عالمی یہود و نصاری طاقتوں کے بیچ تلملاتی  پہلی ایٹمی اسلامی قوت

0 95
                نقاش نائطی
            +966504960485
دنیا میں اسرائیل کے بعد یہودی سب سے زیادہ کہیں بستے ہیں تو وہ ہے اصفہان کا شہر ایران میں۔ وہ بھی عام یہودی نہیں بلکہ ہندوؤں کے لئے سوتر دھاری برہمن ذات جیسے اصفہانی، اعلی اقسام کے لائق پرم پوجیہ یہودی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم کی نشانی قیامت بتائی کی گئی پیشین گوئیوں میں سے ایک، جب تک دجال کا ظہور نہیں ہوگااور 40 ہزاراصفہانی یہودی اسکا ساتھ دیتے ہوئے، دنیا پر ایک حدتک ظلم وبربریت کا ننگا ناچ نہیں ناچیں گے، قیامت اس وقت تک نہیں آئیگی۔
 امریکی سربراہی عالم کےسابقہ چالیس سال کی تاریخ گو باریکی سے دیکھی جائے،تو سنی شاہ ایران کا تختہ الٹ، دنیا کی باقاعدہ پہلی شیعی حکومت  کو حیات دوام بخشنے والے یہود و نصاری نے، اسی شیعیئت کا ڈر بتلا اور جتلاکر،شیر صحراء عراقی صدام  حسین کی معیئیت میں عرب ممالک کو ایران کے خلاف صف بستہ کرتے ہوئے، تمام پیٹرو ڈالر مالک عرب ملکوں کو اپنی اسیری میں لیا تھا اور اس اسیری سے راہ فرار کی پناہ ڈھونڈتے کل ہی کے اسد صحرا صدام حسین کو،معتوب گردانتے ان عرب ممالک کی پشت پناہی کے بہانے، پچاس سے زائد  عالمی طاقتوں کی معیئت میں عراق پر یلغار کرتے ہوئے،نہ صرف بند چہرے والے اپنے شیعی مہروں کےہاتھوں صدام حسین کو، کھلے چہرے کے ساتھ، دار پر لٹکواتے، انہیں قبل از مرگ،جنت مکین ہونے کا دعویدار بنایا تھا۔ آج   پیٹرو ڈالر سے مالامال مگر،ان یہود ونصاره کی نظروں میں بے وقعت، مختلف  عرب ممالک کے درمیان، ایٹمی آلات حرب سے کھیلنے والا،ان عرب سربراہان کا لاڈلا، نٹ کھٹ، بظاہر کمزور سا غریب ومفلس ملک پاکستان ،ان یہود و نصاری کے عالمی رہنماؤں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔کبھی کسی لالی پاپ یا شکرقندی ابرزد پھولے جھولے کو، اس نٹ کھٹ ایٹمی طفل کے ہاتھوں تھماتے  اسے قابو میں کرنے کی سعی کی جاتی ہے تو، کبھی اس ملک میں موجود اپنے سفارت خوانوں کی درپردہ مدد سے، انجانے پٹاخہ پھوڑ، چھڑی مار دہشت گردانہ کاروائیوں سے، اسے خوفزدہ کرنے کے حربے استعمال ہوتے رہے ہیں اور کبھی اپنے سرکس میں استعمال ہونے والے جمبورےایران کو سامنے رکھتے ہوئے، اس کی مفروضہ دہشت سے اپنے اسیر ملکوں کو ڈراتے دھکماتے، اس کے قلع قمع کے لئے، اپنے بحری بیڑوں کو، اپنے پالتو جمبورے کے آس پاس بھیج کر، گویا جمبورے کو نشانے پر بتایا اور درشایاجاتا ہے لیکن مسلم دنیا کے عقل و فہم رکھنے والے باشعور اذہان، اس بات کا ادراک بخوبی رکھتے ہیں کہ "کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ ہے نشانہ” یہود و نصاری کی سازشوں کے نرغے میں ، انکا اپنا لاڈلا جمبورا، شاتم خلفاء راشدین، شیعہ رافضی ملک ایران نہیں، بلکہ  کمزور تر دکھائی دینے والی،ایٹمی طاقت ملک پاکستان ہے؟
ہم مسلم دنیا بھلے ہی کمزور و ناتوان دکھنے والے، ایٹمی طاقت پاکستان کو، گھر کی مرغی دال برابر سمجھیں، لیکن عالمی طاقت یہود ونصاری کو اس بات کابخوبی ادراک ہے کہ عام طور پر عالمی سطح پر کھیل کےمیدان کا لائق غیر پیشین گو (ان پریڈیکٹیبل) سمجھا جانے والا ملک پاکستان، اپنے ایمانی حرارت کے باعث واقعتا،عالم کے لئے غیر پیشین گو ہی ہے۔اسی کے دیے سے پہلے، سربراہ عالم ، سویت یونین کے افغانستان یلغار کے ابتدائی پانچ ایک سالوں تک، عالمی طاقت بپھرے سانڈ مانند، یوایس ایس آر کے خلاف ، آلات حرب جدید سے ماورا، کمزور و ناتوان افغانی مجاہدین کو، سیسہ  پلائی دیوار کی طرح کھڑا کرنے کے پیچھے، کونسی طاقت کارفرما تھی؟ یہ تو اچھا ہوا بپھرے سانڈ کو قابو میں بھی کیا جا سکتا ہے، اس کے ادراک بعد،83 بعدکے دنوں میں،  عالمی سربراہی کے دوسرے دعویدار صاحب امریکہ نے، اپنے مفاد کے حصول کے لئے، اپنے اسیر عرب ملکوں میں جہادی ہمئیت جگاتے ہوئے، عربوں  ہی کی دولت کے بل پر، امریکی ہتھیاروں کے ساتھ،عرب مجاہدین کی فوج درموج کو پاکستان کی معرفت افغانیوں کی پشت پر پہنچواتے ہوئے، نہ صرف اس وقت، طاقت ور تر، یو ایس ایس آر کو، انیک ٹکڑوں میں بٹنے پر مجبور کرواتے ہوئے، سربراہ عالم کے اکلوتے دعویدار منصب تمکنت پر براجمان ہونے میں، بظاہر پاکستان کی مدد لیا لگتا ہے لیکن، خود صاحب امریکہ کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ یہ تخت و تاج سرباھی عالم، چھوٹے سے کمزور سے دکھنے والے ملک پاکستانی کی،یوایس ایس آر کو توڑنے کی اسکی عظیم قربانیوں ہی کے طفیل ہے
جس کندھے پر چڑھ کر مقام متمیز پر پہنچنے والا،اپنے ھدف کو پالینے کے بعد، اسی کندھے کو مستقلا زائل یا ناکارہ نہیں بناتا، اسی کندھے سے اسے خطرہ بدستور لاحق رہتا ہے،اسی خطرہ سے چھٹکارہ حاصل کرنے ہی کے لئے، اولا حربی داؤ  پیچ کے ماہر پاکستان کو مفلوج و ناکارہ بنانے کے لئے ہی، اور ثانیا اپنے جمبورے ملک ایران کے استحکام کے لئے جہد کرتے کرتے، حربی طور مستحکم ہوئے اسد صحرا عرب،  صدام حسین کوراستے سےہٹانے کے لئےتو، ثالثا چار سو سالہ طویل تر صلیبی اسلامی جنگ بعد 1923 میں، بڑی مشکل سے ختم کئے گئے، حکومت خلافت عثمانیہ  والی شبیہ کو، بعد زوال یو ایس ایس آر، پاکستانی حمایت یافتہ نئی آزاد تشکیل پائی طالبانی اسلامی حکومت میں پاتے ہوئے، اس طالبانی اسلامی حکومت کو ہی ختم کرنے کے لئے،اور رابعا، روس کو ختم کرنے اسامہ بن لادن کی افغانستان موجود کل کے عرب مجاہدین کی فوج  کو ختم کرنے کے لئے، چار زاویاتی مشترکہ ھدف  کے ساتھ، اپنی سازش کو روبہ عمل لانے  کے لئے صیہونی سی آئی اے اور یہودی موساد انٹیلیجنس اشتراک سے،  تین ہزار امریکیوں کی بلی دیتے ہوئے، نائیں الیون دہشت گرد حملہ ڈرامہ رچاجاتا ہے۔اور اپنے چاروں ھدف کو پورا کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ یہ تو اچھا ہوا 9/11 کے اشتراکی شریک، ازل سے اب تک، اپنے خاص مفاد کے لئے، اپنوں تک کو دھوکہ دیتے آئے سازشی یہودیوں کے،امریکی  ٹوین ٹاور میں مصروف عمل کئی سو یہودیوں کو اس 9/11 والے دن چھٹی پر بجھواتے ہوئے،  انہیں مرنے سے بچانے کے چکر میں، دونوں سازش کرتاؤں سی آئی اے اور موساد کے بیچ اختلافات کے باعث 9/11 کے اصلی سازش کرتا عالم کے سامنے آجاتے ہیں۔
دوسری طرف، عالمی یہود و ہنود و نصاری کے ایجنٹ، جمہوری نظامی اقدار والی دو پارٹی، کرپٹ سیاستدانوں کی نوچ کھسوٹ سے،  ایک حد تک معشیتی طور تباہی کی کگار پر کھڑا، بظاہر کمزور و ناتوان دکھنے والا پاکستان، دور ضیاالحق میں، اسلامی کرنوں کی ضیاء پاشی سے منور، و ایک حد تک، ایمان افروز افواج پاکستان، سقوط خلافت عثمانیہ بعد، یہود و نصاری کی ریشہ دوانیوں سے مکمل واقفیت رکھتے ہوئے، سقوط یوایس ایس آر بعد،حکمرانی عالم، صاحب امریکہ کو مہیا  کرواتے وقت، عقود عالم، طوق غلامی صد سالہ ترکیہ کے اختتام تک، کسی بڑے حرب سے، اپنے دامن و قوت کو بچاتے ہوئے، ایٹمی طاقت پاکستان، 2023 بعد والی کسی بھی ممکنہ عالمی حرب کے لئے، اپنے آپ کو تیار رکھنے کی سعی میں مست تھا۔ شاید اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے، یہود و نصاری کی عالمی طاقتوں نے،انکے اپنے رچائے  9/11 دہشت گرد حملہ بعد، امریکی صدر جارج بش نے ، امریکی وائیٹ ہاؤس زیر زمین بنکر سے نکلتے شروعاتی لمحات میں ہی، کروسیڈ وار (مسلمانان  عالم کے خلاف مسیحی قوتوں کی جنگ) کی پھنکار لگائی تھی، لیکن بعد میں 9/11 دہشت گرد حملہ کا پورا کھیکڑا اسوقت تک کی جہادی اسلامی عالمی جہادی تنظیم القاعدہ کے سر پھوڑتے ہوئے، انہیں عالمی دہشت گرد ٹہراتے ہوئے،اسمامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کے فرمان جاری کرتے ہوئے، بصورت حکم عدولی، عالمی حربی طاقتوں کے ساتھ  افغانستان پر یلغار کی دھمکی حکومت افغانستان کو دی گئی تھی۔ وہ تو افغانستان کے اس وقت کے امیر المومنین ملا عمر نے یہود و نصاری کی دھمکی کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے، 9/11 دہشت گرد حملہ میں جہادی عالمی تنظیم القاعدہ کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگے۔ یہود و نصاری کی عالمی طاقت کا اصلی چار زاویاتی ھدف،  پہلا، عالمی القاعدہ تنظیم کا قلع قمع تو دوسرا ھدف،خلافت عثمانیہ والی شبیہ کی طالبانی حکومت کا خاتمہ تو تیسرا ھدف بڑھتی ہوئی اسلامی طاقت پاکستان کا شیرازہ بکھیرنا تو، چوتھا ھدف، عرب طاقت صدام حسین کا تختہ الٹ،عراقی پیٹرول ذخائر پر قبضہ، اس صورت 9/11 القاعدہ کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کرنے کے بجائے، میزائل وار،آلات حرب جدید  ٹیکنولوجی سے لیس، بھرپور عالمی طاقت کے زعم میں، عالمی دہشت گردی کے خاتمہ کی موافقت یا مخالفت دوگروہی، 57 ملکی حربی طاقت کے نشہ میں افغانستان کی تباہی میں پاکستانی ساتھ بزور قوت لیتے ہوئے، افغانستان پر یلغار کیا گیا تھا۔ اس وقت یہ وہی پاکستانی عسکری قیادت تھی جس نے، جنونی صیہونی سانڈ امریکہ و اسکے 57 بڑے ملکوں کی افواج کی زد میں آنے کے بجائے، صاحب امریکہ کا حلیف بنتے ہوئے، امریکی ڈالر من وسلوی سےپاکستانی معیشت مضبوط کرتے ہوئے، بقول جورج بش مستقبل کی کروسیڈ وار  کے لئے،اپنے آپ کو مستحکم کرنے کا حکومت پاکستان کا اس وقت لیا فیصلہ، یقینا نہایت دور اندئشانہ فیصلہ تھا۔  حسب قرار اول، پاکستان کے لئے امریکی امداد  روکنے کا جواز پیش کرتے ہوئے حالیہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے اس  اعلان نے، کہ "پاکستان ایک طرف ہم سے امداد بھی لیتارہا اور دوسری طرف ہمارے حریف افغانیوں کی عسکری و سراغ رسانی مدد کرتے ہوئے،ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپتا رہا” اس وقت لی گئی پاکستان کی عسکری حکمت عملی کی داد دینی پڑتی ہے۔پاکستانی عسکری قیادت کا اس وقت لیا وہ عاقلانہ فیصلہ ہی تھا کہ زمانے نے دیکھا بظاہر آلات حرب جدید سے ماورا افغانی مجاہدین نے 57 رکنی عالمی حربی قوتوں کا شیرازہ بکھیرتے ہوئے، صاحب امریکہ کو عالم کی سب سے بڑی شکست سے دوچار کیا بلکہ اس حزیمت خیز افغان پسپائی بعد، جس کا اعلان کچھ ماہ قبل قطر میں افغان امریکہ امن معاہدے کی شکل عالم کے سامنے آتے ہوئے افغانستان میں پھنسی امریکی افواج کو بہ سلامت افغانستان سے نکالنے، بادل نا خواستہ پاکستان کی مدد لینے کے امریکی فیصلہ نے، ایک طرف علاقے میں پاکستانی عسکری اہمیت کو عالمی سطح پر  واشگاف کیا ہے تو دوسری طرف عالم پر حکمرانی کے تاج کو صاحب امریکہ سے، مستقبل قریب میں چھن لئےجانے کے شواھد عالم کے سامنے لاکھڑا کئے ہیں۔
اب موجودہ صورتحال ایک طرف سال کے آخر میں امریکی انتخاب جیتنے کی ہوڑ میں، ہمارے 56″ سینے والے مہا شکتی سالی عقل سے عاری، سنگھی رہنما کے دوست ڈونالڈ ٹرمپ، انہی کے منافرتی ماحول انتخابی جیت کے لئے، گوری پولیس کے ہاتھوں کالےجارج فلویڈ کی پرتشدد موت نے،امریکی نسلی امتیازئیت کو ہوا دیتے، پورے امریکہ میں  نسلی منافرت پھیلاتے ہوئے، فیڈرل امریکہ کے بکھرنے کے واضح اشارے دئیے ہیں۔ تو دوسری طرف عالمی سربراہی کی دوڑ کا دعویدار ملک چائینا اپنی عالم بھر میں معشیتی دھاک کے ساتھ اپنی عالمی عسکری طاقت درشانے، اور  مستقبل میں امریکی ایماء پر بھارت کے، پاکستان چائینا ایکونومیکل کوریڈور گزرنے والے علاقے پاکستان اوکیوپائڈ کشمیر، گلگت بلتستان پر حملہ کر ایکونومیکل راہ مسدوخ کرنے کی ھند کی ممکنہ کوششوں سے آمان ہی کی خاطر، اپنے پاکستان کے ساتھ اشتراک سے زیرتعمیر ایکونومیکل کوریڈور کی حفاظت کے لئے، بھارتیہ علاقے وادی گلوان کے ساتھ اروناچل پردیس لداخ پر اپنا دعوی پیش کرتے، اپنی افواج کے ساتھ بھارت کی سرحدوں کے اندر آکر بیٹھ چکا ہے
اس وقت جہاں بھارت دومحاذی، ایک ساتھ پاکستان اور چائینا سے جنگ لڑنے کے لئے جہاں تیار نہیں ہے  وہیں مستقبل میں یہود کے، مدینہ سے 90 کلومیٹر قریب واقع خیبر قلع تک گریٹر اسرائیل پھیلانے  سے،اسے مانع رکھنے لائق سب سے بڑا روڑا ایٹمی ملک پاکستان، کسی بھی صورت براہ راست کسی بڑی جنگ سے راہ فرار چاہتے ہوئے، اپنی حربی صلاحیت اس وقت تک بچائے رکھنا چاہتا ہے تو تیسری طرف عالمی سربراھی کے دوڑ میں آگے چائینا، جہاں عالم بھر میں، اپنی معشیتی بالا دستی ثابت کی ہوئی ہے، وہیں پر اپنی عسکری بالا دستی، صرف ثابت کرتے ہوئے، پاکستان چائینا سی پیک روڈ جو پاکستان پی اوکے اور گلگت بلتستان سے ہوکر گزرتا ہے، اور جس پر بھارت کا پہلے ہی سے ملکیتی دعوہ رہا ہے اور بھارت، چائینا کی معیشت کو کمزور کرنے کے لئے امریکی اشارے پر،  مستقبل میں پاکستان پر  حملہ کرتے ہوئے، اپنے اکھنڈ بھارت کی تکمیل کے بہانے، سی پیک منصوبے کو نقصان عظیم پہنچا سکتا تھا، اسی لئے چین نے وادی گلوان  پنگوک لیک، دولت بیگ اولڈی وغیرہ بھارتیہ سر زمین پر پیش قدمی کرتے ہوئے، بھارت کے ساتھ پس پشت کامیاب عسکری سودے بازی کرتے ہوئے،  چائینا پاکستان اپنے سی پیک روڈ کو محفوظ کرتے، بھارت سے جنگ ٹالتے ہوئےاپنی عسکری قوت، ممکنہ امریکی جنگ کے لئے محفوظ و مخفی رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس لئے  لگتا ہے تینوں ایٹمی ملک چائینا بھارت پاکستان کے درمیان، ایک دوسرے کےخلاف، ممکنہ شروع ہونےوالی خطرناک جنگ کے بادل مطلقا چھٹ چکے ہیں یہ اور بات ہے بھارت پرحکومت کررہے جھوٹوں کےسردار 56″ سینے والے مہاشکتی سالی سنگھی مودی جی، چائینا کے ہاتھوں اپنی زمین کھوتے، بری طرح ہزیمت  کے بعد بھی، پاکستان سرحد پر جھڑپ باقی رکھتے ہوئے، اپنی 100 کروڑ ہندو عوام کو بے وقوف بنائے رکھنے میں کامیاب رہیں۔
یہ اب ہم137 کروڑ بھارت واسیوں پر منحصر ہے کہ بھارت معشیتی طورنوٹ بندی، نفاذ جی ایس ٹی اور اب کورونا کنٹرول میں مکمل ناکام پالیسیز سے بدحال بھارت اور اوپر سے اپنی ناکام  خارجہ پالیسیز سے اپنے اطراف کے تمام چھوٹے ممالک سری لنکا، مالدیپ، نیپال، بھوٹان،  بنگلہ دیش،چائینا اورپاکستان تمام پڑوسیوں سے اپنے تعلقات خراب کئے،چائینا سےہزیمت خیز شکست اپنی کئی سو کلومیٹر زمین کھونے کے باوجود، جھوٹوں کے سردار سنگھی مودی اور ان کے زر خرید بھونپو میڈیا کے کھلے جھوٹ افترا پروازی کا شکار بنے رہتے مودی مودی کے گن گانے والوں کو خاموشی سے سنتے سہتے برداشت کرتے رہیں گے یا پلوامہ 40 بی ایس ایف سپاہیوں کی خودساختہ بلی دیتے، پاکستان پر فراڈ قسم کے سرجیکل اسٹرائیک میں،اپنے دو بمبارجہاز پاکستان کے ہاتھوں کھونے اور ابھینندن کی پاکستان اسیری کے باوجود،اپنے بکاؤبھونپو میڈیا 24/7 جھوٹی نشریات سے، مودی ہے تو "سب کچھ (نشٹ) ہونا ممکن ہے” زبردستی کی دیش بھگتی کی ہوا چلاتے ہوئے اور ای وی ایم چھیڑ چھاڑ سے 2019 کا انتخاب جیت کر آئے ان سنگھی حکمرانوں کے خلاف، جن اندولن شروع کر، ان سنگھیوں کو ناگپور ان کے سنگھی قلعہ تک واپس بھیجیں گے؟ یا 2024  تک پڑوسی پاکستان کی ریشہ دوانیوں سے، بھارت کا بٹوارہ  ہونے تک، ان سنگھی حکمرانوں کو برداشت کیا جائیگا؟ وما علینا الا البلاغ

Leave A Reply

Your email address will not be published.