بی جے پی جمہوریت کے پس پردہ آئین کو ختم کرنے کی تیاری میں

0 65
ذوالقرنین احمد
ملک کی حکومت اپنے ذاتی مفادات کیلے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے جس طرح کورونا اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں مختلف غیر بی جے پی ریاست والی حکومتوں کو گرانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ارکان اسمبلی کو کروڑوں روپیہ میں رات و رات خریدا جاتا ہے کئی ایم ایل اے کو ہائیجیک کیاجاتا ہے۔  ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ اس معاملے میں ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں جو حکومت بنانے کیلے ڈاکٹر کی طرح ایک بکسا لے کر نکل جاتے ہیں۔ جبکہ یہ بات واضح دیکھائی دیتی ہے اخبارات میڈیا میں چلتی ہے کہ بی جے پی کسی بھی ریاست میں دوسری پارٹیوں کی سرکار گرانے اور اپنی سرکار بنانے کیلے ارکانِ اسمبلی کو کروڑوں روپیوں میں خریدتی ہے‌۔ تو پھر ملک کا الیکشن کمیشن کس لیے ہیں کرپشن بیورو کس لیے ہیں ۔ اگر یہ سب کچھ نہیں کر سکتے ہیں ملک کی سپریم کورٹ کیا کر رہی ہے۔ ملک کا عدلیہ کیا کر رہا ہے۔
کیا قانونی طور پر ارکان اسمبلی کو خریدنا اور اپنی سرکار بنانے کی اجازت ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جمہوریت آئین کس چیز کا نام ہے۔ یہ کونسا انصاف ہے کیا ملک کی سیاست اور سیاسی جماعتیں، سیاسی لیڈران جمہوریت اور قانون سے بالاتر ہے۔ اگر یہاں کرپشن جائز ہے تو پھر ملک کے دوسرے تمام اداروں میں بھی ہر جگہ کرپشن ہونے میں کونسی کاروائیوں اور قانون کی بات کی جاتی ہیں۔
یعنی قانون صرف غریبوں کیلے ہیں یہ سیاستدان عوام کو غلام بنانے کا کام کر رہے ہیں حکومت بھی قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ سیکولرازم انکے لئے کھلونا بن چکا ہے ملک میں جمہوریت صرف ایک سیمبال نشانی بن چکی ہے جس کا ڈر و خوف غریبوں کو دیکھا کر ان پر حکمرانی کی جاتی ہے اور پھر اسی جمہوریت کا سہارا لے کر ملک میں غیر جمہوری نظام کو قائم کرنے کیلے غیر قانونی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہے اسی کی پیچھے سیکولرزم کو ختم کرنے کی منظم طریقے سے سازش شروع ہے۔ دھیرے دھیرے بی جے پی حکومت ملک سے قانون کی حکمرانی کو ختم کرنے کی تیاری میں ہے۔ یہ سب کھلے عام قانون اور آئین کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ اگر کوئی سچا محب وطن ان فرقہ پرستوں اور ملک کے سسٹم کو کھوکھلا کرنے والے لٹیروں کے خلاف اور ملک اور آئین کے تحفظ کیلے آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے یہ کھل کر انکے خلاف احتجاج کرتا ہے تو یہ فرقہ پرست حکومت اسی جمہوریت اور قانون کا سہارا لے کر ایسے مخلص ایماندار افراد کو ملک دشمن عناصر بتا کر قومی تحفظ ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیتے ہیں۔ اور پر انھیں جیلوں میں قید کر دیتے ہیں۔ یہ بات تمام عوام کو سمجھنا چاہیے یہ سب کھیل جمہوریت کے سائے تلے جاری ہے۔ جمہوریت اور قانون کا لبادہ اوڑھ کر یہ فرقہ پرست حکومت ملک کو لوٹ رہے ہیں، ملک کے سسٹم پر سنگھیوں کو فائز کر دیا گیا ہے۔ پورا سسٹم کرپٹ ہوچکا ہے۔ ہر سطح پر کرپشن جاری ہے۔ جس کسی بھی اپنا کام نکالنا ہے وہ پیسے دے کر غیر قانونی طریقے سے سرکاری کام کاج کرلیتا ہے لیکن اس میں ملک کی 80 سے 85 فیصد غریب عوام جمہوری نظام حکومت میں ملنے والے حقوق سے محروم ہوجاتی ہے جو پیسے دے کرپشن کے ذریعے کام کرانے کی طاقت نہیں رکھتی ہے اور ملک ان اکثریت غریب طبقے کی وجہ سے ترقی نہیں کرپاتا ہے جنہیں آگے بڑھنے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا ہے۔ انکے حقوق کو غصب کیا جاتا ہے آئین میں دیے گئے حقوق سے انھیں محروم کردیا جاتا ہے۔
 سرکاری طور پر چلنے والے تمام  اداروں کے نظام کو سست اور کمزور کردیا جاتا ہے۔ پرائیویٹ کمپنیوں سے زیادہ پیسے لے کر ٹینڈر نیلام کیے جاتے ہیں جس کے بعد اسکے ذریعے ہونے والے عوامی کام کاج کمپنی والے زیادہ منافع کمانے کیلے ان سے زیادہ پیسہ لیتے ہیں۔ جس طرح حال ہی میں ملک کے ریلوے کو نجی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی تیاری ہوچکی ہے۔ جو غریب عوام کم خرچ میں دور دراز کا سفر سرکاری لوکل ٹرینوں میں کرتے تھے اب ریلوے پرائیویٹ ہونے کے بعد من چاہے کرایا غریب عوام سے وصول کریگا۔ یعنی ایک بات صاف ہے کہ ان تمام سے حکومت اور سیاستدانوں کو کوئی سروکار نہیں ہے وہ صرف اپنے فائدے کیلے عوام پر ظلم کر رہے ہیں اور غریب عوام کو مزید سطح غربت سے نیچے دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ملک کی غریب عوام کو کارپوریٹ گھرانوں اور امیروں کے ماتحتی میں انکے ساتھ غلامانہ سلوک کرنے کی کوشش جاری ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.