے، آج وہ انکے ہاتھوں مارکھایا طالب علم، معاشرے کا ایک بہترین عالم دین بننے کے ساتھ داعی اسلام بھی ہے۔*

*اسی کے دیے کے وہ دن تھے بارش کے ایام تھے۔ پاس والے ڈسٹرکٹ جوگ فال ڈیم زیادہ پانی جمع ندی میں، بہت سارا پانی بہائے جانے سے ہوناور ندی میں طغیانی آتے سمسی ، شرالکوپہ، گیر سوپہ، ہیرانگڈی ، کوروئے،  ولکی، سرلگی جیسے شراوتی ندی کے آس پاس بسے مسلمانوں کے دیہاتوں میں بپا قیامت صغری کی بازگشت بھٹکل پہنچتی ہے،مولانا اقبال کی نگرانی والی فاروقی مسجد میں ان کی ایماء و سرپرستی میں محلے کے نوجوان، ان سیلاب زد علاقے کے مکینوں کی فوری ابتدائی مدد کے لئے کھانے پینے، پکانے کا سامان، مستعمل کپڑے وغیرہ کی کھیپ جمع کرنا شروع کردیتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے پورے گاؤں سے امدادی سامان ایک متعین جگہ جمع ہوجاتا ہے اور دوسرے دن مولانا اقبال مدظلہ ہی کی سرپرستی میں وطن کے نوجوانوں کا ایک قافلہ ٹرکوں پر سوار سیلاب سے متاثرہ علاقہ کی مرکزی مسجد میں ہفتہ کے لئے، ڈیرہ ڈال چکا ہوتا ہے نوجوانوں کی ایک ٹیم بڑی بڑی دیگوں میں ڈال چاول پکانے میں جہاں مصروف ہوتی ہے تو، نوجوانوں کا ایک وفد متاثرین کےگھر کے مکینوں کی تفصیل اندراج حاصل کرتا ہے اور یوں چند ساعتوں میں نہ صرف گرم گرم کھانا ان سیلاب متاثرین کو کھلایا جاتا ہے بلکہ دو ایک دنوں میں ان کے گھروں کے مکینوں کے تفصیل مطابق مستعمل کپڑے لتھے ،چاول دال تیل ودیگر اجناس ،ان میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔جب ہمارا امدادی قافلہ تین چار روز کے اپنے مشن سے لوٹنے کے بعد حکومتی امداد ان علاقوں میں پہنچتی ہے۔*
*ہم نے مولانا اقبال میں وہ جذبہ حرئیت بھی پایا ہے جب 83 کے پہلے ھندو مسلم فساد بعد مسلم رضاکاروں کی نیابت و رہبری جس بہتر انداز آپ نے کی تھی اس سے ہم نوجوان میں بلا کا اعتماد ہم نے پایا تھا۔ مولانا موصوف ہر کسی خاص و عام کے جنازے پر، غسل سے پہلے پہنچتے تھےاور ورثاء میں سے، ایک دو نوجوانوں کی تربیت کرتے ہوئے،میت کو غسل دیتے تجہیز، تکفین و تدفین کا عمل اپنی پوری نگرانی میں کرتے ہوئے، معاشرے کے نوجوانوں کی اس نقطہ نظر سے تربیت کیا کرتے تھے۔ علاقے کی لاوارث اموات پر اس کی آخری رسومات پوری کروانے تک حضرت مولاناسامنے رہا کرتے تھے۔ لاوارث نساء اموات کی آخری رسومات کے لئےمعاشرے کی کچھ خواتین، ان کی تربیت یافتہ انکے اشارے پر ہمہ وقت حاضر رہا کرتی تھیں۔ ان میں ہماری بڑی ہمشیرہ،جو اب کچھ سال قبل انتقال کرچکی ہیں، ان کے نساء رضا کاروں کی فہرست میں سب سے آگے تھیں۔ چار رہے قبل ایک دن صبح صبح حضرت مولانا اقبال ملا ندوی نے فون پر قریبی گاؤں بیندور ایک پوری مسلم آل کے حادثہ میں متعدد نساء اموات کی خبر سناتے ہوئے، ہمارے واسطے سے ہماری ہمشیرہ سے درخواست کی کہ چونکہ مہلکوکین نساء بری طرح زخمی تھیں، اس لئے مولانا کی میعئیت میں نساء رضا کاروں نے، وہاں جاکر ان زخمی مہلوکین کی تجہیز و تکفین کا عمل اپنی نگرانی میں کروایا تھا۔انہی ایام قریبی دیہات شیرور آبادی سے باہر ایک جھونپڑی میں مشکوک کردار کی حامل ایک مسلم نساء رہتی تھی۔ ایک دن اس کی جھونپڑی شعلہ زن ہوتے ہوئے،وہ پوری طرح جھلس کر مرچکی تھی۔چونکہ وہ اس علاقے کی معتوب تھی اور جھلسی میت علاقے کے زعماء کے خوف سے،بنا آخری رسومات کے متعفن ہورہی تھی۔ اس وقت بھی،اس کے گناہ اس کے ساتھ، لیکن مسلم ہونے کے ناطے آخری رسومات ضروری تھے۔اس لئے اس وقت بھی ان نساء رضاکاروں میں، ہماری ہمشیرہ کو لے جاکر اپنی نگرانی میں اس کی تجہیز تکفین و تدفین حضرت مولانا نے کی تھی*

*حضرت مولانا اقبال ملا ندوی مدظلہ ایام شباب ہی سے، عام کٹر مقلد علماء ھند کے برخلاف، اپنے وقت کے جید اجتہادی عالم علامہ ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کی فکر اجتہاد سے مطابقت رکھتے ہوئے کھلا ذہن رکھنے والوں میں سے تھے۔ایام شباب ہی سے عالمی اسلامی امور پر نظر رکھنے کے لئے عالمی عربی خبریں خصوصا بلاناغہ ریڈیو پر بی بی سی سحربین سنا کرتے تھے۔ اس لئے سترکے دیے میں جماعت اسلامی سے خاص لگاؤ تھا، جب ہم سعودی مصروف معاش احباب نے شہر میں سلفی مکتب فکر ادارے کی بنیاد رکھی تو ہمیں ہمہ وقت انکی سر پرستی حاصل تھی۔ مشہور شافعی عالم کے نام نامی پر مکتبہ ابن ھجر العسقلانی علیہ الرحمہ کی موجودہ عمارت کے افتتاح کے موقع پر، امام احمد بخاری مسجد کی سنگ بنیاد تقریب رکھی جارہی تھی۔ اس وقت چونکہ احقر کو اس پروگرام کی نیابت کا موقعہ نصیب تھا آپ نے مجھے قریب بلاکر پوچھا کہ مہمان خصوصی یا صدر جلسہ کی حیثیت کون مہمان آرہا ہے تو ہم نے کہا جن کو نہایت عزت سے بلایا گیا تھا انہوں نے معذرت کرلی ہے۔ تب انہوں نے ہم سے کہا کہ وہ ایسی تقاریب سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں لیکن خود کے، ہم سلفی الذہن لوگوں کی تائید میں ہونے کے برملا عوامی سطح پر اعتراف کرنے کے لئے ہی، ہماری دعوت پر، تقریب کے وقت اسٹیج پر جلوہ افروز ہونے کے لئے تیار ہیں۔اور یوں مقامی علماء میں وہ پہلے شافعی عالم تھے جن کی برملا سرپرستی ہم اہل سلف مکتبہ فکر کے لوگوں ساتھ ہمیشہ رہا*

*اسی کے دیے کا ایک واقعہ ہے کہ ہمارے ایک دوست کسی بات پر اپنی بیوی سے الجھ جاتے ہیں اور غصہ کی حالت میں متعدد طلاق دے دیتے ہیں۔ چونکہ ان کی اس وقت تک لا اولاد صاحبہ، دینی گھرانے سے تعلق رکھنے کی بنا پر، اپنا سامان سمیٹ اپنے گھر جانے کی تیاری کررپی ہوتی ہیں۔تب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے۔لیکن معاشرے میں رائج ایک محفل دی گئی تین طلاق کو راجع قرار دیتےہوئے میاں بیوی دونوں کو جدا جدا کردیا جاتا تھا اس لئے بڑی مشکل سے اللہ رسول کا حوالہ دے کر، اپنی مطلقہ کو کچھ گھنٹوں کے لئے، اس کے علماء کرام سے فتوہ حاصل کر آتے لمحات تک، گھر ہی میں رہتے اس کا انتظار کرنے کا وعدہ لئے، وہ کئی علماء کرام سے جاکر ملتا یے چونکہ ان ایام پورا علاقہ، مقلدین علماء کرام کے زیر اثر تھا، ہر طرف سے، اسے تین طلاق واقع ہونے کا جان فضاء مزدہ سنایا گیا۔ لیکن جب وہ نوجوان پریشان حال حضرت مولانا اقبال مدظلہ سے صلاح لینے پہنچا تو، اس کے واقعتا پریشان حال صورت کو دیکھتے ہوئے،آپ نے اس سے یہی کہا اگرتمہاری اس حرکت رذیلہ پر فتوہ تم طلب کروگے تو علاقے میں رائج اسلوب کے تحت ایک محفل وقوع پذیر طلاق ثلاثہ کو راجح قرار دیاجائیگا اور اگر واقعتا تم اپنی اس رذیل حرکت پر تائیب ہو اور اپنی غلطی سدھارنا چاہتے ہو تو، ہم تمہیں فتاوہ ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کی کتاب دئیے دیتے ہیں۔فلاں صفحہ سے فلاں صفحہ تک اطمینان سے سمجھ کر پڑھنے کے بعد، تمہیں تمہارے مسائل کا حل معلوم ہوجائیگا اور سمجھ کر پڑھنے کے بعد اپنے وقت کے جید عالم علامہ ابن تیمیئہ علیہ الرحمہ کے معرکتہ الارا فتوہ، ایک محفل ایک سے زائد دی ہوئی طلاق کو،ایک ہی متصور کرتے ہوئے؟ ایک طلاق کا جو فیصلہ صادر کیا گیا ہے۔ اس پر تم عمل کرتےہوئے تم اپنی بیوی سے رجوع کرتے ہو اور وہ بھی اس کے لئے راضی پائی جاتی ہے، تو پھر کوئی تمہیں اپنی منکوحہ سے الگ نہیں کرسکتا۔ اس سنگھی مودی راج میں، ایک محفل تین طلاق کو تین مانتے ہوئے، طلاق راجح قرار دئیے جانے کے، مسلم پرسنل بورڈ و علماء بھارت کے اجتماع فیصلہ کے خلاف، تین طلاق آرڈیننس کے تحت، اپنی منکوحہ کو ایک محفل تین طلاق دینے والے ہر بھارتی شہری کو، تعزیرات ھند کی دفعات کی رو سے جیل بھیج دئیے جانے کے سنگھی مودی جی کے فیصلہ بعد،بھارت کے مختلف مکتبہ فکر کے علماء کرام نے،ایک محفل دی ہوئی ایک سے زائد تین طلاق کو ایک ہی طلاق متصور کرنے کا اجماع علماء بند کا فیصلہ منظر عام آچکا ہے، لیکن اسی کے دیے میں ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کے اس فتوہ پر عمل پیرا ہونے کاسجھاؤ دینے کا ساہس و ہمت ہم نے صرف حضرت مولانا اقبال ملا مدظلہ میں پایا تھا*
*حضرت مولانا اقبال ملا ندوی مدظلہ علوم دینیہ کے ساتھ بعض عصری علوم،خصوصا نظام شمسی کے پیش نظر، اوقات صوم و صلواة متعین کرنے میں مہارت رکھتے تھے اور مساجد کے قبلہ کے تعین زاویاتی اعتبار سے بہترین انداز کیا کرتے تھے۔ اس لئے ان کے ترتیب پائے سہور وفطور صوم و پنچ وقتی نماز و طلوع و غروب شمش اوقات کا جدول، ان کا ترتیب پایا ہوا ہی معاشرے میں رائج ہے۔ ترکہ تقسیم ملکیت میں بھی حضرت مولانا کو علمی مہارت حاصل ہے۔ہمیں امید ہے علاقے میں پائے جانے والے ندوی علماء و فضلاء حضرات کی کثرت تعداد میں سے، بہت سے نوجوان علماء کرام نے، ان میں موجود بہت سے ایسے نادر علوم کو،اپنے میں منتقل کرتے ہوئے، ان علوم کو معاشرے میں زندہ و تابندہ رکھنے کا انتظام کیا ہوگا*
*حضرت مولانا کو عہد جوانی ہی سے غالبا خون و بول میں شکر کی زیادتی کا مرض لاحق تھا۔ جس سے ان کی حس گویائی متاثر تھی اور ان کے گردے بھی متاثر تھے۔ اس پر طرآء یہ کہ عالم بھر میں اپنے قہر سے کہرام بپا کرتے، مختلف الجسمانی اندرونی اعضاء کے متاثرین، سقم قلب و گردہ وتلی جگر کہ، آلات تنفس کے شکار دمہ کے مریض، معمر انسانیت ہی، سقم کورونا کی ہلاکت خیزی کا شکار ہوا کرتی ہے۔ عالم کے مختلف ملکوں شہروں میں اب تک جتنی بھی چھ سات لاکھ اموات سقم کورونا کی ہلاکت خیزی کے تاج پر،منظم عالمی سازش کے تحت آویزاں کی گئی ہیں۔ اگر غیر جانبدار لوگوں کی تحقیقات سے گزاری جائیں تو، نوے فیصد سے زائد عالم بھر مہلوکین،عالمی سطح پر منظم سازش کے تحت کورونا کی ہلاکت خیزی پھیلاتے ڈر کے سائے میں، اپنے میں موجود مختلف مہلک جسمانی نقائص و امراض کی موجودگی میں، سقم کورونا لاحق ہونے کی وجہ سے ڈر اور خوف سے موت کو گلے لگایا ہوا پایا جائے گا۔ ایسے میں قاضی شہر کے منصب تمکنت پر متمکن، اپنے میں موجود عارضہ گردہ وتلی و خون و بول میں شکر کی زیادتی کے شکار،آس پیران حالی والی عمر میں، حضرت مولانا اقبال ملا ندوی کے سقم کورونا کے شکار ہونےکےخبر نےہم متعلقین و غیر متعلقین تمام علاقہ کے لوگوں کو مضمحل افسردہ کئے ہوئے تھا لیکن باوجود مختلف امراض کے،اپنی خود اعتمادی اور توکل علی اللہ ایمان افروز جذبہ کے باعث،اس مہلک سقم کرونا کو مات دیتے حضرت مولانا اقبال ملا ندوی مدظلہ کے روبہ صحت ہونے کی خبر نے، پورے گاؤں و علاقے والوں کو مسرور و شادمان کیاہے۔ اس موقع پر جب کہ ہم موحد و مومن ہونے کے ناطے، صحت شفایابی، وقت و جاء موت کے بر حق ہونے پر، ایمان کامل رکھنے والے ہم مسلمین علاقہ، اللہ رب العزت کے مشکور و ممنون ہیں کہ اس نے حضرت مولانا کو اس مہلک سقم کورونا سے شفا یابی بخشتے ہوئے، ہم تمام مسلمین کو، توکل علی اللہ اور قضاء وقدر پر یقین کامل رکھتے ہوئے، سقم کورونا سے لڑنے کا ساہس و ہمت بخشی ہے۔ موت برحق ہے ہم میں سے ہر کسی کو موت کا مزہ چکھنا ہی ہے۔موت کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ جوان اور کم سن بچے بھی حکم الہی سے موت کو گلے لگا لبیک الھم لبیک کہتے اپنے مالک حقیقی کے بلاوے پر اس دار فانی سے آس دار ابدی کی طرف کوچ کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن کسی بھی سقم کے ڈر سے طبیعی موت سے قبل، بےجان ہوجانا، شان ایمانی کے برخلاف عمل ہے۔اللہ ہی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ہردلعزیزاساتذہ کرام قاضی شہر حضرت مولانا اقبال ملا ندوی مدظلہ کو،حضرت مولانا صادق اکرمی مدظلہ کو، قومی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر و سکریٹری صاحبان کو جمیع مسلمین کو اس کورونا سقم مہلک سے نجات دے، انہیں شفا کاملہ نصیب کرے اور ان سے قوم و ملت کو بہتر انداز فیض یاب کرے ہمارے ہردلعزیز استاد محترم قاضی شہر کو، جو آجکل قریبی شہر کے بڑے ہاسپٹل میں زیر علاج روبہ صحت ہیں۔ عالمیت کی سند لئے زمانہ شباب نوشاء وقت بنے،آلا اللہ کی حمد و ثنا تکبیر کے ساتھ وطن جو تشریف لائے تھے اپنے دیگر امراض مکمل شفا یابی کے ساتھ، اپنے پاؤں چل کر، وہ جلد بہت جلد وطن تشریف لائیں۔اور ہم اہل وطن، ان پرانی سہانی یادوں کو دوبارہ انکے لئے دہراتے ہوئے،الا اللہ کے نغمات کے ساتھ انہیں ایک مرتبہ پھر انکے اپنے وطن میں اہلا و سہلا مرحبابکم کہہ سکیں۔وما علینا الا البلاغ*

Leave A Reply

Your email address will not be published.