مساجد صرف پنجگانہ نمازہی کے لئےکیامختص رکھی جائیں؟

0 96

 

نقاش نائطی
+966594960485

*ایک وقت تھا مسلمانان مدینہ کے لئے مسجد نبوی ہی سب کچھ تھی۔ غزوات و جنگ کے لئے جانا ہوتا تو اعلان مسجد نبوی میں ہوتا تھا، غزوات و جنگ کے لئے اخراجات صدقات کی صورت جمع کرنے ہوتے تو، مسجد نبوی میں صدقات لئے،صحابہ کرام پہنچا کرتے تھے۔ بعد جنگ مال غنیمت لایا جاتا تو مسجد نبوی کے صحن ہی میں ڈھیر کیا جاتا تھا۔ دشمنان اسلام کے قیدی پکڑ کر لائے جاتے تو ابتداء میں مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ کر رکھا جاتا، مسلمانوں کو دین سکھانا ہوتا، قرآن سکھانا ہوتا، مسئلے مسائل سکھانے ہوتے ، یا آپسی کدورتین جھگڑے نپٹانے ہوتے، سب کام کے لئے مسجد نبوی کے دروازے ہمہ وقت کھلے رکھے جاتے تھے۔باہر سے وفود آتے تو مسجد نبوی پہلے تشریف لاتے۔الغرض اس وقت مسجد نبوی مسلمانان مدینہ کے لئے سب کچھ تھی۔ جائے نماز تھی، مدارس کے طور بھی مستعمل تھی عدلیہ یا دارلقضاء کے طور بھی یا خارجہ و داخلی امور سلطنت اسلامی کا مرکزبھی تھی مسجد نبوی۔ لیکن آج کی مساجد اپنے وقت کی نماز کے بعد غیر آباد مقفل کی جاتی ہیں۔ مساجد گویا پانچ وقت کی نمازوں سے ماورا کسی بھی دنیوی امور کے لئے ممنوع قرار دی گئی ہوں۔ ایسے ہی جیسے ہم مسلمانوں نے انتہائی احترام میں ہمارے اپنے ہدایت کے لئے اتاری آسمانی کتاب قرآن مجید کو جزدانوں میں لپیٹ کر، نہایت احترام سے اوپر کسی محفوظ جگہ پر رکھ چھوڑا ہو، ویسے ہماری مساجد تبرکا صرف پانچ وقتی نماز ہی کے لئے بنائی گئی ہوں۔ اسکا ہمارے دین اسلام یا شعائر اسلام سے کوئی تعلق خاص باقی ہی نہ رہا ہو*
*کیا ہماری مساجد محلہ کے کمیونٹی ھال کی طرح استعمال نہیں ہوسکتیں؟ جہاں پر محلے کے بڑے بوڑھے محلہ والوں کی صلاح و فلاح کے لئے مختلف پروگرامات منعقد کرتے رہا کریں۔ محلہ والوں کے آپسی رنجسوں جھگڑوں کو حل کرنے کی سبیلیں ہوں، محلہ کی بچیوں کے جوڑوں کا بندوبست ہو،ضرورت مندوں کی حاجت روائی کا اہتمام ہو، الغرض مساجد محلہ والوں کے لئے دارلقضاء بھی، حاجت روائی کے لئے متحرک تنظیم یا این جی او کی حیثیت مساجد محلے والوں کے صدا کھلی رہے۔کچھ تو تبدیلی لانی ہے معاشرے میں، وہی پرانی روایات مسجد نبوی کو جدت پسند انداز معاشرے میں واپس لانا ہے ۔محلہ کے عصری کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو مسجد سے دائمی طور جوڑے رکھنے کی تدابیر کرنی ہے۔ سقم کورونا نے معاشرے کو پرانے اقدار پر واپس لانے میں بڑا رول ادا کیا ہے اسے دائمی طور اپنانا ہے* ۔

*کچھ شہروں گاؤں کی مساجد انتظامیہ نے برادران وطن کو اپنی مساجد میں خوش آمدید کہنے کی روایات جو شروع کیں تھیں اسے جاری رکھنا ہے، دعوت دین الی الکفار کے فریضہ کو کسی نہ کسی شکل اپنی مساجد میں زندہ رکھنا ہے۔آفات آسمانی کے دوران مساجد کو حاجت روائی کے لئے صدا کھلا رکھنا ہے۔ مساجد کمیٹیوں میں کم و بیش ایک تہائی سے نصف کے لگ بھگ نوجوان طبقہ کو ساتھ لیکر چلتے ہوئے، عمر کے طبقات فرق مٹاتے، آپسی اختلافات کی خلیج کو پاٹنے کی ضرورت وقت کی اہم ضرورت ہےواللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ*

*مہاراشٹرا بھیونڈی کی جامع مسجد کویڈ19 ہاسپٹل میں تبدیل۔مریضوں کو آکسیجن وینٹیلٹر فری میں دستیاب*
26 جون 2020

*تین ماہ سے دیش بھر کے لاک ڈاؤں میں بند پڑی مساجد کو، رفاح عامہ کے لئے استعمال کرنے کے مسلمانوں کے نیک جذبہ نے، بھیونڈی جماعت اسلامی کے ذمہ داروں نے بھیونڈی مکہ مسجد انتظامیہ سے مشورہ کےبعد،مہاراشٹرا میں بڑھتے کورونا مہاماری کے چلتے، سرکاری ہاسپٹل میں پائے جانے والے بیڈ کی کمی اور پرائیویٹ ہاسپٹل میں مچی لوٹ کھسوٹ کے پیش نظر، صاحب حیثیت لوگوں سے صدقات میں 10؛آکسیجن سلنڈر مہیا کرواتے ہوئے، مسجد ہی کو کویڈ 19 ہاسپٹل وارڈ میں تبدیل کرتے ہوئے (قررون اولی کی مساجد کی مثال) قائم کردی یے۔*

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.