اسلام میں ہرجائز مسئلہ کا حل ہے،گر مسلمان چاہیں تو

0 86

 

 

نقاش نائطی
+966504960485

*”اصلاح معاشرہ کے لئے تجاویز دینا ہمارا کام، اسلامی نظام کے مطابق اسے پاتے ہوئے، آپسی صلاح مشورے سے یا اجماع علماءو زعماء کے فیصلے سے، معاشرے میں عمل پذیر کروانا علماء کرام کی ذمہ داری”*

*اترپردیش کے ایک مسلم پولیس والے محسن کے لئے ، پہلے سے طہ شدہ شادی کی تاریخ11،اپریل 2020 ایک الجھن کا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ حکومتی پولیس محکمہ کی نوکری اور ایک سچے پکے مسلمان ہونے کے ناطے، کورونا قہر کہرام تناظر میں حکومتی لاک ڈاؤن توڑتے ہوئے، رشتہ داروں،عزیزوں کو جمع کرتے ہوئے، شادی کرنے کی وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اور دل کے عارضہ میں مبتلا والدہ محترمہ کی خواہش مطابق، وقت پر شادی کرنے کی پوزیشن میں بھی وہ نہ تھے۔کافی سوچ و بچار اور ،اس معاملہ میں اسلام کیا کہتا ہے یہ جاننے کے بعد، ایسے نامناسب حالات میں بھی،اسلامی نقطہ نظر سے، سجھائےطریقہ ہی سے ،انہوں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی تقریب،ان کی اپنی شادی خانہ آبادی، والدہ محترمہ کی خواہش کا احترام و پاس ولحاظ رکھتے ہوئے، اس کورونا قہر تناظر میں بھی، اسلامی آداب و ضوابط کا خیال رکھتے ہوئے، اپنی شادی رچانے کا فیصلہ کیا اور یوں دو خاندانوں کے دو اجنبی، شادی کے پوتر بندھن میں بندھ گئے۔دولہا کے گھر قاضی یا مولوی کے ہمراہ دو شواہد،نیز دلہن کے گھر،سنت رسول ﷺ کے عین مطابق دلہن کے ایجاب و قبول کرتے دیکھتے دو گواہ،اور موجودہ عصری تمدنی ترقی پذیر لائیو ویڈیو کانفرنس، اہتمام کے ذریعہ ہر مرحلہ کو کھلے آنکھوں دیکھتے مشاہدہ کرتے ہوئے، یوں اس کورونا قہر کہرام میں بھی، لاک ڈاؤن حکومتی احکامات کا پاس و لحاظ رکھتے، دو خاندانوں کے بیچ، دو دلوں کے درمیان،اسلامی آداب و پاس و لحاظ رکھتے، شادی تکمیل کے مراحل تک پہنچ گئی۔اب جب شب زفاف منعقد ہوگی، رخصتی ہوگی، تب کچھ رشتہ داروں کو ولیمہ کھلانے کی سنت پر عمل درآمد بھی کیا جاسکے گا*

*جولائی کے مہینے کی ابتداء تک،اب سوائے چند ہاٹ پاٹ سقم کرونا متاثر علاقوں کے، پورے بھارت سے لاک ڈاؤن ہٹائے جانے کے پس منظر میں، ہم بھارت واسیوں کے، شادی بیاہ جیسی مختلف تقاریب میں، ایک دوسرے سے دوری برقرار رکھنے (سوشل ڈسٹینسنگ) میں ناکامی کی وجہ سے، جس تیزی سے معاشرے میں یہ متعدی کورونا سقم پھیل رہا ہے اور شروع میں مشہور یہ کورونا وبا بڑے بوڑھوں پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے اس سے پرے، ان ایام میں کورونا متاثر مرنے والوں میں جوان سال مریض کے ساتھ ڈاکٹر و نرسز کے ساتھ ہی ساتھ نؤبیاہتا دولہے تک کورونا سقم متاثر انتقال کرتے پائے گئے ہیں، بلکہ ان دنوں بہار شادی کے دوسرے ہی دن دلہا کے کورونا مرض شکار وفات پانےکے فورا بعد، شادی میں شریک تمام لوگوں کی جانچ کرانے پر، جو حقیقت سامنے آئی ہے وہ معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس شادی کے گھرانے میں،دلہن اور اس کے رشتہ دار کورونا منفی جہاں پائے گئے ہیں، وہیں باراتیوں اور شادی حسن انتظام سے منسلک لوگوں میں سے سو سے زائد کورونا مثبت پائے گئے ہیں۔اس پر طرہ یہ کہ شادی کے گھر کھانا پکوانے آئے مقامی کھانا انتظام کرنے والی کمپنی کے کچھ ملازمین کے ساتھ ہی ساتھ، ان کا چیف باورچی یا حلوائی بھی کورونا مثبت پایا گیا ہے۔اس کورونا متعدی سقم کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اس میں کورونا مریضوں کو بھی عموما اس کے، اس مہلک مرض کا شکار ہونے کا شروع میں پتہ نہیں ہوتا اور وہ کورونا متاثر خود کو صحت مند مانتے ہوئے، کورونا سقم کیرئر کے طور، دوسرے صحت مند لوگوں میں اس مہلک مرض کو تیزی سے پہلا رہے ہوتے ہیں اور جب تک پتہ چلتا ہے تب تک، ایک سے دو ، دو سے چار اور چار سے آٹھ ،آٹھ سے سولہ، اس طرح بہت ہی کم عرصے میں، سارے معاشرے کو سقم زد کررہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں شادی جیسی مبارک تقریبات جہاں ضروری ہیں، وہیں پر معاشرے کو کورونا متعدی مرض سے آمان میں رکھنے کی تدابیر اختیار کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ مانا کہ عمومی طور پر، صرف کورونا مرض سے متاثرین اپنے میں موجود قدرت کے عطا کئےخودحفاظتی نظام، جسم کے اندر والے ایمیون سسٹم کی وجہ سے،کورونا جیسے ملک سقم سے بچ جاتے ہیں۔ صرف ایسے انسان جو پہلے سے، سقم دل، گردہ، جگر،تللی،پھیپڑے میں مبتلا ہوں ان کے لئے کورونا سقم کا عارضہ مہلک تر ہوتے ہوئے انہیں موت سے دوچار کرسکتا ہے۔ ہم اپنے اطراف اگر صحیح معنوں جائزہ لیں تو ایک تہائی معاشرے کے عمر رسیدہ معمر افراد کو چھوڑئیے، صحت مند جوانوں کی اکثریت بھی فی زمانہ، اپنے غیر اسلامی بری عادات، سکریٹ و بیڑی نوشی ہو کہ تمباکو نوشی یا شراب نوشی کے سبب یا فی زمانہ عالمی سطح پر انگریزی ادویات مافیہ کے سقم ضبط کرنے کے بہانے اور اقسام کے سقم پھیلاتے انگریزی ادویات کے چل چلاؤسے،صحت مند دکھائی دینے والے جوان سال حضرت انسان بھی، اندر سے مکمل کھوکھلے، کوئی سقم جگر، تللی، دل کا شکار تو کوئی گردے ناکارہ ہونے کی وجہ سے ہاسپٹل کے چکر کاٹتے یا خون صفائی ڈائلاسز کے لئے پریشان پائے جاتے ہیں، ایسے میں اپنوں کی شادی بیاہ میں جاتے، سقم کورونا کی زد میں آنا، ایسے پس منظر میں بظاہر صحت مند، مریضوں کے لئے،ایسی تقاریب سے کورونا سقم متاثر ہونا، انتہائی مہلک اور جان لیوا ہوسکتا ہے۔*

*نیز محکمہ شرعیہ یا دارلقضاء سے منسلک بزرگ علماء کرام جو معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں، انکی زندگی خطرے میں ڈالنے سے پرہیز بھی ضروری ہے۔ نکاح کی تقاریب التوا میں رکھنے صلاح دینا آسان ہے لیکن، جوان بچیاں جن گھروں میں بن بیاہی بیٹھی ہوئی ہیں، انہیں ہی پتہ ہے رشتوں کے طہ پانے کے باوجود کسی نہ کسی کے کان کاٹتے ہوئے، رشتوں میں دراڑ ڈالتے ہوئے، اپنوں کے رشتہ وہاں کروانے والی چڑیلوں کا معاشرے میں فقدان تھوڑی نا ہے۔*

*دراصل شادی کا بندھن دو دلوں کا ایک پوتر بندھن ہوتا ہے،جسے اللہ کے رسول صلہ اللہ وعلیہ وسلم کے بتائے ہوئے سنت طریقہ سے صرف دو گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول سے انجام دیا جا سکتا ہے۔چونکہ دو اجنبی انسانوں، خاندانوں کے درمیان، رشتہ ازدواج ایک صالح معاشرہ کی بنیاد رکھنے کے لئے وقوع پذیر ہوا کرتا ہے، اس لئے عام حالات میں دو گھر والوں،دوخاندان والوں یا اسلامی معاشرے کے دو مختلف طبقوں کے درمیان،ایک گہرا پائیدار رشتہ قائم کرنے کے لئے ہوتا ہے، اس لئے دونوں طرف کے، زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت، اس کار خیر کے لئے، باعث برکت تصور کی جاتی ہے، جسے موجودہ مسلم معاشرے کے ہم خود ساختہ مسلمانوں نے، لامذہب و مشرک اقوام والے، نت نئی و غیر ضروری رسموں سے جوڑ کر، شادی جیسے پاک و پوتر رشتہ ازدواج کو، معاشرے کے غرباء و مساکین کے لئے، خوشی و انبساط کے لمحوں سے زیادہ، انکے لئے امتحان و آزمائش کے گھڑی کے طور لاکھڑا کیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم نے، اپنی عملی زندگانی سے اسلامی شریعت کو جنتا آسان ثابت کر بتاتے ہوئے، دو مختلف خاندانوں کے درمیان شادی کو جتنا آسان و سہل بنایا تھا، آج کے ہم مسلمانوں نے، جہیز، منھ دکھائی، جوڑے کی رسوم، جیسے انیک شرائط کے ساتھ، شان و شوکت درشاتے، غیر ضروری باراتیوں کو، پہلے سے طہ شدہ انواع اقسام، لوازمات والے دعوت طعام کے ذریعہ فی زمانہ،غریب و متوسط مسلم معاشرہ میں، شادی کے بندھن کو، نہ صرف ایک مشکل تر مسئلہ، بلکہ معاشرے کے نوجوانوں میں غیر اسلامی ملاپ و زنا جیسے کریہہ عمل کو آسان تر بنایا ہوا ہے۔ہم اپنے آپ کو سچے پکے موحد مسلمان فخریہ کہتے معاشرے میں تو ہمیں،صحیح اسلامی اقدار کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے،سنت رسول ﷺ مطابق اپنے زندگی کے اعمال اپناتے ہوئے، اسلام ایک آسان، قابل عمل دین ثابت کرتے ہوئے، اغیار کے لئے، قابل تقلید،اپنائے جانے والے دین کے طور پیش کرنا ہی، ہم مسلمانوں کا، دعوت دین، اغیار تک پہنچانے میں ممد و مدد گار ثابت ہوسکتا ہے*

*پڑوسی اسلامی ملک پاکستان سمیت اکثر عرب ملکوں میں شادی بیاہ تقاریب سے،ایک دو روز قبل، دارالقضاء یا محکمہ شعریہ میں، پہلے سے وقت متعین کرتے ہوئے، زوجئین دونوں گھرانوں کے فریق مع دولہا و دلہن یا دلہن کی طرف سے دو گواہان کی موجودگی میں نکاح کی سنت تقریب،عملاتحریرا پوری کی جاتی ہیں اور وقت تقریب شادی، جمیع مہمانان کی موجوگی میں خطبہ مسنون نکاح پڑھتے ہوئے رسم نکاح ادا کی جاتی ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں عرب ممالک کے طریقہ نکاح مسنونہ کے جیسے ہی، کسی کے گھر شادی سے ایک دو دن پہلے دونوں فریق کے گواہان کے سامنے ایجاب و قبول و دفتری نکاح کاروائی منعقد ہزیری کا رواج شروع نہیں کیا جا سکتاہے؟ عام شادی کے سیزن والے دنوں میں بھی،ایک ہی شب کئی کئی شادی گھرانوں میں قاضی صاحبان کی بھاگم بھاگ قابل دید ہوتی ہے ویسے بھی بھٹکل کےمعاشرتی نکاح طریقہ کار، دلہن کے والد یا ان کے موکل اپنے اعزہ و اقرباء کے ساتھ دولہے کے گھر پہنچنے کے بعد ہی، قاضی صاحبان نکاح کے رسوم مسنونہ ادا کرتے ہیں۔ کثرت زواج والے دنوں میں سرپرستان دلہن کے قافلہ اور وفد قاضی کے پہنچنے کا تال میل، بڑے مشکل مراحل سے گزرتا ہے۔ ایسے میں، تقریب شادی سے قبل نکاح کی دفتری کاروائی انجام پاچکی ہوں تو، سند یافتہ علماء کرام کی بہتات والے علاقے میں، دارلقضاء سےخطبہ مسنون پڑھانے، علماء کرام کے مختلف وفود مختلف مقام شادی خانہ آبادی بھیجے جاسکتے ہیں۔اس پر علماء حضرات تدبر و تفکر کریں تو شادی کے دنوں میں مختلف شادی تقاریب کو بحسن خوبی سنبھالا جا سکتا ہے۔ویسے بھی اس متعدی سقم کورونا پس منظر میں،معاشرے کو اس متعدی مہلک مرض سے نجات ہی کے واسطے، نکاح کی تقریب مسنونہ آپسی جسمانی فاصلے کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے ، دار لقضاء میں طہ پائی جائے،اور دعوت ولیمہ مسنونہ یا دلہن کے گھروالی دعوت طعام کو، محدود کرتے ہوئے، ولیمہ کا کھانا رشتہ داروں میں تحفتا تقسیم کرتے، سبھی رشتہ داروں کو آپسی دوری برقرار رکھتے، شریک ولیمہ ہونے کا شرف بھی دیاجاسکتا ہے۔واللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ*

Leave A Reply

Your email address will not be published.