بھارتیہ سنگھی مودی حکومت عالمی سازشوں کا حصہ

0 55

 

نقاش نائطی
+966504960485

*ایک وقت کے 27%جی ڈی پی والے معشیتی طور مضبوط اور بڑے اکھنڈ بھارت کو، اب معشیتی طور برباد کرنے کے باوجود،2025 ھندو راشٹریہ اعلان کرتے تک اقتدار  سے چمٹے رہنے والی سنگھیوں کی سازش سے، 137 کروڑ دیش واسیوں کے سامنے لانا ضروری ہے*

*دنیا پر اپنی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے ہی, عالمی سازش کے تحت 2014 مودی کو دہلی کی مسند اعلی پر بٹھایا گیا تھا*

*تقریبا 13 ہزار کروڑ کے صرفہ سے، عالمی طرز کی اشتہاری کمپنی کی خدمات حاصل کرتے ہوئے، بھارت بھر کے مختلف دیہات قریات گاؤں شہروں میں دیو ھیکل مودی جی کے پوسٹر لگواتے ہوئے، دیش کی مختلف برہمنی سنگھی پونجی پتی آلکٹرونک میڈیا پر، 24/7 مکرر لائیودکھاتے ہوئے،56″سینے والےمہان مودی کوفرضی وائبرنٹ گجرات کے شکتی سالی بھگوان کی طرح پیش کرتے ہوئے، ای وی ایم چھیڑ چھاڑ کا بھی سہارا لیتے ہوئے، پینسٹھ سالہ کامیاب کانگریس راج،خصوصا عالمی ارتھ شاشتری مشہور کانگریسی پی ایم من موہن سنگھ کے، دس سالہ راج میں، بھارت کو ترقی پذیری کی اونچائی پر لے گئے شاندار دور بعد، 2014 بھارت بھر میں منعقد عام انتخاب سونے کی چڑیا کہے جانے والے بھارت کے لئے منہوس ترین انتخاب ثابت ہوئے*
*2014 عام انتخابی ریلیوں میں کانگریس کو بھارتی تاریخ کی سب سے کرپٹ سیاسی پارٹی ثابت کرنے کی کوشش سے ہزاروں کروڑ کے ٹوجی اور کویلا کھنن گھپلے بازیوں کو عوام میں اچھال اچھال کر، اوپر سے پینسٹھ سالہ کانگریسی راج میں لوٹی دولت کو ودیشی بنکوں سے واپس لاتے ہوئے، 130 کروڑ آبادی والے بھارت کے ہر ناگرک کے بنک ایکاؤنٹ میں پندرہ پندرہ لاکھ ڈپازٹ کروانے کےسہانے خواب دکھاتے ہوئے، دہلی کے سنگھاسن پر قبضہ کرنے والے ان سنگھی حکمرانوں نے، اپنے چھ سالہ سنگھی راج میں، کسی ایک کانگریسی سیاست دان کو ٹوجی اور کوئلہ کھنن گھوٹالے میں ان پر لگایا،اپناالزام ثابت نہ کرسکے، اسلئے سنگھی حکمرانوں کی طرف سے زبردستی جیلوں میں ٹھونسے گئے تمام کانگریسی لیڈران ان پر لگائے تمام الزامات سے باعزت عدالتوں سے نہ صرف بری ہوچکے ہیں۔ بلکہ اس سنگھی 6 سالہ دور میں "نہ میں ایک پائی کھاونگا نہ کسی کو کھانے دونگا” ہمہ وقت عوامی جلسوں میں چیخنے والے مہان مودی جی راج میں، بھارت کی تاریخ کے، نظر آنے والے یا نظر نہ والے مختلف گھوٹالوں سے، سونے کی چڑیا مشہور بھارت کی ارتھ ویستھا اتنی چرمرا چکی ہے یا صاف کہیں تو برباد ہوچکی ہے کہ عالمی منڈیوں میں پیٹرول کی قیمتیں دو تہائی حد تک گرنے کو باوجود، ہم 137 کروڑ دیش واسیوں کو،غریب پڑوسی ملک پاکستان سے بھی مہنگا پیٹرول خریدنے پر مجبور ہوناپڑ رہا ہے، بلکہ مہنگائی،بے روزگاری،کسانوں سمیت دیش کے پڑھے لکھے یواؤؤں کی بڑھتی خود کشی اموات شرح ، آزاد بھارت کی سب سے اونچی سطح پر پہنچ چکی ہے*

*بھارت پر سابقہ پینسٹھ سال سے حکومت کررہی کانگریس حکومت، کوئی دودھ کی دھلی, اتنی اچھی حکومت نہ تھی لیکن، امریکہ اسرائیل سمیت عالمی پونجی پتیوں کے تعاون سے،2014 بعد منظم عالمی سازش کے تحت، عالمی سرمایہ بھارت کے انتخاب میں انڈیلتے ہوئے، ای وی ایم چھیڑ چھاڑ الزامات کے تناظر میں، چمنستان بھارت کی تیز تر ترقی پذیری سے، اسے دور یا ونچت رکھنے کے لئے ہی،آرایس ایس، بی جے پی، سنگھی شدت پسند پارٹی امیدوار، کل کے قاتل گجرات کو، پرائم منسٹر آف بھارت جس سازش کے تحت بنایا گیا ہے اس پر تدبر کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر جب بھی کوئی بڑی سازش رچی جاتی ہے تو پوری طرح حاجت عود کر آنے کے بعد ہی، بیت الخلاء تعمیر نہیں کئے جاتے؟ بلکہ پانچ دس سال قبل کی پلاننگ سے، کسی بھی بڑی سازش کو روبہ عمل لایا جاتا ہے*

*اس نکتہ پر غور کرنے سے کیا یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ 2002 گجرات فساد،تین ایک ہزار گجراتی مسلمانوں کے قاتل سازشی سیاستدان، جس نے گجرات بی جے پی طاقت ور تر سیاست دان کیشو بھائی پٹیل کو شکشت فاش دینے ہی کے لئے،اپنے آرایس ایس شدت پسند ھندو دہشت گرد تنظیم، کے لاکھوں یوا کیڈر کو استعمال کرتے ہوئے، خود گودھرا کانٹ رچواتے ہوئے، گجرات اسٹیٹ حکومتی مشینری کا پوری طرح استعمال کرتے ہوئے، اپنے چھوٹے موٹے کاروبار سے اپنے اور اپنی آل اولاد کی فکر میں مصروف،گجرات مسلم تاجر برادری کو، دو دنوں کے منظم سنگھی گجرات فساد میں،آن آفیشیل ریکارڈ، دو سے تین ہزار بےقصور گجراتی مرد و نساء کا منظم قتل عام، پورے آٹھ نو ماں کی حاملہ، بیسیوں گجراتی باپردہ مسلم نساء کے، رحم رحم بھیک مانگتے تناظر میں بھی، کئی کئی سو دنگائی سنگھیوں کے، انہیں سر راہ ننگا کرتے ہوئے،چاقو، چھری، نیزے سے، انکے ننگے پیٹ کو چیر کر، اپنے ھندو احیا پرستی کے،خودحفاظتی درشک ترشول پر، ان انجنمے زندہ بچوں کو اٹھا کر، درد سے کراہتی ماؤں کے ساتھ، بلکتے تڑپ کر مرتےان ننھوں کو بھی،آگ کے الاؤ میں زندہ جلانے والے، ان انسانیت دشمن قاتل سنگھیوں کے ڈر اور خوف سے،اپنے آپ کے گھروں سے نکل کر، گجرات بااثر کانگریسی لیڈر،اس وقت کے ممبر آف پارلیمنٹ، احسان جعفری مرحوم کی حویلی جیسے، گلی محلے یا گاؤں کے باثر مسلم لیڈروں کی بڑی حویلیوں میں پناہ لئے، بیسیوں نساء و بچوں کو،اس وقت کے گجرات پرشاسن کی چھتر چھایہ میں، گھر میں پناہ لئے ہوئے، ان حویلیوں ہی کو نظر آتش کرتے ہوئے،کئی کئی سو، معصوم و مجبور گجراتی نساء و بچوں کا، قتل عام کرنے والے،با پردہ گجراتی مسلم نساء کو، گجرات کی سڑکوں پر ننگا کر ان کے ساتھ ساموہک بلاتکار کراتے ہوئے، انہیں قتل کرانے والے،تین سے چھ آٹھ ہزار گجراتی مسلمانوں کے، سنگھی قاتلوں میں سے، کتنے سنگھیوں کو سزا مل پائی ہے؟ مایا کوڈلانی اور بابو بجرنگی جیسے فسطائیت کے دعویدار سنگھی لیڈران جنہوں نے، اسٹنگ آپریشن میں کئی کئی مسلمانوں کے ساموہک قتل کرنے اور کرانے کا اعتراف دھڑلے سے کیا ہے، گجرات سنگھی حکومت نے انہیں تک قانون ھند اور عدلیہ ھند کے عتاب سے بچایا ہے*
*2002 سے 2014 تک گجرات کے،اختیار کل کے مالک، قاتل گجرات سنگھی مودی جے کے زمام حکومت میں،ایک وقت کے بھارت کی انصاف کی دیوی مشہور عدلیہ سے،اب تک ان 18 لمبے سالوں میں کتنے سنگھی درندوں کو سزا مل پائی ہے؟بابوبجرنگی اور مایا کوڈلانی جیسے گجرات حکومتی اہم بڑے سنگھی لیڈران کے، مختلف عالمی سطح کے میڈیا کرمیوں کے خفیہ کیمروں پر، 2002 گجرات فساد اپنے سازشی،دانستہ مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام،اقرار کے باوجود، گجرات کی نچلی عدالتوں کے گجرات فساد سازشی قرار،سزا یافتہ مجرموں کو بھی، گجراتی نازی ہٹلر ٹائپ سنگھی سیاستدان مودی جی اور ان کے دست راز، اس وقت گجرات سرکار کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی قاتل جوڑی کے کارناموں کو، نہ صرف گجرات بلکہ بھارت بھر کروڑوں سیکیولر ذہن عوام کہاں بھول پائے ہیں؟ کھلے ثبوت ان گجرات کے قاتلوں کے، عملی سیاست میں اپنے عمل دخل اور سنگھی سازشی ریشہ دوانیوں سے، بھارتی عدل و انصاف سے،اگر وہ قاتل گجرات، اب تک بچے ہوئے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں،کہ وہ قاتل گجرات نہیں ہیں، یہ انکی مکارانہ سنگھی سازشوں سے زیادہ، ہم بھارتی مسلمانوں و کروڑوں سیکولر ذہن بھارت واسیوں کی انصاف حاصل کرنے یا ان سنگھی درندوں کو سزا دلوانے،اپنی ناکامی و بے بسی کا زندہ ثبوت ہے۔*
*شاید یہی وہ اسباب تھے کہ عالمی طاقت صاحب آمریکہ، اپنی سر زمین امریکہ پر، مصروف معاش لاکھوں گجراتی پرواسی مزدور، امریکی این جی اوز کی مکرر درخواست پر بھی، 2002 سے 2014 تک گجرات چیف منسٹر رہتے، سنگھیوں کے طاقت ور تر سیاسی لیڈر، اس وقت کے بھی 56″سینے والے، مودی مہاراج کو، امریکی سرزمین پر قدم رکھنے تک نہ دینے والے،امریکی اسرائیلی عالمی لیڈروں کو، مودی مہان میں ایسے کیا سرخاب کے پر نظر آئے، کہ اچانک 2014 بھارتی انتخاب میں،ہزاروں کروڑ ان پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے، عالمی معیار بچوں کی ایمیونٹی کمی باعث، کم سن گجراتی بچوں کے مرتے،عالمی گراف پس منظر باوجود،وائبرنٹ گجرات کے خود ساختہ فرضی ہیولے کے طاقت ور تر، جن کے طور مودی مہاراج کو، پیش کرتے ہوئے، اربوں ڈالر پانی کی طرح 2014 انتخابی پرچار پر خرچ کرتے ہوئے، جمہوری کانگریس کامیاب ترین، من موہن سرکار کو، بھارت کی عملی سیاست سے باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے، اپنی بیوی تک کو درندہ صفت معاشرے کے بیچ بے یار و مددگار چھوڑ، اپنی ازدواجی ذمہ داریوں سے تک بھاگ جانے والے، چاء والے مودی جی میں،انکے نازی ٹائب ڈکٹیٹرانہ طرز حکومت انداز علاوہ، ایسی کیا خوبی ان یہود و نصاری عالمی لیڈروں کو نظر آئی؟ کہ 2014 تک اچھوت رکھے، قاتل گجرات کو امریکی صدر و اسرائیل کے پرائم منسٹر اپنا بہترین دوست اور دست راست تک بتانے سے، انہیں خجالت محسوس نہیں ہورہی ہے؟*

*دراصل 2014 بھارتی عام انتخاب پہلے تک، تیزتر رفتار سے معشیتی ترقی پذیری کے مدارج طہ کرتے ہوئے بھارت و چین، ممکنہ افغانستان سے شکست تسلیم کر امریکہ سے نکلنے کی صورت،اس سے عالم کی سربراھی چھن جانے کی صورت، سربراہ عالم کے دعویداروں کی صف میں جہاں چین کے ساتھ بھارت کا نام لیا جارہاتھاوہیں افغانستان جنگ کا امریکی حربی پارٹنر پاکستان، جہاں سابقہ پینسٹھ سالوں سے،اپنی انٹیلجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سہارے بھارت کو اپنی مسلسل کوششوں سے برباد و تاراج کرنے میں ناکام، ہمارے دشمن پڑوسی پاکستان نے امریکہ سے مل کر شاید یہ سازش رچی ہو اور منظم سازش کے تحت بھارت کی معشیت کو برباد کرتے ہوئے، امامت عالم کی دوڑ سے بھارت کو پیچھے، بہت دور رکھنے ہی کی خاطر،2014 عام انتخاب میں گذشتہ 90 سال اقتدار کے لئے ترستی سنگھی آر ایس ایس بی جے پی کواقتدار پر لاتے ہوئے، نازی ڈکٹیٹر ہٹلر ٹائیپ انکے اشاروں پر ناچنے لائق،کل کے انکے امریکی وزٹ ویزہ تک سے محروم رکھے جانے والے، چائے والے کو مسند اقتدار اعلی بھارت پر بٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہو؟اس بات کی صداقت کے ثبوت کےطور پر یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح 2014 عام انتخاب میں امریکی کروڑوں ڈالر لگاتے ہوئے، سابقہ 12 سال سے امریکی وزٹ ویزہ تک سے محروم چیف منسٹر گجرات مودی جی کو، پرائم منسٹر بھارت بناتے ہوئے کیسے امریکہ و اسرائیل کا سب سے بہترین دوست بنایا جاتا ہے اور یہی نہیں سنگھی مودی جی دشمن پڑوسی پاکستان نواز شریف کے بیٹے کی شادی کی بریانی کھانے، تمام تر سرکاری پروٹوکال کو پرے رکھ کر، کس طرح سے بن بلائےمہمان کی طرح پاکستان نواز شریف کے گھر پہنچ کر دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کردیتے ہیں*
*2030 تک عالم کی سربراہی کرنے لائق سونے کی چڑیا بھارت کو، کس طرح سے اپنی ڈکٹیٹرانہ پالیسیز سے، نوٹ بندی کا معاملہ ہو جی ایس ٹی لاگو کرنے کا فیصلہ ہو یا ابھی کورونا قہر کہرام پس منظر میں،ایک طرف نمستے ٹرمپ،احمد آباد گجرات میں لاکھوں کے مجمع کو جمع کر سقم کورونا بھارت کے انیک حصوں میں پھیلانے کا معاملہ ہو، تو دوسری طرف مدھیہ پردیش جمہوری طرز منتخب سرکار کو، آپریشن کنول کے تحت گرا کر، وہاں سنگھی حکومت قائم کرنے کے چکر میں، دیش بھر لوگ ڈاؤن لگانے مہینہ بھر تاخیر کرتے ہوئے، اپنے ڈکٹیٹرانہ فیصلوں سے، کس طرح بھارتی معیشت کو اپنے سنگھی 6 سالہ حکومت میں تاراج کرتے ہوئے، امامت عالم کی سر براہی کی دوڑ سےبھارت کو باہر کیا گیا ہے، کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتی یے؟ کہ 56″ سینے والے مہان مودی جی کو بھارت کا پرائم منسٹر بنانے کی انکی سازش کس قدر کامیاب تر سازش تھی؟ اپنے پینسٹھ سالہ روس دوستی کو چھوڑ کر، جس طرح سے سنگھی مودی راج میں بھارت امریکی عالمی وار گیم کا مہرہ بنتے ،اپنے دائمی دوست روس و چین سے پنگا لیتے نقصان اٹھاتے بھارت کی گریما واقدار کو کس قدر دھچکا لگایا ہے یہ حال کے تمام تر پڑوسی ممالک سے پرخاش پس منظر میں چائینا کے ہاتھوں اپنی سرحدی زمین کھونے کے باوجود جس طرح اپنی حربی ساکھ کھو چکا ہے اس سے اندازہ لگانا کیامشکل لگتا ہے؟ کہ بھارت کی تاراجی ہی کے لئے عالمی سازش کے تحت سنگھی مودی جی کو ،تخت بھارت پر براجمان کیا گیا ہے؟وما علینا الا البلاغ*
*سب سے اہم بات ان سنگھی حکمرانوں کو اقتدار کا اتنا چسکا لگ چکا ہے کہ ان کی غلط پالیسیز سے، سونے کی چڑیا بھارت، پوری طرح برباد و تاراج ہونے کے باوجود،یہ سنگھی حکمران اپنے جھوٹ مکر و فریب سے، اپنے برہمن سنگھی بکاؤ میڈیا پر،حقائق سے بالکلیہ خلاف جھوٹ افترا پروازی کا بازار گرم کرکے، جھوٹی دیش بھگتی  کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے،137 کروڑ دیش واسیوں کو بے وقوف بناتے ہوئے،ہر جائز  ناجائز طریقہ سے 2024 کا بھی انتخاب کسی نہ کسی طرح  جیتتے ہوئے، 1925 کی قائم قاتل مہاتماگاندھی والی پارٹی ھندو مہاسبھا جو، اب اپنے بدلے  ہوئے آرایس اہس  نام  سے،دلت مسلم مخالف ،ھندو شدت ہسند پارٹی کے سو سال پورے ہوتے 2025 تک دہلی اقتدار پر چمٹی رہتے ہوئے، ہزاروں سالہ گنگا جمنی، مختلف المذہبی، سیکولر تہذیبی،ملک  بھارت  کو ھندو راشٹریہ اعلان کرنے کے انتظار میں ہے،چاہے اب تک ان کی غلط پالیسیوں سے معشیتی طور تباہ و برباد  ہوا بھارت، مغل شہنشاہ اورنگ زیب  عالمگیر علیہ الرحمہ کے،پچاس سالہ دور حکومت میں، پاکستان بنگلہ دیش سری لنکا، نیپال ،بھوٹان، برما پر مشتمل  بھارت  دنیا کا سب سے 27 فیصد اپنی جی ڈی پی کے ساتھ معشیتی طور مضبوط اور بڑا تعمیر اکھنڈ بھارت 1947 اپنے پہلے بٹوارے کے بعد، اب 2020 بعد ان سنگھی حکمرانوں کی غلط خارجہ و داخلیہ پالیسیوں کی ناکامی کے سبب، ایک اور بھارت کا بٹوارہ ہوتے  ہوئے،چھوٹا سا کمزور بھارت ہی کیوں باقی نہ بچے؟ ان سنگھیوں کو اپنی ھندو حکومت بنانے کی ترجیح سب سے زیادہ لگتی ہےوما علینا الا البلاغ*

Leave A Reply

Your email address will not be published.